Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

پتھروں کی بارش کا امکان، ماہرین کی بڑی پیش گوئی

By Akhtar Rasool
نومبر 6, 2020 2 Min Read
0

یارک یونیورسٹی، میک گل یونیورسٹی اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن کے سائنسدانوں نے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا ہے جہاں بارش میں پانی نہیں، بلکہ پتھریلی چٹانیں برستی ہیں، تحقیق کے مطابق اس آتش فشانی سیارے میں خطرناک اور طوفانی ہوائیں پانچ ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہیں

ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سائنسدانوں کے مطابق  2۔141 بی نامی اس آتش فشانی سیارے میں چٹانوں کی بارش ہوتی ہے، یارک یونیورسٹی کے محققین نے ایک کمپیوٹر سمولیشن کے ذریعے اس منفرد سیارے کے موسم اور ماحول کی پیشگوئی کی ہے

یہ سیارہ اپنے میزبان ستارے کے بہت زیادہ قریب واقع ہے اور اس کا دو تہائی حصہ آگ برساتی روشنی کی زد میں، جبکہ اس کا تاریک حصہ سرد رہتا ہے

مذکورہ تحقیق کے نتائج جریدے "منتھلی نوٹسز آف دی رائل آسٹرونومیکل سوسائٹی” میں شائع ہوئے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اس سیارے میں ایک لاوے کا سمندر بھی بہتا ہے جس کی گہرائی 62 میل ہوسکتی ہے، جب کہ اس کی سطح پر 3100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سپر سونک ہوائیں چلتی ہیں

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ تمام چٹانی سیارے بشمول زمین آغاز میں پگھلی ہوئی دنیائیں تھیں جو بہت تیزی سے ٹھنڈی ہوکر ٹھوس شکل اختیار کر گئیں، آتش فشانی سیارے ہمیں اس ارتقائی عمل کی نایاب جھلکیاں فراہم کرتے ہیں

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپیوٹر سمولیشنز میں عندیہ ملا ہے کہ کے 2۔141 بی میں چٹانوں کی بارش ہوتی ہے کیونکہ یہاں معدنیاتی بخارات چٹانوں کو سپرسانک ہواؤں کے ذریعے اڑا دیتے ہیں اور پھر چٹانوں کی بارش لاوے پر برستی ہے

محققین کو توقع ہے کہ اگلی نسل کی دوربینوں سے وہ اس سیارے کا قریب سے مشاہدہ کرنے کے قابل بن جائیں گے اور تصدیق ہو سکے گی کہ یہ کمپیوٹر سمولیشنز کس حد تک مستند ہیں

اس حوالے سے ناسا کی جیمز ویبب اسپیس ٹیلی اسکوپ اہم ہوگی، جو 2021ع میں کام شروع کرے گی. واضح رہے کہ یہ یہ زمین کے حجم کا سیارہ ہے جس پر ٹھوس سطح، سمندر اور ماحول ہے، جو چٹانوں سے بنا ہے۔

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

آن لائن خریداری کے لیے جاپانی کمپنی نے جدید طریقہ متعارف کرادیا

Next

ﻟﯿﺎﺭﯼ ﮔﯿﻨﮓ ﻭﺍﺭ ﻣﻠﺰﻣﺎﻥ کے خلاف ﻣﺘﺎﺛﺮﮦ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﯿﮟ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme