Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

’پراسرار ڈاک‘: نیویارک کی خاتون کو 1960ع میں لکھے خط موصول

By Akhtar Rasool
مئی 19, 2022 2 Min Read
0

حیرت انگیز طور پر حال ہی میں نیو یارک کی ایک رہائشی خاتون کو ایسی ڈاک موصول ہوئی ہے، جو 1960ع کی دہائی میں لکھی گئی تھی

حتیٰ کہ ڈاک خانے نے بھی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ اسے کچھ معلوم نہیں کہ کیا ہو رہا ہے؟

تفصیلات کے مطابق کیرل ہوور نامی خاتون کا کہنا ہے کہ پہلی پراسرار ڈاک پر 30 اگست 1960ع کی مہر لگی ہوئی ہے۔ یہ ڈاک ان کی والدہ نے اپنے ہنی مون کے دوران بھیجی تھی، جو اب فوت ہو چکی ہیں

خاتون نے ڈبلیو ای ٹی ایم ٹیلی ویژن کو بتایا ”جس چیز پر میری پہلے نظر پڑی وہ میری والدہ کی ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر تھی“

انہوں نے کہا ”وہ 2014ع میں چل بسیں۔ مجھے پتہ چلا کہ ڈاک پر اگست 1960ع کی کینیڈا کی مہر لگی ہوئی تھی۔ قیاس ہے کہ اس وقت وہ اپنے ہنی مون پر ہوں گے“

ہوور کہتی ہیں کہ ڈاک ملنے کے بعد وہ اسے لے کر ہورنیل، نیویارک کے ڈاک خانے گئیں’صرف ہنسنے کے لیے۔‘

لیکن ڈاک خانے والوں کے پاس ان کے لیے باعث حیرت کچھ اور سامان موجود تھا

ان کا کہنا تھا: ’اوہ آپ کے پاس ڈیلیوری کے لیے متبادل شخص موجود تھا۔ ہم معذرت چاہتے ہیں۔ کیا آپ جم اور پیگ کو جانتی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے یہ (ڈاک) بھیجی‘

’اوہ میرے خدا! ہمارے پاس مزید دو (پوسٹ کارڈز) ہیں۔‘

اور اس کے بعد ان کے اور ان کی ایک کزن کے لیے مزید تاریخی پوسٹ کارڈز آنا شروع ہو گئے، جنہیں ایک کارڈ منی سوٹا میں اپنے سابقہ خاندان کے گھر موصول ہوا

ہوور کے بقول ’ایسا لگتا ہے کہ کسی کو کچھ معلوم نہیں بشمول ڈاک خانے کے کہ ڈاک ہم تک کیسے پہنچ رہی ہے اور کیوں؟‘

وہ کہتی ہیں کہ پراسراریت کے باجود اپنے خاندان کی لکھی تحریریں ڈاک کے ڈبے میں آنا انہیں اچھا لگتا ہے

انہوں نے مزید کہا ’حال ہی میں ملنے والی ڈاک پر اپنی والدہ یا والد کی ہاتھ سے لگی ہوئی تحریر دیکھنا واقعی بہت اچھا لگتا ہے۔‘

’یہ اچھی بات تھی۔ چاہے اس کی وضاحت ہو یا نہ ہو میرے لیے ٹھیک ہے‘

Tags:

1960Mysterious MailNew York
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

خوبصورتی بڑھانے کی خواہش میں بھارتی اداکارہ پلاسٹک سرجری کے دوران جان گنوا بیٹھی

Next

بلوچستان: جنگلات میں لگی آگ پھیلنے لگے، تین افراد جھلس کر جاں بحق

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme