Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

گوشت خور پچر پلانٹ چوری ہونے لگے، بقا کو خطرہ لاحق

By Akhtar Rasool
جولائی 18, 2022 2 Min Read
0

ویسٹرن آسٹریلیا یونیورسٹی کے ماہرین نے کہا ہے کہ باقاعدہ دانتوں والے گوشت خور پچر پلانٹ کی بقا کو خطرات لاحق ہیں، جو دنیا میں پہلے ہی نایاب ہیں

اسے البانی پچرپلانٹ کہا جاتا ہے، جو پوری دنیا میں صرف مغربی آسٹریلیا کے جنوبی ساحلی علاقوں میں پایا جاتا ہے

اگرچہ اس پر تحقیق کی بہت ضرورت ہے لیکن دوسری جانب اس کی آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے، کیونکہ ان کو غیرقانونی طور پر مہنگے داموں فروخت کیا جارہا ہے۔ لوگ ان نایاب اور انوکھے پودوں کو گھر میں بطور سجاوٹ کے لیے رکھتے ہیں

پچرپلانٹ کے صراحی دار پودوں کے کناروں پر لگا کیمیکل حشرات اور اڑنے والے کیڑوں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے اور پھسلن کی وجہ سے مکھیاں اور کیڑے اندر جا گرتے ہیں

پودے کے اندر کئی اقسام کے خامرے اس جانداروں کو گھلا دیتے ہیں، جو ان کی غذا بھی ہوتے ہیں

اپنے انہی خواص کی بنا پر ان پودوں کی دنیا بھر میں غیرمعمولی مانگ ہے اور یہاں سے چوری کرکے دنیا بھر میں اسمگل کئے جاتے ہیں

اس سے قبل بھی البانی پچر پلانٹ کی بقا کو شدید خطرات لاحق تھے اور اسے نایاب ترین انواع میں شامل کیا گیا ہے، تاہم مغربی آسٹریلیا کے البانی پچرپلانٹ کچھ تبدیل ہوکر چیونٹیوں کو ہضم کرنے لگے ہیں

اس پودے کے کنارے پر خمیدہ انداز میں دانت نما ابھار ہوتے ہیں، جو تیزی سے بند ہوکر کیڑے کو اندر قید کر لیتے ہیں۔ پرندے کا اوپری حصہ نیم شفاف ہوتا ہے اور آخر تک کیڑا خود کو کھلے آسمان تلے سمجھتا ہے، لیکن درحقیقت وہ ’شجری پنجرے‘ میں قید ہو چکا ہوتا ہے

لیکن دوسری جانب امید افزا بات یہ ہے کہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی اسے اگایا جارہا ہے اور اس میں کامیابی بھی ملی ہے۔

Tags:

CarnivorousCarnivorous Plantsthreatening survivalwedge plants
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ایران کی ارمیہ جھیل خشک ہونے پر مظاہرہ، متعدد گرفتار

Next

پنجاب ضمنی انتخاب: بارہ جماعتوں اور ریاستی مشینری کے مقابل پی ٹی آئی کی فتح۔۔۔ وجہ کیا بنی؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme