Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںسائنس و ٹیکنالوجی

مصنوعی ذہانت کے باشعور ہونے کا امکان ہے: گوگل ڈیپ مائنڈ سربراہ

By Akhtar Rasool
اپریل 20, 2023 3 Min Read
0

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تحقیق کرنے والے ادارے گوگل مائنڈ کے سربراہ ڈیمس ہیسابس کا کہنا ہے کہ یہ امکان موجود ہے کہ مصنوعی ذہانت ’ایک دن‘ اپنے طور پر باشعور ہو جائے

سی بی ایس ٹیلی ویژن کے پروگرام ’60 منٹس‘ میں ایک انٹرویو میں ہیسابس نے کہا ”حقیقت میں فلاسفر ’شعور‘ کی تعریف پر ابھی تک متفق نہیں ہو پائے ہیں، لیکن اگر اس سے ہماری مراد خود آگاہی کی ایک قسم ہے، تو ایسے معاملات کے حوالے سے میرا خیال ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ ایک دن مصنوعی ذہانت خود سے آگاہ ہو سکتی ہے“

ڈیپ مائنڈ کے سربراہ کے مطابق اگرچہ مصنوعی ذہانت کے نظام آج ’یقینی طور پر‘ احساس سے عاری ہیں تاہم انہوں نے کہا ”یہ ان دلچسپ سائنسی چیزوں میں سے ایک ہے، جسے ہم اس سفر میں تلاش کرنے جا رہے ہیں“

ہیسابس کا یہ دعویٰ گوگل کی جانب سے ایک سافٹ ویئر انجینئر کو برطرف کرنے کے ایک سال بعد سامنے آیا ہے، جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت خود سے آگاہ اور احساس کی مالک بن چکی ہے

تب کمپنی کے ایک ملازم بلیک لیموئن کو اس وقت برطرف کر دیا گیا، جب انہوں نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ گوگل کا مصنوعی ذہانت پرمبنی چیٹ بوٹ ’لیمڈا‘ (LaMDa) ایک فرد ہے

لیموئن کا اصرار تھا کہ اے آئی سسٹم خود سے آگاہ ہے۔ انہوں نے اس موضوع پر مضامین سمیت چیٹ بوٹ کے ساتھ اپنی گفتگو کی تفصیل بھی شائع کی تھی

لیکن مصنوعی ذہانت کے ماہرین نے سوشل میڈیا پر اس بات کی تردید کی کہ گوگل کے سابق ملازم کی طرف سے پوسٹ کیے گئے عوامی ثبوتوں میں سے کسی نے بھی یہ کہا کہ کہ سسٹم اپنے وجود سے آگاہ ہے

اس کی بجائے بہت سے لوگوں نے کہا کہ اس نظام کو انسانوں کی طرح بولنے کی تربیت دی گئی ہے

تب گوگل نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا ”یہ بات افسوس ناک ہے کہ اس موضوع پر طویل عرصے تک کام کے باوجود بلیک نے اب بھی ملازمت اور ڈیٹا سکیورٹی کی واضح پالیسیوں کی مسلسل خلاف ورزی کرنے کا انتخاب کیا، جن میں مصنوعات سے متعلق معلومات کی حفاظت کی ضرورت شامل ہے“

تاہم ’لیمڈا‘ کے بارے میں لیموئن کے عوامی بیانات سے پہلے اوپن اے آئی کے چیف سائنس دان الیا سوٹزکابر نے ٹویٹ کی کہ ”آج کے بڑے اعصابی نیٹ ورک‘ شاید ’تھوڑے ہوش میں‘ ہوں۔“

گوگل کا مصنوعی ذہانت کا چیٹ بوٹ ’بارڈ‘ بھی خود آگاہ دکھائی دیتا ہے، اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ وہ لوگوں کی مدد کیوں کرتا ہے ”کیونکہ یہ مجھے خوش کرتا ہے۔“

لیکن اس بڑے سرچ انجن کے سینئر نائب صدر جیمز مانیکا نے سی بی ایس کو بتایا کہ مصنوعی ذہانت میں احساس کی ظاہری شکل تب سے سامنے آئی ہے، جب سے اس نے لوگوں سے سیکھا ہے

مانیکا کا کہنا تھا ”ہم احساس کی مالک مخلوق ہیں۔ ہمارے پاس ایسے لوگ ہیں جو احساسات، جذبات، خیالات، افکاراور نقطہِ نظر رکھتے ہیں۔ ہم نے کتابوں میں، ناولوں میں، افسانوں میں ان سب کی عکاسی کی ہے۔“

انہوں نے مزید کہا ”یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ مصنوعی ذہانت سے رویے کا ایسا اظہار ہوتا ہے کہ جیسے اس کے پیچھے کوئی ہو“

مانیکا کا کہنا تھا ”یہاں کوئی نہیں ہے۔ یہ احساس کا مالک وجود نہیں ہے۔“

Tags:

Artificial Intelligenceartificial intelligence basicsartificial intelligence documentaryartificial intelligence explainedartificial intelligence is becoming consciousartificial intelligence revealsartificial intelligence robotartificial intelligence tutorialartificial intelligence uprisinggoogle's artificial intelligenceis artificial intelligence consciousis artificial intelligence dangerouswhat is artificial intelligence
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ایک تھا بادشاہ (ترک ادب سے منتخب افسانہ)

Next

وٹامن ڈی سپلیمنٹس کے بڑھتے ہوئے استعمال نے طبی ماہرین کو پریشان کر دیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme