ملیر: زرعی زمینیں اور ثقافتی ورثہ خطرے میں
نام نہاد ”ترقی“ اپنا خراج بہت جلد درختوں اور جنگلی حیات کی سینکڑوں اقسام کو نگل کر وصول کرے گی۔ ان میں سے بعض نایاب اور مقامی اقسام ایسی ہیں جو صرف ملیر کے علاقے میں پائی جاتی ہیں اور جنہیں بالغ ہونے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ مزید برآں، مون سون کے موسم…
کھیرتھر ماحولیاتی انصاف چاہتا ہے!
کھیرتھر نیشنل پارک (KNP) سندھ کے اضلاع کراچی، دادو اور جامشورو کے بعض حصوں پر محیط ایک محفوظ قدرتی خطہ ہے۔ اس کے جنگلی حیات اور قدرتی وسائل کو ایک جامع قانونی فریم ورک کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ تاہم، ان تحفظات کے باوجود غیر قانونی کان کنی، تعمیراتی سرگرمیوں…
کھیرتھر نیشنل پارک کے تحفظ سے متعلق درخواست پر سندھ ہائی کورٹ میں سماعت
سندھ ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز صوبائی متعلقہ حکام کو کھیرتھر نیشنل پارک کے تحفظ سے متعلق دائر درخواست پر رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ جسٹس عدنان اقبال چوہدری کی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی آئینی بینچ نے وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے سیکریٹری کو…
بلوچستان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے آثار قدیمہ بھی متاثر
بلوچستان میں مون سون کی حالیہ بارشوں اور تباہ کن سیلاب سے انسانی زندگی کے علاوہ صوبے میں موجود ہزاروں سال پرانے آثار بھی متاثر ہوئے ہیں رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے مختلف علاقوں میں کئی آثار قدیمہ اور تاریخی عمارتیں موجود ہیں بلوچستان کے…
ہزاروں برس قبل تدفین کی رسومات میں افیون کا استعمال
اسرائیلی ماہرین آثار قدیمہ نے ملنے والے شواہد کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ ہزاروں برس قبل انسانی لاشوں کی تدفین کے وقت آخری رسومات کے دوران افیون بھی استعمال کی جاتی تھی۔ ایسا افیون کی ساڑھے تین ہزار برس پرانی باقیات ملنے کے باعث ممکن ہوا اس بارے میں اسرائیل…
سیلاب سے موہن جو دڑو کی پانچ ہزار سال پرانی دیواریں گر گئیں: حکام
سیلاب زدہ پاکستان میں مون سون کی ریکارڈ بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں سینکڑوں لوگوں کی جان جا چکی ہے اب بارش نے ملک کے مشہور اور پانچ ہزار سال پرانے آثار قدیمہ موہن جو دڑو کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ موہن جو دڑو کی تہذیب قدیم زمانے میں…
بارشیں اور سیلاب: موہن جو دڑو میں تبدیل ہوتا سندھ اور آثار قدیمہ کو لاحق خطرات
حالیہ غیر معمولی اور موسلادھار بارشوں نے جہاں سندھ کا بڑا حصہ ڈبو دیا، وہیں آثار قدیمہ کے کھنڈرات کو بھی نہیں بخشا۔ کارکن ٹیلے کی برقرار رہ جانے والی دیوار کو مضبوط بنانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں کیونکہ پانی چینلز کو کاٹتے ہوئے سائٹ کے غیر کھدائی والے…
ڈیرہ اسماعیل خان: ’کافر کوٹ‘ کیا ہے؟
دریائے سندھ کے ساتھ چشمہ بیراج کے قریب واقع کھنڈر نما عمارت، جو بظاہر کسی قدیمی قلعے کی باقیات لگتی ہے مقامی لوگ اس جگہ کو ‘کافرکوٹ’ کہتے ہیں لیکن انہیں اس کے حوالے سے زیادہ معلومات حاصل نہیں ہیں۔البتہ جو افراد وادی سندھ کی تہذیب کو دریافت…