Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

قابل استعمال لینسز دوبارہ لگانے سے آنکھوں کے نایاب انفیکشن ہو سکتے ہیں: تحقیق

By Akhtar Rasool
ستمبر 30, 2022 2 Min Read
0

ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ دوبارہ استعمال کے قابل کونٹیکٹ لینسز کا استعمال کرنے والے لوگوں کے نایاب آنکھ کے انفیکشن میں مبتلا ہونے کے امکانات چار گُنا بڑھ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے انتہائی نتیجے میں ان کی بینائی بھی جا سکتی ہے

برطانوی سائنسدانوں کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق میں خبردار کیا گیا کہ نہانے کے دوران، سوئمنگ پول کے اندر اور دورانِ نیند لینسز پہننے سے بھی مذکورہ بالا خطرات میں اضافہ ہوتا ہے

تحقیق میں محققین نے دو سو ایسے افراد کا معائنہ کیا، جو روزانہ لینسز استعمال کرتے تھے یا دوبارہ قابلِ استعمال لینسز لگاتے تھے اور آنکھ کے انفیکشن یا کسی دوسری بیماری کے سبب کلینک میں معائنہ کرانے گئے تھے

ان افراد میں اکینتھاموبا کیراٹائٹس کی تشخیص ہوئی۔ یہ ایک ایسا انفیکشن ہے، جس میں آنکھ کی سطح سوج جاتی ہے اور یہ بینائی سے محرومی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ یہ کیفیت ان لوگوں میں زیادہ عام تھی، جو ایک ہی لینسز کو بار بار استعمال کرتے تھے

اس انفیکشن کی ابتداء تب ہوتی ہے، جب مائیکرو حیاتیات آلودہ محلول یا گندے ہاتھوں کے ذریعے کونٹیکٹ لینسز پر لگتے ہیں اور پھر باریک آنسوؤں کے ذریعے آنکھوں میں داخل ہو جاتے ہیں

اس کیفیت میں مریض آنکھ کی تکلیف، سرخی، دھندلی بصارت، آنکھوں پر دھبے کی موجودگی اور بالآخر معاملہ سنگین ہونے پر بینائی کے چلے جانے کا سامنا کرتا ہے۔ اس بیماری کے علاج میں اینٹی سیپٹکس شامل ہوتے ہیں، جن کو براہِ راست آنکھ کی سطح پر ڈالنا ہوتا ہے اور ممکنہ طور پر یہ علاج چھ ماہ سے ایک سال تک جاری رہ سکتا ہے

لندن کے مُورفیلڈز آئی ہاسپٹل کے ماہرِ امراضِ چشم اور تحقیق کے سربراہ پروفیسر جان ڈارٹ کا کہنا تھا کہ گزشتہ سالوں میں اس کیفیت میں اضافہ دیکھا گیا ہے لیکن یہ انفیکشن اب بھی نایاب ہے اور اس سے بچا جاسکتا ہے۔

Tags:

disposable lensesReimplantation
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

’سعودی عرب میں تعلیم حاصل کریں‘، پلیٹ فارم کا اجرا

Next

معاشی بدحالی کا رونا اور پارلیمانی سربراہان کی تنخواہوں میں اضافہ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme