
ورلڈکپ 2026، چھ جولائی کی صبح ریفری نے سیٹی بجا کر برازیل کی شکست کا اعلان کر دیا ـ یہ سیٹی نیمار جونیئر کے پینلٹی گول کے ساتھ ہی بجائی گئی ـ نیمار کا گول جس میں ایک پورا عہد سمٹ کر آگیا ـ وہ عہد جو فن، تخلیق اور دکھوں کے لامتناعی سلسلے سے عبارت ہے ـ نیمار دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے فٹ بال اسٹیڈیم کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے ـ دنیا کے کروڑوں فٹ بال شائقین نے ایک فن کار کو ٹوٹتے دیکھا ـ برازیلی سامبا فٹ بال کا ایک روشن چراغ …… بجھ گیا ـ ایک ہیرو ، جس کی کہانی ادھوری رہ گئی ـ
برازیل کے بعد بارسلونا فٹ بال کلب میرا دوسرا عشق ہے ـ نیمار تب پہچانے گئے جب وہ اس کلب کی تثلیث کو مکمل کرنے آئے ـ وہ 2013 کے ماہ و سال تھے، ابھی برازیل ورلڈکپ 2014 کے سیمی فائنل کی شرم ناک شکست سے ایک سال دور تھا ـ برازیل کے یہ جواں سال فٹ بالر حیرت انگیز صلاحیتوں کے ساتھ عالمی فٹ بال کے نقشے پر وارد ہوئے ـ لیونل میسی، لوئیس سواریز اور نیمار جونیئر کی تکون نے بارسا کو دہشت ناک کلب بنا دیا ـ
نیمار برازیلی سامبا فٹ بال کے نمائندہ تھے ـ وہی ’جِنگا‘ جو برازیلی فٹ بال کا خاصہ ہے ـ بے خوف ڈربلنگ، مخالف دفاعی کھلاڑیوں کے اعصاب سے کھیلنے کا انداز، تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال اور گیند کے ساتھ رقص کرنے کی بے پناہ مہارت ـ وہ مگر شاید غلط وقت میں آگئے تھے ـ غلط وقت کی وضاحت کے لیے پیچھے چلتے ہیں ـ وہاں، جہاں سے کہانی شروع ہوئی تھی ….. 1970 ـ
برازیل پر فوجی حکومت مسلط تھی ـ فٹ بال ٹیم بھی جرنیلوں کے کنٹرول میں تھی ـ ورلڈکپ 1966 کی شکست نے عوامی ردعمل سے فوج کو ڈرا دیا تھا ـ فوج نے ٹیکنوکریٹس کو فٹ بال کی ذمہ داری سونپی ـ دا کوستا ژواؤ سالدانیا؛ ایک خواب دیکھنے والے کمیونسٹ صحافی جو مشہور فٹ بال کوچ بھی تھے ـ غیرمتوقع طور پر فوجی حکومت نے انہیں ٹیم کا کوچ بنا دیا ـ یہ فیصلہ غالباً رائے عامہ کو ہم وار کرنے کے لیے اٹھایا گیا ـ
فٹ بال ابھی یورپی سرمائے اور ادارہ جاتی ڈسپلن سے آزاد تھا ـ کمیونسٹ کوچ کو حرام قرار دینا تاحال فیشن کا حصہ نہیں بنا تھا ـ کوچ نے کھلاڑیوں کو سخت تربیتی مراحل سے گزارنے کے ساتھ ساتھ انہیں تخلیقی آزادی بھی دی ـ
یہ ٹیم جب ورلڈکپ میں اتری تب سالدانیا اپنے ”خطرناک“ خیالات کی وجہ سے ہٹائے جا چکے تھے ، ماریو زگالو نئے کوچ مقرر ہوئے مگر تخلیقی آزادی کا جو پودا کامریڈ سالدانیا نے لگایا وہ تناور درخت بن چکا تھا ، تخلیقی انقلاب جس نے ایک عالم کو مسحور کیا ـ ـ برازیل 1970 آج بھی دنیا کی بہترین قومی ٹیم مانی جاتی ہے ـ ایک مارکس اسٹ تخلیق ـ
برازیل ورلڈچمپئن بن گیا مگر دنیا بدل گئی اور فٹ بال بدلتا ہی چلا گیا ـ برازیل کا جِنگا فٹ بال جو برازیلی اور افریقی ثقافت کا حسین امتزاج تھا ، جسم کی لچک اور ردھم کا وہ انداز جو برازیلی گلیوں میں جنم لیتا تھا یورپ نے رفتہ رفتہ اس کی تکنیکوں کو سمجھ کر اسے ایک سائنٹفک نظم میں ڈھال کر تخلیقی آزادی کا خاتمہ کر دیا ـ
تبدیلی کی پہلی لہر نیدرلینڈز سے اٹھی ـ یوہان کروائف نے ’ٹوٹل فٹ بال‘ کا تصور دے کر گیند کو کھلاڑی کی ملکیت سے نکال کر ٹیم کے حوالے کر دیا ـ اس فلسفے نے یورپی فٹ بال پر دور رس اثرات مرتب کئے ـ
دوسری لہر اٹلی سے آئی ـ اریگو ساچی نے ’ٹوٹل فٹ بال‘ کو نظم و ضبط کے تابع کرکے ای سی میلان فٹ بال کلب کو عروج پر پہنچا کر انقلاب بپا کر دیا ـ انفرادیت پر اجتماعیت نے غلبہ پالیا ـ اس فلسفے نے کھلاڑی کی تخلیقی آزادی کو محدود تر کردیا ـ
پھر آئے پیپ گوارڈیولا جنہوں نے ٹوٹل فٹ بال کو مزید پھیلا دیا ـ انہوں نے اس تصور کو ہی رد کردیا کہ فٹ بال صرف گیند سے کھیلنے کا نام ہے، ان کے مطابق یہ جگہ کو کنٹرول کرنے کا بھی نام ہے ـ پوزیشنل فٹ بال کے اس فلسفے نے گیند کے ساتھ کرتب بازی کی بجائے پورے میدان کو اپنے کنٹرول میں لینے کا تصور دیا جس نے انفرادی تخلیقی آزادی کو اجتماع کے تابع کردیا ـ
برازیلی کھلاڑی گیند چھن جانے کے بعد پیچھے ہٹ کر دفاعی نظم کا حصہ بنتے تھے ـ یورگن کلوپ نے اس تصور کو مسترد کرکے کھلاڑیوں کو فوراً دوبارہ گیند حاصل کرنے کی ہدایت دی تانکہ مخالف کھلاڑی کو حملہ کرنے کا وقت ہی نہ ملے ـ اجتماعی ردعمل کا یہ فلسفہ بھی ٹوٹل فٹ بال سے ہی ماخوذ ہے ـ
یورپ بدلتا جارہا تھا مگر برازیل اپنی دھن میں رہا ـ ورلڈکپ 1994 ، 1998 اور 2002 میں برازیلی سامبا نے جدید یورپی تصورِ فٹ بال کو مسترد تو نہ کیا مگر تخلیقی آزادی کے سلسلے کو جاری رکھا ـ یہ لڑائی مگر ایک ہاری ہوئی جنگ جیسی تھی ـ یورپی عدالت نے بوسمین کے حق میں فیصلہ سنا کر یورپی سرمائے کو کھلی چھٹی دے دی ـ یورپی کلبوں نے باصلاحیت مگر غریب برازیلی نوجوانوں کی خریداری شروع کردی ـ برازیلی ٹیلنٹ یورپ کی جانب بہتا چلا گیا ـ یورپی سرمائے نے برازیلی صلاحیت کو ادارہ جاتی نظم و ضبط میں ڈھالا، پھر انہیں سائنسی تربیت کے مراحل سے گزار کر جدید فٹ بال تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا شروع کردیا ـ برازیل کا فن کار اب آزاد نہ رہا بلکہ سخت کوچنگ کے تابع ہو گیا ـ
یہاں سے اینٹری ہوتی ہے ہمارے ہیرو نیمار جونیئر کی جو تخلیقی آزادی کا خواب سجائے یورپ پہنچے ـ
نیمار جب جِنگا فٹ بال لیے بارسلونا میں کھیلنے آئے تب تک یورپی سرمایہ برازیلی فن کاری سے جیت چکا تھا ـ ایک صحیح آدمی غلط وقت پر آگیا ـ نیمار مگر اپنی دھن میں رہے ـ ان کے ساتھی لیونل میسی یورپی نظم میں ڈھل چکے تھے ـ سواریز بھی یورپی انداز کے اسیر ہوچکے تھے ـ نیمار یورپی نظم میں رہ کر برازیلی شناخت پر ڈٹے رہے ـ آزادی کی یہ لڑائی انہیں مہنگی پڑی ـ بہت ہی مہنگی ـ
ورلڈکپ 2014 ؛ برازیلی اسکواڈ میں واحد کھلاڑی نیمار ہی تھے جو برازیل کی قدیم فٹ بال شناخت کو زندہ رکھے ہوئے تھے ـ دہائیوں بعد برازیل کو ایسا کھلاڑی ملا جو پیلے، گارنشا، روماریو اور رونالڈینہو کا امتزاج تھا ـ ایک غیر معمولی فٹ بالر ـ ان کے ساتھ کوئی گارنشا (پیلے) ، سوکراتیس (زیکو) ، ببیٹو (روماریو) اور رونالڈینہو (رونالڈو) نہیں تھا ـ وہ یکہ و تنہا تھے ـ برازیلی فینز نے اپنی تمام توقعات ان سے وابستہ کرلیں ـ ایک نوجوان کندھوں پر معجزہ دکھانے کا بوجھ ڈال دیا گیا ـ پوری ٹیم ان کے گرد اکھٹی ہوگئی ـ برازیل سے لے کر لیاری کی گلیوں تک یقین کا سورج طلوع ہوا ـ نیمار جونیئر ورلڈکپ جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کریں گے ـ پھر گلیوں میں سامبا رقص ہوگا ـ لیاری میں لیوا کی تھاپ پر جشن ہوگا ـ نیمار امیدوں کا مرکز بن گئے ـ بادلوں کو کچھ اور ہی منظور تھا ـ سانحہ ہوگیا ـ
کولمبیا کے خلاف کوارٹر فائنل میں وہ شدید زخمی ہوگئے ـ ٹیم نے خود کو یتیم محسوس کیا ـ نفسیاتی شکست و ریخت کا یہ عالم تھا کہ جرمنی نے برازیل کی سرزمین پر اسے 7:1 سے شکست دے کر اس ورلڈکپ کو قومی سانحے میں بدل دیا ، ایک دوسرا ’ماراکانازو‘ ـ شاید اس سے بھی بدتر، برازیل کی پوری فٹ بال شناخت دریا بُرد ہوگئی ـ وہ برازیل جس نے دنیا کو گیند سے محبت کرنا سکھایا، اسے ذلت کی گہری کھائی میں دھکیلا جا چکا تھا ـ ہسپتال کے بستر پر لیٹے نیمار رو پڑے ـ ان سے لگائی امیدیں جو خاک ہوگئیں ـ
ہیرو ہسپتال سے اٹھے ـ برازیلی ٹیم نے دوبارہ ان سے توقعات باندھ لیں ـ وہ مگر تنہا ہی رہے ـ برازیل ؛ فن پر سرمائے کی جیت کے بعد، یعنی 2002 کے بعد متوازن ٹیم بنانے میں ناکام رہی ہے ـ تنہا نیمار کیا کر سکتے تھے؟ وہ لڑے، خوب لڑے مگر یورپی نظم و ضبط میں ڈھلی کنفیوژ برازیلی ٹیم ان کے لیے اور نہ ہی ان کے ساتھ کبھی لڑ سکی ـ
برازیلی ٹیم کا بحران نیمار کو لے ڈوبا ـ برازیل الجھا ہوا ہے؛ اگر یورپی انداز اپنایا تو برازیلی شناخت کھو جائے گی، وہ شناخت جس نے اس کو دنیا کی محبوب ترین ٹیم بنایا ـ اگر ’سامبا‘ شناخت پر اصرار کرے تو منظم اور سائنٹفک یورپی ٹیموں سے مقابلہ کرنا ناممکن ہوجائے گا ـ سامبا فٹ بال کے آخری چراغ نیمار کا پورا کیریئر اسی الجھن کی نذر ہوگیا ـ
نیمار جونیئر تھک چکے ہیں ، اس الجھن سے ـ انہوں نے اپنی مٹی سے جڑت کی بھاری قیمت چکائی ہے ـ ورلڈکپ نہ جیتنا اگر ناکامی ہے تو وہ سوکراتیس کے بعد برازیل کے دوسرے ناکام ہیرو ہیں ـ سرمایہ دارانہ فٹ بال کے دور میں جِنگا فٹ بال کو زندہ رکھنے کی جدوجہد کے حوالے سے دیکھا جائے تو وہ غالباً ہمیشہ ایک ہیرو کی صورت یاد رکھیں جائیں گے ـ
ہم نہیں جانتے برازیل اس کشمکش کا کیا حل نکالتا ہے ـ وہ یورپی نظم اور تخلیقی آزادی کو ملا کر ایک نئے فٹ بالی انقلاب کا اعلان کب کرے گا ـ کرے گا بھی یا نہیں؟ معلوم نہیں ـ نیمار مگر اس کشمکش کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ـ
سوکراتیس کے بعد برازیل کا دوسرا عظیم فن کار ، نیمار جونیئر، ٹرافی جیتے بنا چلے گئے ـ نیمار کی شکست مگر سوکراتیس سے منفرد ہے، اس شکست کے ساتھ برازیل کی سو سالہ فٹ بال شناخت بھی معدومی کے خطرے سے دوچار ہوچکی ہے ـ
عہدِ حاضر کے عظیم بازی گر نیمار کی کہانی ادھوری رہ گئی ـ یہ ادھوری کہانی مگر اپنے پیچھے یہ سوال چھوڑ گئی؛ کیا برازیلی سامبا فٹ بال اپنی اصلی شکل میں سرمایہ دارانہ یورپی فٹ بال کے سامنے زندہ رہ سکتی ہے یا سامبا فٹ بال بھی نیمار کے ساتھ چلا گیا ـ
الوداع اے سامبا فٹ بالر۔
__________________________




