Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

بیٹے نے ماں کو جگر دے کر بچالیا، مگر خود جان کی بازی ہار گیا

By Akhtar Rasool
مارچ 21, 2022 4 Min Read
0

ڈیرہ بگٹی کے تیئیس سالہ توتا خان بگٹی نے موت کے دہانے پر کھڑی اپنی بیمار ماں کی جان بچانے کے لیے انہیں اپنا جگر عطیہ کیا۔ جگر کی پیوند کاری کامیاب ہوئی اور ماں کو نئی زندگی مل گئی، مگر جواں سال بیٹا خود جان کی بازی ہار گیا

ڈاکٹر کے مطابق بیس دن قبل کیا گیا آپریشن کامیاب رہا مگر توتا خان کو کورونا کی بیماری لاحق ہوئی جو موت کی وجہ بنی

توتا خان بگٹی کے بھائی عبدالغفور بگٹی نے بتایا کہ ’تین دن گزرنے کے باوجود ہم نے ماں کو بھائی کی موت کی خبر نہیں دی۔ وہ بار بار بھائی کا پوچھتی ہے، مگر ہم انہیں یہ کہہ کر جھوٹی تسلی دے رہے ہیں کہ توتا خان ٹھیک ہے، لیکن ڈاکٹر نے ملنے اور فون پر بات کرنے سے منع کیا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ہمیں جہاں بھائی کے کھونے کا صدمہ ہے وہاں اس بات کا فخر بھی ہے کہ توتا نے ماں کے لیے اپنی جان قربان کردی

عبدالغفورنے بتایا کہ توتا خان چار بہن بھائیوں میں دوسرے نمبرپر تھا اور وہ والدہ کے بہت قریب تھا۔ جب ڈاکٹروں نے کہا کہ والدہ کا جگر کام نہیں کررہا اور لیور ٹرانسپلانٹ (جگر کی پیوند کاری) کے سوا کوئی حل نہیں تو توتا خان سب سے پہلے تیار ہوا کہ وہ ماں کو اپنا جگر عطیہ کرے گا

طوطا کے ماموں عطاء اللہ نے بتایا کہ 28 فروری کو سندھ کے ضلع خیر پور میں گمبٹ انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز میں لیور ٹرانسپلانٹ کے لیے ماں اور بیٹے کا آپریشن ہوا۔ آپریشن کامیاب رہا اور ماں کی جان بچ گئی۔ توتا کی طبیعت بھی پہلے دو دن ٹھیک رہی اور اس نے والدہ سے وڈیو کال پر بات بھی کی لیکن دو دنوں کے بعد توتا خان کی طبیعت اچانک بگڑنا شروع ہوئی اور اسے تین دن تک وینٹی لیٹر پر رکھا گیا۔ اس کے بعد اس کی طبیعت پھر کچھ بہتر ہوئی مگر اسے شدید کھانسی تھی۔
ہوش میں آنے کے بعد اس نے کہا ”ماں کو نہیں بتانا کہ میری طبیعت خراب ہے وہ پریشان ہوجائے گی“

عطاء اللہ کے مطابق تین دن قبل توتا خان کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوئی اور وہ ہسپتال کے بستر پر ہی جان کی بازی ہار گیا

لیور ٹرانسپلانٹ کرنے والے گمبٹ ہسپتال کے ڈاکٹر عبدالوہاب ڈوگر نے بتایا کہ آپریشن سے قبل تمام ضروری ٹیسٹ کرائے گئے تھے۔ جگر کی کامیاب پیوند کاری کی گئی مگر آپریشن کے بعد ڈونر (توتا خان) کو کورونا انفیکشن ہوا جس سے اس کے پھیپھڑے شدید متاثر ہوئے اور وہ تقریباً بیس دنوں تک ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد دم توڑ گیا

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہسپتال میں اب تک چھ سو لیور ٹرانسپلانٹ ہوچکے ہیں، لیکن جگر عطیہ کرنے والے کسی بھی شخص کی یہ پہلی موت ہے

ڈاکٹر عبدالوہاب کے مطابق جگر عطیہ کرنے والے کی موت کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ بین الاقوامی تحقیق کے مطابق اس کا امکان صرف صفر عشاریہ پانچ فیصد ہے

عبدالغفور نے بتایا کہ ’ہمارے والد کا پندرہ سال پہلے انتقال ہوا۔ ہم چار بہن بھائی کم عمری میں ہی یتیم ہوئے۔ توتا کی عمر اس وقت صرف آٹھ یا نو سال تھی۔ غربت کے باعث ہم تعلیم بھی حاصل نہیں کرسکے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری بیوہ ماں نے کشیدہ کاری کرکے ہمیں پالا اور کچھ مدد ماموں اور باقی رشتہ دار کرلیتے تھے‘

عبدالغفور کے مطابق ’توتا خان بڑا ہوا تو مزدوری شروع کی مگر سوئی چھوٹا سا شہر ہے اور یہاں اکثر کام نہیں ملتا۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے سرکاری نوکری حاصل کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ میں ٹیکسی چلاتا ہوں جس سے بمشکل گھر کا گزارا ہوتا ہے“

انہوں نے بتایا ”ماں کئی سالوں سے بیمار رہتی تھی۔ تین سال قبل انہیں ہیپٹائٹس بی کی تشخیص ہوئی مگر ہم غربت کے باعث بروقت اور مناسب علاج نہیں کراسکے جس کی وجہ سے ان کی بیماری نے شدت اختیار کرلی“

عبدالغفور کے بقول ”ہم ادھار مانگ کر علاج کراتے رہے۔ ڈیرہ بگٹی میں علاج کی مناسب سہولیات نہیں اس لیے ہم والدہ کو سندھ لے جاتے تھے۔ کئی بار تو ہمارے پاس علاج تو دور کرایے کے پیسے بھی نہیں ہوتے تھے۔ بیت المال کے پاس گئے تو انہوں نے کئی مہینوں کے بعد صرف پچاس ہزار روپے کا چیک دیا“

ان کا کہنا تھا ”اب بھی ہم نے والدہ کا علاج حکومت بلوچستان کے انڈومنٹ فنڈ کی مدد سے کرایا، جس کے لیے ہم نے کئی مہینوں تک کوئٹہ میں سرکاری دفاتر کے چکر لگائے۔ ایک خاتون رکن اسمبلی نے ہماری مدد کی اور لیور ٹرانسپلانٹ کے لیے حکومتی فنڈز منظور کرائے“

عبدالغفور کا کہنا تھا ”اگر ہم والدہ کا بروقت علاج کروا لیتے تو شاید ٹرانسپلانٹ کی ضرورت نہیں پڑتی اور ہمارا بھائی آج زندہ ہوتا“

Tags:

Dera BugtiLiver Transplantation
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

عالمی برادری کا دوہرا معیار: چند دن سے قابض روس غلط، ساٹھ سال سے قابض اسرائیل ٹھیک!؟ کویت

Next

احتجاج کرنے والے بلوچ طلبہ کےخلاف مقدمہ خارج ہونے پر عدالت نے درخواست نمٹا دی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme