Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

اصل فاتح کون ہوتا ہے؟

By Akhtar Rasool
مارچ 7, 2023 4 Min Read
0

تاریخ میں جب بھی جنگوں کا ذکر آتا ہے تو ان میں فاتحین یا تو بادشاہ ہوتا ہے یا فوجی جرنل۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تاریخ میں عام فوجیوں کو فاتح قرار دیا جائے کیونکہ بادشاہ یا جرنیل گھمسان کی جنگ میں حصہ نہیں لیتے تھے

عام طور پر ایسا تاثر دیا جاتا ہے کہ جنگ میں فتح بادشاہ یا فوجی جرنل کی حکمت عملی سے ہوئی تھی۔ لیکن وہ عام فوجی جنہوں نے لڑائی میں حصہ لیا تھا زخمی ہوئے تھے اور مارے گئے تھے، ان کا ذکر تاریخ میں نہیں آتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ لکھ دیا جاتا ہے کہ جنگ میں دس ہزار یا پندرہ ہزار فوجی مارے گئے۔ جنگ کی فتح میں ان کو شریک نہیں کیا جاتا ہے

اگر ان فوجیوں کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ فوجی خدمت کے دوران انہوں نے کتنی تکلیفیں برداشت کی تھیں اور زندگی کی بے شمار سہولتوں سے محروم رہے تھے۔ مثلاً یونان جب کسی ملک پر حملہ کرتا تھا تو فوجی لشکر دور دراز کے علاقوں میں جا کر جنگ کرتے تھے۔ یہ اپنے گھر اور خاندان سے جدا ہو جاتے تھے۔ مہینوں اور سالوں ان سے کوئی رابطہ نہیں رہتا تھا۔ جب لشکر واپس آتا تھا تو اس وقت ان کے گھر والوں کو پتہ چلتا تھا کہ ان کے مرد زندہ ہیں یا مارے گئے۔ اس کی ایک مثال ٹرائے کی جنگ ہے، جس کے بعد جب یونانی فوجی واپس آئے تو انہیں بدلی ہوئی دنیا ملی

فوجیوں کی زندگی کا یہ سلسلہ پوری تاریخ میں جاری رہا۔ اگرچہ جنگیں حکمران طبقے کے مفادات میں ہوتی تھیں مگر عام فوجیوں کو کبھی مذہب اور کبھی عزت اور غیرت کے نام پر قربان کر دیا جاتا تھا۔ اہل اسپارٹا عزت کے نام پر جنگ میں لڑتے ہوئے مرنا پسند کرتے تھے اور فرار ہونا ان کی بے عزتی ہوتی تھی۔ ہندوستان میں راجپوت جب اپنی شکست دیکھتے تھے تو جوہر کی رسم ادا کرتے تھے۔ اپنے بیوی بچوں کو قتل کر کے زعفرانی لباس پہن کر مرتے دم تک لڑتے تھے

جب یورپی ملکوں نے ایشیا اور افریقہ میں فتوحات کیں تو ان کے فوجی بھی سات سمندر پار کر کے یہاں آئے۔ ان ملکوں کی آب و ہوا ان کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ موسم کی سختیوں اور وباؤں نے ان کی جانیں لے لیں، مگر اُن کی قربانیوں کی بدولت یورپ کے سامراجی ملکوں نے اپنا سیاسی تسلط قائم کیا اور مقبوضہ کالونیز اور ذرائع کو لوٹا۔ اس لوٹ کا زیادہ حصہ حکمران طبقوں میں آیا اور عام فوجیوں کو تھوڑا بہت دے کر ان پر احسان کیا گیا

تاریخ میں اسکندر اور جولیس سیزر کو گریٹ بنانے کے عمل میں عام فوجیوں کا حصہ تھا، جنہوں نے جنگیں لڑ کر فتوحات کو ان سے منسوب کر دیا۔ 1812ء میں جب نپولین نے ایک بڑی فوج اکٹھی کر کے روس پر حملہ کیا۔ وہ ماسکو تک تو پہنچ گیا مگر جب روس نے ہتھیار نہیں ڈالے تو وہ واپس پلٹا لیکن شدید برف باری اور روسی فوج کے حملوں نے اس کے لشکر کو تباہ و برباد کر دیا۔ فوج کو دشمن کے نرغے میں چھوڑ کر واپس آ گیا۔ 1814ء اور 1815ء میں جب اسے دوبارہ یورپی ملکوں سے جنگیں لڑنا پڑیں تو اس نے زبردستی صحت مند جوانوں کو فوج میں بھرتی کیا

انگلستان میں بھی یہ دستور تھا کہ لوگ بحریہ کی ملازمت سے دور بھاگتے تھے۔ کیونکہ جہاز کی زندگی انتہائی تکلیف دہ تھی۔ کھانے پینے کی مشکلات تھیں۔ ذرا سی غلطی پر سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ بحری جنگوں میں مرنے والوں کو سمندر میں پھینک دیا جاتا تھا۔ اس وجہ سے نوجوانوں کو اغوا کر کے جہازوں پر لے جاتے تھے، جہاں سے فرار ہونا بھی ممکن نہیں تھا۔ عام سیلرز کو اس قربانی کا کوئی صلہ نہیں ملتا تھا

پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے دوران ہندوستان کی انگریز حکومت نے جاگیرداروں کی مدد سے گاؤں کے صحت مند نوجوانوں کو زبردستی فوج میں بھرتی کروایا اور پھر انہیں یورپ میں جنگی محاذوں پر بھیج دیا۔ پہلی عالمی جنگ میں یہ فوجی خندقوں میں رہ کر جنگ کرتے تھے۔ سرد موسم اور بارش کی وجہ سے خندوں میں پانی بھر جاتا تھا۔ ہندوستان کے فوجیوں کے لیے یہ آب و ہوا ناقابل برداشت تھی۔ جنگ میں مرنے والے ہندوستانی فوجیوں کو وہیں دفن کر دیا گیا۔ ان کے خاندان والوں کو بعد میں اطلاع ملی کہ وہ زندہ نہں رہے ۔ یہ وہ جنگ تھی کہ جس سے ہندوستانیوں کو کوئی واسطہ نہ تھا۔ انگلستان کی حکومت نے انہیں اپنے سیاسی مفادات کی خاطر استعمال کیا

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عام لوگ کیوں فوجی service اختیار کرتے تھے اور کیوں وہ حکمران طبقوں کے مفادات کی خاطر جانیں دیتے تھے۔ جدید دور میں قوم پرستی اور وطن کے نام پر لوگوں کے جذبات کو اُبھارا جاتا تھا۔ ان میں بہادری اور شجاعت کے جذبات پیدا کرنے کے لیے جنگ میں کارنامے سرانجام دینے پر تمغے دیے جاتے تھے۔ جیسے برطانیہ وکٹورین کراس کا تمغہ کسی بہادر جنگجو کو دیتی تھی۔ اس کے علاوہ چونکہ فوجیوں کی بڑی تعداد جنگ میں جان دے دیتی تھی۔ اس لیے ان کی یاد میں یادگاریں تعمیر کرتے تھے اور ایک انجانے سولجر کا مجسمہ بنا کر اسے بطور علامت مرنے والے فوجیوں کا نمائندہ کہہ کر اس پر پھول نچھاور کرتے تھے

ضرورت اس بات کی ہے کہ تاریخ میں عام فوجیوں کو فاتح قرار دیا جائے کیونکہ بادشاہ یا جرنیل گھمسان کی جنگ میں حصہ نہیں لیتے تھے۔ یہ عام فوجی ہوتے تھے، جو بہادری سے لڑتے ہوئے حکمرانوں کو فتح یاب کرتے تھے۔ انہیں فتح کی کامیابی میں شریک کرنا ضروری ہے تاکہ وہ محض گمنام فوجی نہ رہیں اور اجتماعی طور پر ان کے کارناموں کو تاریخ کا حصہ بنا کر انہیں عزت و عظمت دینا بھی ضروری ہے۔

بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

american idol winneridol winnerlottery winnerlottery winnersmillion dollar winnerpowerball winnerrealreal madrid champions league winnerthe realthe royal familyThe Voicethe winner takes it allthe winner takes it all gleethe winner takes it all hdthe winner takes it all karaokethe winner takes it all livethe winner takes it all lyricsthe winner takes it all official videothe winner takes it all videowinnerwinning the lottery
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ماحولی تباہی کا دَیو اور اسے بچہ سمجھ کر جُھنجھنا بجاتی دنیا۔۔

Next

تاریخ کی درست تشریح کیوں ضروری ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme