Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

ماں باپ کے لیے گھر میں جگہ نہیں، پشاور ہائی کورٹ میں ہندی فلم ’باغبان‘ کی طرح کا مقدمہ

By Akhtar Rasool
مارچ 18, 2022 4 Min Read
0

پشاور – یہ فلم باغبان نہیں بلکہ ایک حقیقی کہانی ہے اور انتہائی المناک ہے. پشاور ہائی کورٹ میں اپنی اور اپنے شوہر کی کفالت کے لیے درخواست دینے والی ایک بوڑھی ماں، جو چھ بیٹے ہونے کے باوجود بڑھاپے میں بے آسرا ہیں اور ان کے بیٹے ماں باپ کو اپنے پاس رکھنے کے لیے رضامند نہیں

وہ دردناک اور بے بسی سے بھرپور لہجے میں کہتی ہیں ”ہم تو ان سے کچھ نہیں مانگتے، یہ اپنی بیویوں کو خوش رکھیں لیکن بوڑھے ماں باپ کو بھی بے آسرا نہ چھوڑیں“

گزشتہ روز پشاور ہائی کورٹ میں ایک ایسی درخواست پر سماعت ہوئی، جو بوڑھے والدین کی جانب سے عدالت میں دی گئی ہے۔ اس درخواست میں بوڑھے والدین نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے چھ بیٹے ہیں، جن میں سے پانچ بر سرِ روزگار ہیں اور ایک معذور۔ پانچ بیٹے اپنے اپنے گھروں میں رہتے ہیں معذور بیٹا والدین کے ساتھ ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹوں کی تربیت، تعلیم اور شادی بیاہ کے لیے اپنا سب کچھ بیچ دیا تھا اور اب وہ خود کرائے کے مکان میں رہتے ہیں جس کا کرایہ بھی وہ نہیں دے پا رہے

یہ مختصر سی روداد آج عدالت میں پیش کی گئی، جس پر جسٹس روح الامین نے کہا کہ اگر بچے اپنے والدین کو اپنے پاس نہیں رکھتے تو ہم انہیں اپنے پاس رکھ لیں گے

ان بزرگ والدین کی جانب سے افشاں بشیر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئیں۔ انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ آج عدالت میں جب سماعت شروع ہوئی تو ان والدین کا صرف ایک بیٹا عدالت میں پیش ہوا جبکہ باقی چار عدالت میں نہیں تھے

انہوں نے بتایا کہ سماعت کے دوران بیٹے نے کہا کہ وہ والدین کو ماہانہ کچھ روپے دیں گے، جس پر عدالت نے کہا کہ انہیں پیسوں کی نہیں محبت کی ضرورت ہے

افشاں بشیر ایڈووکیٹ کے مطابق بوڑھے والدین اس وقت کرائے کے مکان میں رہتے ہیں جس کا کرایہ کوئی چار ہزار روپے ہے اور وہ یہ کرایہ ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے

عدالت میں موجود مقامی صحافیوں نے بتایا کہ عدالت نے بیٹے سے پوچھا کہ بوڑھے والدین کو بے سہارا کیوں چھوڑا ہے۔ عدالت نے بزرگ خاتون نثار بی بی سے پوچھا کہ کیا آپ اپنے بچوں سے خوش ہیں؟ جس پر بیٹوں کی ماں نے کہا ”ماں کو تو بچے ماریں بھی تو ماں خفا نہیں ہوتی“ اور یہ بات کرتے ہوئے نثار بی بی کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے

نثار بی بی نے عدالت میں کہا ”ان کے بیٹے اپنی اپنی بیویوں کو خوش رکھیں مگر والدین کو بے آسرا نہ چھوڑیں۔ ہم نے اپنے بچوں کی بہت محنت اور محبت سے پرورش کی ہے“

انھوں نے کہا کہ ان کی شادیوں کے لیے اپنا ذاتی مکان بیچا اور باقی جو جمع پونجی تھی سب خرچ کر دی اور ’اب ہم دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں‘

اس موقع پر عدالت نے بیٹے سے کہا کہ والدین نے بچوں کے لیے اپنا مکان فروخت کر دیا اور بیٹوں نے والدین کے ساتھ کیا سلوک کیا، صرف ہزار ہزار روپے دینے سے والدین کے اخراجات پورے نہیں ہوتے

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ حکومت کی جانب سے والدین کی فلاح کے لیے جاری آرڈینینس بھی قانون کی شکل اختیار نہ کر سکا، ’کیا یہ آرڈینینس صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے تھا‘

گزشتہ سال ستمبر میں صدر پاکستان نے تحفظ والدین آرڈینینس 2021 جاری کیا تھا جس کے تحت بچے والدین کو اپنے گھروں سے زبردستی نہیں نکال سکتے چاہے وہ اپنے گھر میں رہ رہے ہوں یا کرائے کے مکان میں۔ اس آرڈیننس کے تحت والدین کو گھروں سے بے دخل کرنے والے بچوں کو ایک سال تک قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے

عدالت نے متعلقہ پولیس تھانے کے ایس ایچ او سے کہا کہ آئندہ سماعت پر تمام بیٹوں کو عدالت میں پیش کیا جائے

افشاں بشیر ایڈووکیٹ نے بتایا کہ بزرگ والدین کا ایک بیٹا باہر ملک میں ہوتا ہے جبکہ دو یہاں ملازمت کرتے ہیں، ایک سیکیورٹی میں ہے اور دوسرا منشی ہے

انھوں نے بتایا کہ خاتون ایک دو مرتبہ ان کے پاس آئی تھی اور اپنی مشکلات بیان کی تھیں جس پر انھوں نے انسانی ہمدردی کے تحت عدالت میں یہ درخواست دی ہے۔ اس درخواست میں انھوں نے متعلقہ سرکاری اداروں اور بزرگ والدین کے بیٹوں کو فریق بنایا ہے۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ بزرگ والدین کو احساس پروگرام اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر اس طرح کے پروگرام سے بھی کوئی معاونت نہیں دی جا رہی

کمرہ عدالت میں موجود سینیئر صحافی عامر جمیل نے بتایا کہ اس درخواست کی سماعت کے دوران بھی ماں اپنے بیٹے سے کہہ رہی تھی کہ تم پریشان نہ ہونا ہم مجبور ہیں۔ ان بچوں کے والد گوہر علی عمر رسیدہ شخص ہیں اور جب ان سے بات کرنا چاہی تو انھوں کہا کہ وہ بات نہیں کر سکتے

خاتون نثا بی بی نے کہا کہ ’انھیں اب بچوں کے پاس واپس نہ بھیجا جائے، بلکہ ان کے لیے علیحدہ کوئی انتظام اگر ہو سکتا ہے تو وہ کیا جائے کیونکہ ماضی میں بھی ایسے ہی جرگے ہوئے اور رضا مندی سے ہمیں بیٹوں کے حوالے کیا گیا اور بعد میں تمام بیٹے ذمہ داریاں ایک دوسرے پر ڈالنے لگے کے تم اب ماں باپ کو رکھو۔‘

عدالت میں پیش ہونے والے اس مقدمے کی کہانی بھی بالی ووڈ کی فلم ’باغبان‘ سے مشابہت رکھتی ہے، جس میں ماں باپ کا کردار امیتابھ بچن اور ہیما مالنی نے ادا کیا تھا۔ اس فلم میں بھی والدین کی ریٹائرمنٹ اور بیٹوں کے برسرِ روزگار ہونے کے بعد والدین کے لیے بیٹوں کے گھروں میں جگہ تنگ ہو جاتی ہے اور بیٹے آپس میں ایک دوسرے پر ذمہ داریاں ڈالتے ہیں کہ ماں باپ کو تم رکھو اور اب تم رکھو.

Tags:

Breaking NormsBreaking SocietyPakistanParents
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

فارما ایسوسی ایشن کی آئندہ ہفتے 600 فیکٹریاں بند کرنے کی دھمکی

Next

گنگوبائی کاٹھیاواڑی: کیا سیکس ورکرز پر بنی اس فلم کا حقیقت سے کوئی تعلق ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme