Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

درختوں کے تنوں کے دائروں میں چھپے راز کے بارے میں سائنسدانوں کا نیا انکشاف

By Akhtar Rasool
نومبر 18, 2020 2 Min Read
0

ایک نئی تحقیق کے بعد سائنسدانوں نے درختوں کی ایک اور خاصیت دریافت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ زمین سے ہزاروں نوری سال کے فاصلے پر پھٹنے والے ستاروں اور سپرنووا کے آثار درختوں کے دائروں میں بھی پائے جا سکتے ہیں. یہ بات یونیورسٹی آف کولاراڈو، بولڈر کے ماہر ارضیات، رابرٹ بریکن رِج کی ایک تحقیق میں بتائی گئی ہے، جو جرنل آف ایسٹروبائیولوجی میں شائع ہوئی ہے

اپنی تحقیق میں ان کا کہنا ہے کہ آسمانوں پر ہونے والی واقعات کا ریکارڈ حیاتیات اور ارضیات سے بھی ظاہر ہوسکتا ہے۔ سپرنووا کے عمل میں ستارے ہولناک انداز میں پھٹتے ہیں اور ان کی غیرمعمولی روشنی اور توانائی خارج ہوتی ہے۔ سپرنووا صرف چند ماہ میں ہمارے سورج کی پوری زندگی جتنی توانائی باہر خارج کرتا ہے

انہوں نے بتایا ہے کہ بسا اوقات سپرنووا پوری کہکشاں میں سب سے روشن اجسام بن جاتے ہیں۔ دور دراز ہونے کے باوجود وہ زمین کو ریڈی ایشن میں نہلا  دیتے ہیں اور اوزون جیسی پرت کو بھی نقصان پہنچاتے رہتے ہیں

تحقیق کے بارے میں مزید تفصیلات کے مطابق اس کے لیے ماہرین نے بہت سارے درختوں کے اندر دائروں کا جائزہ لیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے گذشتہ چالیس ہزار برس میں درختوں کے اندر چار ایسے واقعات کا ریکارڈ معلوم کیا ہے، جو آسمانوں پر رونما ہوئے ۔ یہ واقعات بہت شدید ہیں جن کے ثبوت کئی درختوں میں ملے ہیں۔ ان میں سپرنووا بھی شامل ہیں

اس کے لیے ماہرین نے کاربن 14 کی مدد سے ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے بھی مدد لی ہے، ریڈیو کاربن اس وقت پیدا ہوتی ہے جب خلا سے زمین پر کائناتی شعاعوں کی بوچھاڑ ہوتی ہے اور یہ عمل مستقل جاری رہتا ہے۔ اسی طرح شمسی توانائی یعنی سورج سے ابھرنے والے شمسی شعلوں کا احوال بھی درختوں کے دائروں میں دیکھا جاسکتا ہے

اسی طرح سپرنووا عمل میں گیما شعاعیں بھی نکلتی ہیں اور ان کی بڑی مقدار زمین تک پہنچ کر ریڈیو کاربن کو جنم دیتی ہیں۔ تاہم بعض ماہرین کا خیال ہے کہ درختوں میں کسی سپرنووا کی بجائے خود ہمارے سورج کے بھڑکتے شعلوں کا ریکارڈ جمع ہونے کا امکان بہت زیادہ ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ تو بہرحال طے ہے کہ  درخت ہمیں کائناتی واقعات کی خبر دینے کی اہلیت رکھتے ہیں.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

صدر ٹرمپ کا عہدہ چھوڑنے سے قبل افغانستان اور عراق سے امریکی فوجیوں کی واپسی کا اعلان، نیٹو نے مخالفت کر دی

Next

وزیراعظم کا پاکستان میں الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم لانے کا اعلان

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme