Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

یورپی سامراج کے اندھیرے

By Akhtar Rasool
اپریل 17, 2023 4 Min Read
0

اٹھارہویں صدی میں سفید فام نسل پرستی کے نظریات اپنے عروج پر پہنچ گئے تھے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے یورپی تہذیب نے ترقی کر لی تھی۔ یورپی ملکوں کی تجارتی کمپنیاں ایشیا اور یورپ میں اپنی پیداوار کو منڈیوں میں بھیج کر سرمایہ جمع کر رہے تھے۔ آپس میں مختلف جنگوں کے بعد انہوں نے مہلک ہتھیار بھی تیار کر لیے تھے۔ ان کے سیاستدان اور دانشور سفید فام نسل کی برتری کے قائل تھے، اس لیے جب یہ رنگ کی بنیاد پر دوسری قوموں سے اپنا موازنہ کرتے تھے تو انہیں غیر مہذب اور کمتر سمجھتے تھے۔ نسل پرستی کے ان خیالات کا اظہار Arthur de Gobineau نے اپنی کتاب The Inequality of Human Races میں کیا۔ لہٰذا یورپی اقوام خود کو مہذب اور ترقی یافتہ سمجھتے ہوئے ایشیاء اور افریقہ کی اقوام پر حکومت کرنا جائز سمجھتی تھیں۔ اس لئے انہوں نے تہذیب کو سامراجی مقاصد کے لیے استعمال کیا

دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ لندن کی آبادی میں بے حد اضافہ ہو گیا تھا۔ جس کی وجہ سے بے روزگار اور فقیر لندن کی سڑکوں پر جمع ہو کر بھیک مانگتے تھے اور امراء کی گاڑیوں کو گھیر لیتے تھے۔ اس لیے امراء کے اصرار پر ان لوگوں کی وجہ سے شہر میں صفائی نہیں رہی تھی اور گندگی کے ڈھیر ہر طرف نظر آتے تھے، جس کی وجہ سے اُن کے لیے شہروں میں آنا دشوار ہو گیا تھا۔ اس پر انگلستان کی حکومت نے پہلا کام یہ کیا کہ ان بے روزگار غریبوں کو زبردستی جہازوں میں بھر کر امریکہ بھیج دیا۔ اس کی تفصیل نینسی برگر نے اپنی کتاب The 400-Year Untold History of Class in America White Trash: میں دی ہے

دوسرا کام انہوں نے یہ کیا کہ معمولی جرائم کی سزا میں لوگوں کو آسٹریلیا جلاوطن کر دیا۔ جہاں اُن سے محنت و مشقت کرائی۔ لیکن ابھی بھی غریب اور بے روزگار لوگوں کی کافی تعداد موجود تھی۔ ایک دن جب Cecil Rhodes (d.1902) ہجوم کو دیکھا تو اس نے یہ عہد کیا کہ وہ ان لوگوں کے لیے زمینیں لے کر انہیں افریقہ میں آباد کرے گا تاکہ وہ خوشگوار زندگی گزار سکیں۔ اس مقصد کے لیے اس نے رہوڈیشیا کا شہر آباد کیا اور افریقی باشندوں کی زمینوں پر سفید فام باشندوں کو وہاں آباد کیا

آزادی کے بعد رہوڈیشیا کا نیا نام زمبابوے ہوا اور نئی حکومت نے کوشش کی کہ سفید فام لوگوں سے زمینیں واپس لے کر مقامی افریقیوں کو دی جائیں۔ انگلستان کے اکثر دانشوروں اور سیاستدانوں کا یہ خیال تھا کہ اگر زائد آبادی کو کالونیز میں منتقل نہیں کیا گیا تو اس کے نتیجے میں یہاں خانہ جنگیں شروع ہو جائے گی۔ زائد آبادی کو منتقل کرنے کا سب سے عمدہ خطہ افریقہ تھا۔ اس کے بارے میں یورپی دانشوروں اور سیاستدانوں کا خیال تھا کہ یہ ’تاریک براعظم‘ ہے۔ اس کی نہ تو کوئی تاریخ ہے اور نہ تہذیب۔ اس لیے یہ لوگ انسانیت کے درجے سے گرے ہوئے ہیں۔ اس لیے ان کا وجود زمین پر ایک بوجھ ہے۔ کچھ دانشوروں نے یہ تجویز پیش کی کہ ان کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے۔ اور یہ کام جتنی جلدی ہو سکے کیا جائے۔ مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو ختم کر کے ان کی زمینوں پر قبضہ کیا جائے۔ اس لیے یورپی سامراجی ملکوں نے افریقی قبائل کا قتل عام کر کے وہاں سفید فام آباد کاروں کو منتقل کیا۔

پیٹرک برینٹلنگر Patrick Brantlinger نے اپنی کتاب Rule of Darkness میں اس کی تفصیل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی آزادی کے بعد اور غلامی کے خاتمے کے بعد برطانوی سامراج کو نئی کالونی کی ضرورت تھی۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے نسل پرستی کے نظریات نے اہم کردار ادا کیا۔ برطانوی نوآبادیاتی افسر کے مطابق جہاں جہاں برطانیہ کی کالونیاں ہیں وہاں مقامی باشندوں کی حفاظت کرنا ضروری نہیں بلکہ انھیں قتل کر کے اُن کے نسل کا صفایا کرنا چاہیے

ایک برطانوی دانشور Knox نے دلیل دی کہ سفید فام اقوام ذہین اور برتر جبکہ افریقی ابتداء ہی سے نااہل اور غلام رہے ہیں، لہٰذا ان کو مہذب بنانے کا عمل بے کار ہے۔ اس کا ایک ہی حل ہے کہ ان کو چُن چُن کر قتل کر دیا جائے کیونکہ یہ فطرت کا اصول ہے۔ John Stuart Mill نے اپنی کتاب Liberty میں یہ دلیل دی ہے کہ ہندوستانیوں اور کمتر اقوام کے لیے آزادی نہیں ہونی چاہیے۔ John Stuart Mill جس نے ہسٹری آف برٹش انڈیا لکھی ہے، اس کے نظریے کے مطابق کمتر اقوام کے لیے جمہوریت اور آزادی کی ضرورت نہیں ہے۔ انیسویں صدی کے برطانوی دانشوروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی زائد آبادی کو کالونیوں میں بسا دینا چاہیے، کیونکہ جو قومیں اپنے فطری ذرائع کو استعمال کرنے کی اہل نہیں ہیں، انہیں یہ حق سفید فام آباد کاروں کو دینا چاہیے کہ وہ زراعت اور صنعت میں ترقی کریں اور فطری ذرائع کا استعمال کرکے سرمائے میں اضافہ کریں۔ اس صورت میں مقامی لوگوں کا کام ان کی نگرانی میں محنت اور مشقت ہونا چاہیے۔

بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

18th century19th century19th century europe19th century history19th century imperialism19th century imperialism and the second industrial revolution19th century imperialism eb!african and asian responses to imperialismage of imperialismap european historychampions league imperialismcollege imperialismeuropeaneuropean historyeuropean imperialismeuropean imperialism class 11 historyeuropean responses to imperialismfifa 23 imperialismfifa champions league imperialismfifa imperalismfifa imperialismfootball imperialismimperalismImperialismimperialism in fifaimperialism in fifa 23imperialism nbaimperialism nflmadden imperialismnationalism and imperialismnba 2k imperialismnba imperialismnew imperialismnfl imperialismnineteenth century europenineteenth century imperialismworld cup imperialism
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ہمارے جسم کا ’سرکیڈیئن کلاک‘ اور نیند کا صحت سے تعلق، جن کا جاننا بہت ضروری ہے

Next

ہم طوطا فال نکالنے والی ریاست بن چکے ہیں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme