Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںسائنس و ٹیکنالوجی

ڈی این اے سے ماہرین کا سات سو سال قبل آنے والی وبا کا راز حل کرنے کا دعویٰ

By Akhtar Rasool
جون 17, 2022 3 Min Read
0

یورپ سمیت دیگر خطوں کے عالمی ماہرین نے طویل تحقیق کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کم از کم چھ سو سال قبل دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والی وبا ’طاعون‘ کا راز حل کر لیا ہے، جس کے بعد یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مذکورہ بیماری وسطی ایشیا سے دنیا میں پھیلی

ماہرین کی جانب سے طویل عرصے تک کی جانے والی تحقیق کے بعد یہ تحقیقی رپورٹ سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع کی گئی، جس میں ماہرین نے چھ صدیاں قبل آنے والی وبا کا راز حل کرنے کا دعویٰ کیا

اس تحقیی رپورٹ کے حوالے سے خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے بتایا ہے کہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ سمیت دیگر ممالک کے ماہرین کی جانب سے وسطیٰ ایشیائی ملک کرغزستان کے قدیم قبرستانوں میں سے ملنے والی چودہویں صدی کی سات لاشوں سے باقیات حاصل کیں، جن کا ڈی این اے کیا گیا

ماہرین نے جن سات لاشوں کی باقیات حاصل کیں، ان میں سے تین لاشیں خواتین کی تھیں اور ان کے دانتوں کے ڈین این اے سے معلوم ہوا کہ وہ اس وقت پھیلنے والی ’بلیک ڈیتھ‘ کے نام سے مشہور وبا ’بیوبونک طاعون‘ کا شکار ہو کر ہلاک ہوئی تھیں

ماہرین کے مطابق اس سے قبل یہ قیاس آرائیاں کی جاتی رہیں ہیں کہ ممکنہ طور پر ’بلیک ڈیتھ‘ کے نام سے مشہور وبا ’بیوبونک طاعون‘ کا آغاز چین یا پھر قدیم ہندوستان سے ہوا ہوگا، تاہم نئی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ بیماری وسطی ایشیا سے دنیا میں پھیلی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر ’بلیک ڈیتھ‘ کے نام سے مشہور وبا ’بیوبونک طاعون‘ وسطی ایشیائی ممالک سے یورپ، افریقہ اور جنوبی ایشیا تک تجارتی راستوں کے ذریعے پھیلی

اگرچہ ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ’طاعون‘ کی وبا کا آغاز وسطی ایشیا سے ہوا، تاہم سائنسدانوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس کی ابتدا کرغزستان سے ہوئی یا کسی اور ملک سے؟

تاہم جن لاشوں سے باقیات حاصل کی گئیں، انہیں کرغزستان کے قدیم قبرستانوں سے نکالا گیا تھا اور مذکورہ قبرستانوں پر پہلی بار 1930ع میں تحقیق شروع ہوئی تھی

واضح رہے کہ ’بلیک ڈیتھ‘ کے نام سے مشہور وبا ’بیوبونک طاعون‘ کو اب تک کی دنیا کی سب سے بھیانک اور بڑی وبا مانا جاتا ہے، جس سے اس وقت یورپ کی لگ بھگ نصف آبادی جبکہ ایشیا کی چالیس فیصد آبادی موت کے منہ میں چلی گئی تھی

مذکورہ بیماری سے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ تیرہویں صدی کے وسط یا اختتام پر شروع ہوئی اور سترہویں صدی تک مختلف تبدیلیوں کے ساتھ یورپ، ایشیا اور افریقہ میں تواتر کے ساتھ موجود رہی اور اس سے اندازاً مجموعی طور پر آٹھ کروڑ لوگ ہلاک ہوئے اور اس وقت کئی شہروں کا ہر پانچواں شخص ’طاعون‘ سے ہلاک ہوا تھا

’طاعون‘ کی ’بلیک ڈیتھ‘ یا ’بیوبونک طاعون‘ کو خطرناک ترین قسم مانا جاتا ہے، لیکن یہ وبا دوسرے خطوں میں جانے کے بعد ’اطالوی طاعون، لندن طاعون، ماسکو طاعون، جرمن طاعون، مارسے طاعون اور ویانا طاعون‘ سمیت دیگر قسموں میں تبدیل ہوگئی

یہ بیماری ابتدائی طور پر اس وقت چوہوں میں پائی جاتی تھی، جس کے بعد یہ انسانوں میں منتقل ہوئی اور طبی سائنس کے فقدان کے باعث اس کا علاج ممکن نہیں تھا

اگرچہ طاعون کی بیماری اب بھی دنیا میں موجود ہے لیکن اب یہ وبا کی صورت میں نہیں اور نہ ہی اب یہ پہلے کی طرح خطرناک رہی ہے اور سب سے اہم بات کہ اب اس کا علاج بھی موجود ہے

’طاعون‘ سے متاثرہ افراد کے لمز نوڈز میں سوزش ہوجاتی ہے، جب کہ اس کے پھیپھڑوں میں تکلیف ہونے کے علاوہ جسم پر گلٹیاں بھی نکلتی ہیں، اس مرض کا شکار شخص شدید نزلے میں مبتلا ہوجانے کے بعد بخار کا بھی شکار ہوجاتا ہے۔

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ووٹ ایک حلقے سے دوسرے حلقے میں کیسے منتقل کروایا جا سکتا ہے؟

Next

کنوارپن کی فرسودہ روایات پر آگاہی دینے والی دو بلوچ بہنیں

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme