Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

آرٹیکل چھ کے داروغے جواب دیں

By Akhtar Rasool
فروری 5, 2023 4 Min Read
0

ضمنی اور عام انتخابات اگر آئین میں دی گئی مدت کے دوران نہ کرائے گئے تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟

آئینی ماہرین اس سوال کے جواب میں چہرے پر چار برِ اعظموں کی سنجیدگی طاری کر کے جواب دیتے ہیں کہ اس صورت میں آرٹیکل چھ لاگو ہوگا اور حکومت پر سنگین غداری کا مقدمہ قائم ہو جائے گا

بلغمی مزاج قانونی ماہرین کی طبع جب رواں ہوتی ہے تو میرے جیسے طالب علموں کو گدگدا دیتی ہے۔ آرٹیکل چھ نہ ہوا، درویش کا تصوف ہو گیا۔ مائل بہ کرم ہوا تو ماں کی طرح مہربان ہو گیا، برہم ہوا تو کسی کوتوال کی تعزیر کا کوڑا بن گیا

آرٹیکل چھ کے جملہ داروغے اگر اس طالب علم کی جسارت معاف کر سکیں تو میرے ہتھیلی پر کچھ سوال رکھے ہیں اور ایک طالب علم کے طور پر میں رہنمائی کا طالب ہوں

آرٹیکل چھ کا اطلاق صرف قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں تاخیر پر کیوں ہوگا؟ بلدیاتی انتخابات کی بات بھی آئین میں کی گئی ہے اور بلدیاتی انتخابات بروقت کروانا بھی اسی طرح آئینی تقاضا ہے، جیسے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرانا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ سالوں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوتے اور کسی کو آرٹیکل چھ یاد نہیں آتا؟

بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری ہونے کے بعد حکومت یونین کونسلز میں اضافہ کر دیتی ہے اور پھر مختلف بہانوں سے دارالحکومت میں ان انتخابات کو ملتوی کر دیا جاتا ہے، آرٹیکل چھ کسی کو یاد نہیں آتا۔۔ کیوں؟

مقامی حکومتیں بھی آئین کے تحت بنتی ہیں۔ ان کے پاس بھی آئینی مینڈیٹ ہوتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ایک وزیر اعظم انتظامی حکم نامے سے یہ حکومتیں معطل کر دیتا ہے اور ان کا آئینی مینڈیٹ پامال کر دیتا ہے، لیکن کسی کو یاد نہیں آتا کہ یہ بھی آئین سے انحراف ہے اور اس پر آرٹیکل چھ لگنا چاہیے

قومی اور صوبائی اسمبلیاں وقت سے پہلے تحلیل ہو جائیں تو 60 دن کے اندر اندر انتخابات ہونا لازم ہے اور اسمبلی اپنی مدت پوری کر کے ختم ہو تو 90 دن کے اندر۔ سوال اب یہ ہے کہ اگر اس مدت سے انحراف سنگین غداری ہے تو کیا آئین میں کہیں اور بھی ایسا کوئی اہتمام موجود ہے یا نہیں اور اگر موجود ہے تو کیا اس کی خلاف ورزی بھی آئین شکنی کہلائے گی؟

آئین کے آرٹیکل 251 میں جہاں اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا ہے وہیں یہ بھی لکھا ہے کہ 15 سال کے اندر اندر اردو کو دفتری اور سرکاری زبان بنانے کے انتظامات کیے جائیں۔ کیا کسی کو معلوم ہے کہ یہ 15 سال کی مدت کب کی ختم ہو چکی؟ کیا وجہ ہے یہاں کسی کو آرٹیکل چھ یاد نہیں آتا؟

آئین نے سود کے خاتمے کی ہدایت کر رکھی ہے۔ اس ہدایت پر آج تک عمل نہیں ہوا۔ کیا وجہ ہے یہاں آرٹیکل چھ کی کسی کو کبھی یاد نہیں ستائی؟

آئین نے ’پرائیویٹ آرمی‘ کی ممانعت کر رکھی ہے۔ کیا کسی کو کچھ یاد ہے وطن عزیز میں لشکر، جیش، حزب سمیت کتنے ناموں سے کتنے نجی لشکر گھومتے پھرتے تھے۔ کیا وجہ ہے کبھی کسی کو آرٹیکل چھ کا خیال نہیں آیا؟

آئین نے لوگوں کو بہت سے بنیادی انسانی حقوق دے رکھے ہیں۔ یہ حقوق یہاں جی بھر کر پامال کیے جاتے ہیں۔ کیا یہ آئین شکنی نہیں اور کیا اس پر آرٹیکل چھ نہیں لگنا چاہیے؟

آئین کے آرٹیکل 25 میں کہا گیا ہے کہ تمام شہری برابر ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں کہیں بھی یہ برابری موجود نہیں ہے۔ یہاں قدم قدم پر اہتمام کے ساتھ طبقاتی تقسیم قائم کی گئی ہے۔ کیا اس پر بھی آرٹیکل چھ لگتا ہے اور کیا یہ بھی آئین کی خلاف ورزی ہے؟

آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 نے لوگوں کی پراپرٹی کے تحفظ کی بات کی ہے لیکن یہاں اشرافیہ کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے لیے غریبوں سے گاؤں کے گاؤں سرکاری سرپرستی میں چھین لیے جاتے ہیں۔ اس آئین شکنی پر آرٹیکل چھ کیوں نہیں لگتا؟

آئین کا آرٹیکل 19 آزادی رائے کو یقینی بنانے کی بات کرتا ہے لیکن یہاں 1870 کے ’سیڈیشن لا‘ کے ذریعے ہم نے آئین کا یہ آرٹیکل پامال کر رکھا ہے۔ کیا یہ آئین شکنی نہیں ہے اور کیا اس پر بھی آرٹیکل چھ کا مزاج برہم ہوتا ہے یا نہیں؟

آئین کے آرٹیکل 19 اے نے شہریوں کو معلومات کے حصول کا حق دے رکھا ہے لیکن یہاں ہر دوسری معلومات کو قومی راز قرار دے کر چھپایا جاتا ہے حتٰی کہ توشہ خانے کی معلومات بھی نہیں دی جاتیں۔ کیا یہ بھی آئین شکنی نہیں؟

آئین فیئر ٹرائل کی بات کرتا ہے۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کیا یہ حق آج تک شہریوں کو مل سکا؟ نہیں ملا تو اس پر آرٹیکل چھ کی طبع نازک رواں کیوں نہیں ہوتی؟

آئین انسانی جان کی حرمت کی بات کرتا ہے، یہاں لوگ سڑکوں پر پولیس کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں اور قاتل با عزت بری ہو جاتے ہیں۔۔ آرٹیکل چھ کیوں نہیں انگڑائی لیتا؟

آئین کہتا ہے بنیادی انسانی حقوق سے متصادم تمام قوانین باطل ہوں گے لیکن یہاں ایسے تمام نو آبادیاتی قوانین پوری قہر سامانی کے ساتھ نافذ ہیں۔۔ کیا یہ آئین شکنی نہیں؟

کیا آئین کی بالادستی کا مطلب یہ ہے کہ اقلیت نما سیاسی اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کیا جائے؟ یہ مفادات محفوظ ہیں تو آئین کی بالادستی قائم ہے۔ یہ مفادات خطرے میں ہیں تو آئین پامال ہو رہا ہے؟

سوالات کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ فی الوقت اسے یہیں ختم کرتے ہیں۔ آرٹیکل چھ کے داروغے اگر انہی چند سوالات پر رہنمائی فرما دیں تو عین نوازش ہوگی۔

بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

Articlearticle based 25 question answerarticle related question and answer in englisharticle related question answer 4 competitive earticle related question answer in englisharticlesb2 first (fce) article - sample answerb2 first (fce) writing part 2 article - sample answerb2 first article sample answerb2 first example article answerb2 first sample article answerfce article sample answerfce example article answerfce sample article answer
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

برگد اور جامن کے درخت فضائی آلودگی کم کرنے میں مددگار: تحقیق

Next

بات ’کرو یا مرو‘ تک پہنچ چکی ہے!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme