Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

واشگنٹن میں خطرے کے الارم پر کانگریس کی عمارت خالی، معاملہ کیا تھا؟

By Akhtar Rasool
اپریل 21, 2022 3 Min Read
0

واشنگٹن – امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں کیپیٹل ہل کو بدھ کے روز اس وقت مختصر طور پر خالی کرا لیا گیا، جب حکام نے ایک پیراشوٹ اسٹنٹ پر خطرے کی گھنٹی بجا دی

اس افراتفری کے بعد کانگریس کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے اسے ’ناقابل معافی‘ ناکامی قرار دیتے ہوئے ہوابازی کے حکام کو آڑے ہاتھوں لیا

واشنگٹن کے مرکز میں واقع حکومتی کمپلیکس کی حفاظت کی ذمہ دار پولیس نے شام ساڑھے چھ بجے کے فوراً بعد ایک ابتدائی بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے کیپیٹل ہل کے انخلا کا حکم دیا ہے کیونکہ وہ ایک ایسے ’طیارے‘ کا سراغ لگا رہے ہیں جس سے ممکنہ طور پر خطرہ ہو سکتا ہے

پولیس نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں تاہم بعد میں یہ معلوم ہوا کہ یہ ’چھوٹا بحران‘ ہل کے قریبی نیشنلز اسٹیڈیم میں پہلے سے طے شدہ فلائی اوور سے شروع ہوا تھا

یہ خبر چند منٹوں میں امریکہ میں آگ کی طرح پھیل گئی جہاں نائن الیون حملے اور گذشتہ سال چھ جنوری کو مظاہرین کی جانب سے کیپیٹل ہل پر دھاوا بولنے کی یادیں تازہ ہیں

یو ایس کیپیٹل پولیس نے جلد ہی ایک دوسرا بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ یہ حکم ’ضرورت سے زیادہ احتیاط‘ کے باعث دیا گیا تھا اور یہ کہ کمپلیکس کو اب ’کوئی خطرہ نہیں‘ ہے اور حکومتی عمارتیں دوبارہ استعمال کے لیے کھول دی گئی ہیں

اس خوف و ہراس کے وقت ایوان نمائندگان اور نہ ہی سینیٹ میں کوئی سیشن جاری تھا

لیکن اس واقعے نے ایوان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کو پریشان کر دیا جنہوں نے واضح غلط فہمی کی وجہ سے انخلا کا حکم واپس لیے جانے کے فوراً بعد فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) کے حکام کو جھاڑ پلا دی

پیلوسی نے کہا کہ ایف اے اے کی کیپیٹل پولیس کو پہلے سے طے شدہ فضائی سرگرمی کے بارے میں مطلع کرنے میں ناکامی ’اشتعال انگیز اور ناقابل معافی‘ ہے

سسپیکر نے کہا: ’اس ظاہری غفلت کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر ضروری افراتفری خاص طور پر نقصان دہ تھی خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو چھ جنوری کو کیپیٹل پر ہونے والے حملے کے صدمے سے ابھی تک باہر نہیں نکلے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’کانگریس اس بات کا جائزہ لے گی کہ آج اصل میں کیا غلط ہوا اور فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن میں کسے اس اشتعال انگیز اور خوفناک غلطی کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔‘

اںخلا کے حکم کے بارے میں فوری طور پر کوئی وضاحت نہیں کی گئی تھی لیکن پیلوسی نے واضح کیا کہ یہ پیراشوٹ ڈسپلے کے بعد دیا گیا جو نیشنلز سٹیڈیم میں بیس بال کے پری گیم شو کا حصہ تھا

نشریاتی ادارے این بی سی کے کیپیٹل ہل کے نمائندے گیریٹ ہاک نے ٹویٹ کیا کہ انہوں نے ’کچھ لوگوں کو انخلا کے حکم کے وقت یو ایس کیپیٹل کے اوپر یا اس کے قریب پیراشوٹ سے اترتے دیکھا ہے‘

این بی سی نے پولیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیرا شوٹرز اسٹیڈیم میں گولڈن نائٹس کے مظاہرے کا حصہ تھے۔ گولڈن نائٹس امریکی فوج کی سرکاری پیراشوٹ ٹیم ہے

صرف پندرہ ماہ قبل امریکی کیپیٹل ایک حقیقی پرتشدد حملے کا اس وقت مرکز بنا جب اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے جو بائیڈن کی صدارتی انتخابات میں کامیابی کی تصدیق کو روکنے کی کوشش میں ہل پر دھاوا بول دیا تھا

بدھ کو انخلا کے حکم پر قانون ساز اور یہاں کا دورہ کرنے والے انتباہ سے خوف زدہ ہو گئے

کانگریس کی خاتون رکن ٹریسا لیگر فرنینڈیز نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’ہم نے یہ پندرہ منٹ انتہائی دباؤ میں گزارے لیکن ہم شکر ادا کرتے ہیں کہ سب محفوظ ہیں۔‘

سی این این کے کانگریس میں نمائندے ریان نوبلز نے کہا کہ وہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہیں یہاں سے نکالا گیا اور یہ پندرہ منٹ ان کے لیے بے چینی کا باعث تھے۔

واشنگٹن آنے والے دو سوئس سیاحوں نے بتایا کہ وہ تاریخی کیپیٹل کی سیر کرنے کے لیے پیدل جا رہے تھے جب پولیس نے انہیں یہاں سے ہٹا دیا۔

ایک اور سیاح نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ ’انہوں نے ہمارے پیچھے حفاظتی رکاوٹیں بند کر دیں۔ انہوں نے ہمیں کچھ نہیں بتایا اور میں نے نہ پوچھنا ہی بہتر سمجھا۔‘

Tags:

AmericaCongress BuildingCongressional buildingUSWashington
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

برطانیہ کی عدالت کا جولین اسانج کو امریکا کے حوالے کرنے کا حکم

Next

تلخ سیاسی ماحول میں یکجہتی… برے میں کچھ اچھا بھی ہے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme