انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
”ہر تاریک سرنگ کی ابتدا روشنی سے ہوتی ہے۔“
صبح کی پہلی چائے کے ساتھ لاکھوں لوگ روزانہ کی طرح انسٹاگرام کھولتے ہیں۔ کوئی دوستوں کی تصاویر دیکھتا ہے، کوئی سفر کی ویڈیوز، کوئی کھانوں کی تراکیب، تو کوئی محض وقت گزارنے کے لیے بے مقصد اسکرین پر انگلی پھیرتا رہتا ہے۔ یہ ایک ایسا معمول بن چکا ہے جس پر شاید ہی کبھی کسی کو شک گزرتا ہو۔ آخر چند سیکنڈ کی ویڈیوز، خوبصورت تصاویر اور ہلکی پھلکی تفریح میں خطرہ ہی کیا ہو سکتا ہے؟
لیکن اگر یہی بے ضرر دکھائی دینے والی اسکرولنگ دراصل ایک ایسے نظام کا حصہ ہو جو آپ کی ہر حرکت، ہر توقف، ہر پسند اور ہر کمزوری کو خاموشی سے ریکارڈ کر رہا ہو؟ اگر ہر کلک صرف ایک ویڈیو نہ کھولتا ہو بلکہ آپ کی نفسیات کا ایک نیا صفحہ بھی کھول رہا ہو؟ اور اگر یہی نظام، جو بظاہر آپ کو صرف ”دلچسپ مواد“ دکھا رہا ہے، رفتہ رفتہ آپ کو ایک ایسی دنیا کی طرف دھکیلنے لگے جہاں انسانیت، اخلاقیات اور معصومیت سب کاروبار کی اشیاء بن چکی ہوں؟
یہ کوئی سائنس فکشن نہیں۔ یہی وہ سوال تھا جس نے بی بی سی کی تحقیقاتی ٹیم کو دنیا کے سب سے طاقتور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں سے ایک، انسٹاگرام، کی اندرونی ساخت کا جائزہ لینے پر مجبور کیا۔ یہ سوال بظاہر سادہ تھا، لیکن اس کا جواب ہمیں اس ڈیجیٹل عہد کے سب سے تاریک گوشوں تک لے جانے والا تھا۔
تجربے کا آغاز اور ’بے حس مشین‘
تحقیقات کا آغاز کسی خفیہ ہیکنگ، کسی لیک ہونے والی فائل یا کسی مخبر سے نہیں ہوا۔ اس کے لیے صرف ایک بالکل نیا موبائل فون خریدا گیا۔ اس فون میں نہ کوئی پرانا گوگل اکاؤنٹ تھا، نہ سرچ ہسٹری، نہ کوکیز اور نہ ہی کسی سابقہ دلچسپ کا ڈیجیٹل نشان۔ مقصد صرف یہ تھا کہ دیکھا جائے، ایک بالکل نئے صارف کے ساتھ انسٹاگرام کا الگورتھم کس طرح برتاؤ کرتا ہے۔
ابتدا انتہائی معمولی تھی۔ کسی سیاسی صفحے کو فالو نہیں کیا گیا، کسی متنازع شخصیت کو نہیں، صرف چند عام اکاؤنٹس کی روزمرہ زندگی، کھانا پکانے کی ویڈیوز اور چند ایسی مختصر ویڈیوز (ASMR) دیکھی گئیں جن میں سرگوشی جیسی ہلکی آواز ہوتی ہے، جن کا مقصد دیکھنے والے کو ایک ہلکا سا ذہنی سکون دینا ہوتا ہے۔ لاکھوں صارفین روزانہ اسی قسم کا مواد دیکھتے ہیں۔ بظاہر اس میں کوئی ایسی بات نہیں تھی جو خطرے کی گھنٹی بجا سکے۔
لیکن اسکرین کے دوسری جانب ایک اور کہانی لکھی جا رہی تھی۔ ہر ویڈیو پر چند اضافی سیکنڈ رکنا، کسی پوسٹ کو دوبارہ دیکھنا، انگلی کی رفتار، ویڈیو مکمل دیکھنے یا درمیان میں چھوڑ دینے جیسے معمولی اعمال بھی الگورتھم کے لیے معلومات تھے۔ وہ یہ نہیں دیکھ رہا تھا کہ صارف نے کیا دیکھا؛ وہ یہ سیکھ رہا تھا کہ صارف کیسا انسان ہے، کس چیز پر رکتا ہے، اور اسے مزید کس سمت دھکیلا جا سکتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سوشل میڈیا صرف ایک پلیٹ فارم نہیں رہتا، بلکہ انسانی توجہ کی معیشت (Attention Economy) کا حصہ بن جاتا ہے۔ ڈیجیٹل معیشت میں اصل سرمایہ آپ کی ذاتی معلومات بھی نہیں ہوتیں؛ اصل سرمایہ آپ کا وقت ہوتا ہے۔ جتنا زیادہ وقت آپ کسی ایپ پر گزارتے ہیں، اتنے زیادہ اشتہارات آپ دیکھتے ہیں، اور جتنا منافع کمپنی کماتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ممتاز ٹیک ماہرین سوشل میڈیا فیڈ کو ”لامتناہی سرنگ“ کہتے ہیں، جس کا کوئی اختتام نہیں ہوتا۔ آپ ایک ویڈیو ختم کرتے ہیں تو دوسری خود بخود سامنے آ جاتی ہے۔ یہ اتفاق نہیں ہوتا، یہ ایک ریاضیاتی فیصلہ ہوتا ہے۔ الگورتھم مسلسل یہ اندازہ لگا رہا ہوتا ہے کہ اگلی کون سی چیز آپ کو مزید چند سیکنڈ کے لیے روک سکتی ہے۔
جب بچوں کا استحصال ایک ڈیجیٹل منڈی بن گیا
اسی فلسفے کے تحت چند دنوں کے اندر انسٹاگرام کی فیڈ بدلنا شروع ہوئی۔ پھلوں کے رس نکالنے والی ویڈیوز کم ہونے لگیں اور ان کی جگہ زیادہ اشتعال انگیز، نیم برہنہ تصاویر اور جسمانی کشش رکھنے والا مواد آنے لگا۔ یہاں تک بھی شاید بہت سے لوگ اسے سوشل میڈیا کی عام خرابی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے، لیکن اصل ہولناک مرحلہ ابھی شروع ہونا تھا۔
کیونکہ اچانک ان ویڈیوز کے درمیان ایسے Paid Advertisements (تجارتی اشتہارات) نمودار ہونے لگے جنہیں دیکھ کر بی بی سی کی تحقیقاتی ٹیم بھی چند لمحوں کے لیے خاموش رہ گئی۔ یہ عام صارفین کی پوسٹس نہیں تھیں، یہ وہ اشتہارات تھے جن کے لیے باقاعدہ رقم ادا کی گئی تھی تاکہ یہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکیں، اور میٹا نے وہ پیسے وصول بھی کیے تھے۔
انسٹاگرام اب صرف مواد دکھانے والا پلیٹ فارم نہیں رہا تھا؛ وہ ایک ایسا دروازہ بن چکا تھا جو صارف کو چند سیکنڈ کے اندر اندر ان نیٹ ورکس تک پہنچا دیتا ہے جہاں کم عمر بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد کی خرید و فروخت جاری تھی۔ تحقیقات کے مطابق، اکثر اشتہارات کا اختتام ٹیلی گرام کے لنکس پر ہوتا تھا، جہاں مختلف بوٹس، چینلز اور گروپس اس طرح ترتیب دیے گئے تھے جیسے کسی ای کامرس ویب سائٹ پر مصنوعات کی فہرست موجود ہو۔ وہاں انسان نہیں، سامان فروخت ہو رہا تھا اور اس کے لیے باقاعدہ ایک لفظ استعمال کیا جا رہا تھا: ”مینو!“
بی بی سی کی رپورٹ میں بعض اشتہارات کے متن اس قدر ہولناک تھے کہ ان کی مکمل تفصیل دہرانا بھی مناسب نہیں۔ ان میں اسکول یونیفارم پہنے بچوں کی تصاویر اور کوڈ ورڈز کے ذریعے کم عمر بچوں کے استحصال کو ایک تجارتی پیشکش کی صورت دی گئی تھی۔ یہ سب کچھ کسی پوشیدہ ویب سائٹ یا ڈارک ویب پر نہیں ہو رہا تھا، یہ دنیا کے مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر، اشتہارات کی شکل میں، صارفین کے سامنے آ رہا تھا۔
جرم کی معیشت اور طلب و رسد کا اصول
یہ صورتحال صرف مغرب تک محدود نہیں، بلکہ گلوبل ساؤتھ اور خاص طور پر ہمارے خطے میں بھی اس کے اثرات اتنے ہی بھیانک ہیں۔ اس کی تصدیق بھارت کے شہر حیدرآباد کی سائبر کرائم پولیس کی سربراہ شیکھا گوئل کے بیانات سے ہوتی ہے۔ ان کے مطابق بچوں کے جنسی استحصال کے مواد کو صرف بنانا یا پھیلانا ہی جرم نہیں، بلکہ اسے دیکھنا بھی اس پورے نظام کو زندہ رکھنے کا حصہ ہے۔
ان کا استدلال سادہ مگر بے حد اہم ہے: ہر ویڈیو کے پیچھے ایک حقیقی بچہ ہے۔ ہر خریداری اس مجرم کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اس کے لیے بازار موجود ہے۔ اور جب بازار موجود ہو تو رسد ختم نہیں ہوتی۔ یہی معاشیات کا وہ اصول ہے جسے ماہرین طلب اور رسد (Demand and Supply) کہتے ہیں۔ جس دن طلب ختم ہوگی، اسی دن اس کاروبار کی بنیادیں بھی ہلنا شروع ہو جائیں گی۔
تحقیقات میں ایک اور تلخ حقیقت سامنے آئی کہ بعض مواد محض چند درجن بھارتی روپے میں دستیاب تھا۔ ایک ایسے دور میں جب دنیا مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگ کی بات کر رہی ہے، وہاں انسانی معصومیت کی قیمت چند سکوں تک گر جانا ہماری اجتماعی اخلاقی ناکامی کا استعارہ ہے۔ گرفتار ہونے والے بہت سے افراد یہ دفاع پیش کرتے ہیں کہ ”ہم نے صرف ویڈیو دیکھی تھی، کسی بچے کو نقصان نہیں پہنچایا۔“ لیکن قانونی اور اخلاقی اعتبار سے اس کی کوئی حیثیت نہیں، کیونکہ ہر ’ویو‘ اور ہر کلک اس منڈی میں نئی سرمایہ کاری کرتا ہے۔
کارپوریٹ منافع بمقابلہ تحفظ: میٹا کے اندر کی کہانی
یہاں ایک بنیادی سوال پوچھنا ضروری ہے کہ کیا واقعی میٹا کا مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام اتنا کمزور ہے کہ وہ ایسے اشتہارات کو پہچان ہی نہیں سکتا؟ یا مسئلہ صلاحیت کا نہیں بلکہ ترجیح کا ہے؟
اگر ایک کمپنی کا الگورتھم دنیا کے کسی بھی کونے میں کاروبار کرنے والوں کو ان کا موزوں ترین خریدار تلاش کر سکتا ہے، اگر وہ یہ جان سکتا ہے کہ کس شخص کو کس رنگ کی قمیض، کس برانڈ کا جوتا یا کون سا کھانا پسند ہے، تو پھر یہی نظام بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی اشتہارات کو کیوں نہیں پہچان پاتا؟
اس سوال کا جواب میٹا کے سابق نائب صدر برائن بولینڈ کے انکشافات میں ملتا ہے، جنہوں نے کمپنی میں 11 برس گزارے اور اس کے اشتہاری نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ بولینڈ نے انسٹاگرام کے موجودہ نظام کو ایک ”بے حس اور لاپرواہ مشین“ (Careless Machine) کا نام دیا۔ ان کے مطابق الگورتھم کسی بچے اور کسی تجارتی شے کے درمیان اخلاقی فرق محسوس نہیں کرتا۔ اس کے لیے ہر چیز محض ڈیٹا ہے، ہر صارف ایک میٹرک ہے اور ہر کلک ایک آمدنی۔ مشین یہ فیصلہ نہیں کرتی کہ کون سا مواد اچھا ہے اور کون سا برا، وہ صرف یہ سیکھتی ہے کہ کون سا مواد لوگوں کو زیادہ دیر تک اسکرین سے جوڑے رکھتا ہے۔
برائن بولینڈ نے ایک تاریخی واقعہ بھی بیان کیا کہ 2009 اور 2010 کے درمیان جب فیس بک پر دھوکہ دہی اور جعلی ادویات کے اشتہارات کی بھرمار ہوئی، تو مارک زکربرگ نے کمپنی کی آمدنی میں کمی برداشت کر کے ان اشتہارات کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ مثال ثابت کرتی ہے کہ جب کمپنی چاہے تو وہ اپنی ترجیحات بدل سکتی ہے، لیکن بولینڈ کے مطابق آج صورتحال مختلف ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں حفاظتی ٹیموں، انسانی نگرانی اور اعتماد و سلامتی (Trust & Safety) کے شعبوں میں مسلسل کٹوتیاں کی گئی ہیں، جبکہ توجہ زیادہ تر کاروباری توسیع پر مرکوز ہو چکی ہے۔
مزید برآں، یہ حفاظتی نظام دنیا کے ہر خطے میں یکساں نہیں۔ امریکہ اور یورپ میں مواد کی نگرانی اور قانونی دباؤ نسبتاً زیادہ مضبوط ہے، لیکن ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ جیسے خطے — جنہیں مجموعی طور پر گلوبل ساؤتھ کہا جاتا ہے — اکثر اسی سطح کی حفاظتی سرمایہ کاری سے محروم رہتے ہیں، حالانکہ میٹا کے سب سے بڑے صارفین انہی ممالک میں رہتے ہیں۔ یہ ڈیجیٹل انصاف (Digital Justice) پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
بچپن کا صدمہ خود اعتمادی کو کیسے نقصان پہنچاتا ہے اور اسے کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے؟
سیف ہاربر اور قانونی خلا کا فائدہ
موجودہ دور میں سوشل میڈیا کمپنیاں ایک قانونی ہتھیار کا استعمال کرتی ہیں جسے ”سیف ہاربر“ (Safe Harbor) کہا جاتا ہے۔ اس اصول کے تحت اگر کوئی پلیٹ فارم صرف ایک ”درمیانی ذریعہ“ (Intermediary) ہے، تو صارفین کے اپ لوڈ کردہ مواد کا قانونی ذمہ دار اسے نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
لیکن بی بی سی کی اس تحقیق میں بھارت کے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مدن بی لوکور نے ایک نہایت اہم قانونی نکتہ اٹھایا۔ ان کے مطابق، جب کوئی کمپنی کسی اشتہار کے لیے باقاعدہ رقم وصول کرتی ہے، پھر اپنے الگورتھم کی مدد سے یہ طے کرتی ہے کہ وہ اشتہار کن مخصوص لوگوں تک پہنچے گا، تو وہ صرف ایک غیر جانبدار ذریعہ نہیں رہتی۔ وہ اس پورے عمل میں ایک فعال اور کاروباری شراکت دار بن جاتی ہے۔
تحقیقات کے اختتامی مرحلے میں جب بی بی سی کی ٹیم نے میٹا انڈیا کے سربراہ ارون سری نواس سے ایک عوامی تقریب میں ان اشتہارات کی موجودگی اور ذمہ داری کے بارے میں سوال پوچھا، تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی سے وہاں سے چلے گئے۔ صحافت میں بعض اوقات وہ خاموشی سب سے بڑی خبر ہوتی ہے جو مقتدر حلقوں کے گریز سے پیدا ہوتی ہے۔
ڈیجیٹل نوآبادیات اور بچوں کا غیر محفوظ مستقبل
یہ ہولناک صورتحال صرف کسی ایک ایپ، انسٹاگرام یا میٹا تک محدود نہیں۔ یہ دراصل اس پورے ڈیجیٹل معاشی ماڈل کا بنیادی نقص ہے جہاں انسانی توجہ (Attention) کو ایک جنس اور صارف کو محض ایک پروڈکٹ بنا دیا گیا ہے۔ اگر ہم گہرائی میں جا کر دیکھیں تو دیگر مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی بچوں کے لیے اتنے ہی غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔
مثال کے طور پر، ٹک ٹاک (TikTok) کا الگورتھم بچوں کو کم عمری ہی میں ایسی لامتناہی اور سنسنی خیز ویڈیوز کی لت میں مبتلا کر دیتا ہے جو ان کی ذہنی نشوونما کو شدید متاثر کرتی ہیں، جبکہ وہاں بھی نامناسب مواد کی فلٹرنگ کا نظام انتہائی کمزور ہے۔ یوٹیوب (YouTube) پر بظاہر بچوں کے کارٹونز کے بیچ ایسے غیر اخلاقی اور خوفناک اشتہارات یا ویڈیوز گھسا دی جاتی ہیں جنہیں ”ایلسا گیٹ“ (Elsagate) جیسے اسکینڈلز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسی طرح اسنیپ چیٹ (Snapchat) کے غائب ہو جانے والے میسجز (Disappearing Messages) کے فیچر کو آن لائن بلیک میلرز اور جنسی شکاری (Predators) بچوں کو ورغلانے اور انہیں جال میں پھنسانے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
جدید دنیا نے بچوں کو سڑکوں کے حادثات اور بیرونی دنیا کے مجرموں سے بچانے کے لیے تو چار دیواری اور قوانین بنا لیے، لیکن ہم نے اپنے ہی ہاتھوں سے انہیں اسکرین کی شکل میں ایک ایسے چور دروازے کے پاس بٹھا دیا ہے جہاں سے دنیا بھر کے مجرم براہِ راست ان کے بیڈ روم تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ دراصل ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ ایک ایسا عہد جس میں انسان نے ایسی ذہین مشینیں تو ایجاد کر لیں جو اس کی عادتیں، خواہشیں اور کمزوریاں حیران کن درستگی سے سمجھ سکتی ہیں، لیکن ہم ابھی تک یہ طے نہیں کر سکے کہ ان مشینوں کو کس اخلاقی حد کے اندر کام کرنا چاہیے۔ ٹیکنالوجی کبھی بھی اپنی ذات میں اخلاقی یا غیر اخلاقی نہیں ہوتی؛ اسے پشت پر موجود کارپوریٹ ہوس اور انسانی مقاصد ہولناک بناتے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومتیں، عالمی عدالتیں، ٹیکنالوجی کمپنیاں اور خود ہم بطور معاشرہ مل کر یہ طے کریں کہ کیا ہمارے بچوں کا تحفظ اور معصومیت کسی بھی کارپوریٹ منافع سے زیادہ مقدم ہے؟ یا پھر ہم نے خاموشی سے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ ڈیجیٹل سرمایہ داری کے اس بازار میں ہر نئی نسل کو الگورتھم کے رحم و کرم پر چھوڑنا ہی ہماری تقدیر ہے؟
جب تک ہم اس سوال کا جواب نہیں ڈھونڈتے، ہر نیا الگورتھم، ہر نئی ٹیکنالوجی اور ہر اگلی اسکرین انسانیت کے زوال کی نئی داستان لکھتی رہے گی۔ فیصلہ اب کسی مشین کو نہیں، خود انسان کو کرنا ہوگا کہ کیا اس نے یہ دنیا مشینوں کو چلانے کے لیے بنائی ہے، یا انسانوں کو بچانے کے لیے؟
___________________________
موبائل فون کی اسکرین پر اسکرولنگ کرتے ہوئے آپ کا انگوٹھا روزانہ کتنا فاصلہ طے کرتا ہے؟