Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

سزائے موت کا قیدی 18 سال بعد رہائی کی خوشخبری سن کر ہلاک

By Akhtar Rasool
فروری 22, 2022 2 Min Read
0

تہران – سزائے موت ملنے کے اٹھارہ سال مسلسل امید اور نا امیدی کے بیچ لٹکنے کے بعد ایک انسان کو معافی ملتی ہے، لیکن معافی کے ایک گھنٹے بعد ہی وہ مر جاتا ہے، یہ سن کر کہ متاثرہ کے والدین نے اسے معاف کر دیا ہے

یہ واقعہ ہے ایران کا، جسے مقامی میڈیا نے اتوار کو رپورٹ کیا، جہاں اٹھارہ سال سے پھانسی گھاٹ میں رحم کی اپیل منظور ہونے کا منتظر قیدی بندر عباس کی ایک عدالت سے ملنے والی رہائی کی خوشخبری سُن کر دل کے دورے کے باعث ہلاک ہوگیا

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی جیل میں زندگی اور موت کی کشمکش کے دوران اٹھارہ سال سے پھانسی گھاٹ میں اسیر قیدی رہائی ملنے کی خوشی برداشت نہ کر سکا اور دل کے دورے کے باعث جان کی بازی ہار گیا

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اٹھاون سالہ قیدی نے عدالت میں رحم کی اپیل دائر کر رکھی تھی

گزشتہ اٹھارہ سالوں میں، وہ سزائے موت سے بچنے کے لیے متاثرہ خاندان سے رحم حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا تھا

اپیل بار بار مسترد کرنے کے بعد مقتول کے لواحقین نے بالآخر اسے منظور کر لیا، جس پر عدالت نے قیدی کو رہا کرنے کا حکم دے دیا

واضح رہے کہ ایران میں قتل کے مرتکب افراد کو سزائے موت دی جاتی ہے۔ وہ صرف اسی صورت میں سزائے موت سے بچ سکتے ہیں، جب انہیں متاثرہ خاندان کی طرف سے معاف کر دیا جائے

مسلسل اٹھارہ سال سے غیر یقینی صورت حال کے شکار قیدی کو جب رہائی کی خوشخبری ملی، تو اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا اور وہ فرطِ جذبات سے زار و قطار رونے لگا

اسی دوران قیدی کے سینے میں شدید تکلیف ہوئی اور اسے اسپتال لے جایا گیا، جہاں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ اب وہ قیدِ حیات سے آزاد ہو چکا ہے، جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ”وہ عدالت کی جانب سے معافی پر بہت خوش تھا“

Tags:

Iran
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

’ہینک دی ٹینک‘، امریکی حکام کو پانچ سو پاؤنڈ وزنی ریچھ کی تلاش کیوں ہے؟

Next

پاکستانی یونیورسٹیوں کے بیرون ملک کیمپس کھولنے کے لیے کوششیں

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme