Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

قیمتی زرعی اراضی پر رہائشی منصوبوں کی وبا

By Akhtar Rasool
مئی 22, 2023 4 Min Read
0

بیرون ملک رہتے ہوئے، جس چیز کی شدت سے کمی محسوس ہوئی وہ ’آم‘ ہوا کرتے تھے۔ ایشین شاپ پر پیٹی کے نام پر ایک کلو کے ڈبے میں چار پانچ آم مہنگے داموں فروخت کیے جاتے تو اُس وقت پاکستان کی قدر محسوس ہوتی

پاکستان زرعی ملک ہونے کے بنا پر اناج، سبزی اور پھلوں کی پیداوار میں ہمیشہ سے خود کفیل ہوا کرتا تھا۔ آج بھی غیر ملکی یہاں تَھوک کے حساب سے سبزیوں اور فروٹ کو دیکھ کر انگشت بہ دنداں رہ جاتے ہیں۔ جنہوں نے اپنے ملک میں تربوز، خربوزہ کی ایک ایک ایک کاش کو پلاسٹک ریپنگ میں دکانوں پر سجا ہوا دیکھا ہو، وہ بھلا کہاں یہ تصور کر سکتے ہیں کہ ایسے فروٹ انبار کی صورت میں بھی برائے فروخت ہو سکتے ہیں

خوش قسمتی سے پاکستان کی زمین زرخیز ہے، بالخصوص پانچ دریاؤں پر مشتمل صوبہ پنجاب زرخیزی میں اپنی مثال آپ ہے، اسی لئے پاکستان میں اگنے والی سبزیوں اور پھلوں کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ملتان کا آم اپنے ذائقہ اور مٹھاس کی بدولت دنیا بھر میں مشہور ہے

دو سال قبل ملتان کے علاقے بوسن روڈ اور شجاع آباد روڈ پر واقع بیس سے پچیس ہزار آم کے درخت کاٹ کر ڈی ایچ اے ملتان کی تعمیر زور و شور سے جاری ہے۔ لہٰذا پچھلے سال آم مارکیٹ سے نسبتاً جلدی غائب ہو گئے اور ایک تشنگی سی چھوڑ گئے

کسانوں نے آم کے باغات ہاؤسنگ سوسائٹی کے لئے اس بنا پر بیچ ڈالے کہ یہ قیمتی باغات ان کی ضروریات پوری نہیں کر پا رہے تھے اور نا ہی حکومتی سطح پر کسانوں کو کوئی اس کا متبادل ذریعہ آمدنی مہیا کیا گیا

پاکستان میں ریئل اسٹیٹ کے کاروبار نے چند سالوں میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک کی تمام زمین پر سوائے بلند و بالا بلڈنگ، ریسٹورینٹ، شاپنگ مالز اور ہاوسنگ سوسائٹیز کے کچھ باقی نہیں رہنے دیا جائے گا

معاملہ چاہے بہاولپور کی ریلوے کی قیمتی اراضی کو کوڑیوں کے مول بیچنے کا ہو یا اوکاڑہ ملٹری فارمز پر مطلق العنان ادارے کے قبضے کا، کراچی میں تمر (مینگروز) کے جنگلات کا صفایا کرنے کا ہو یا لاہور کی زرعی زمین سے مقامی باشندوں کو زبردستی ان کی ملکیت سے بیدخل کرنا ہو، ایسے ہر اقدام کے پیچھے کسی نا کسی ہاؤسنگ سوسائٹی کا نام جڑا ہے

خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی قیمتی اراضیوں کو بھی مقامی لوگوں سے زبردستی کوڑیوں کے بھاؤ خرید کر انہیں پہلے برانڈ بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور پھر اشرافیہ کے درمیان پرتعیش اور محل نما مکانات بنانے کی ایک لمبی ریس لگ جاتی ہے۔ ان ہاؤسنگ سوسائٹی کی ابتدا ڈی ایچ اے سے ہوئی اور پھر بحریہ ٹاؤن نے اسے مزید بڑھاوا دیا

آج پاکستان کے تمام صوبوں کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ڈیفینس ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور بحریہ ٹاؤن پورے طمطراق کے ساتھ جلوہ افروز ہیں۔ ہاوسنگ سوسائٹیوں کا کاروبار ملک کے گرد و پیش میں جال کی طرح پھیل چکا ہے، جس کی وجہ سے اب زرخیز زرعی اراضی پر کھیت کھلیان کی جگہ سیمنٹ گارے کے پختہ مکانوں نے لے لی ہے

ان ہاؤسنگ سوسائٹیز کے مالکان نے ناصرف مزارعوں، کسانوں کے ساتھ ناانصافیاں کیں ہیں بلکہ ملک کی معیشت کو بھی نقصان پہچانے کا مؤجب بنی ہیں۔ کراچی کے تمر کے جنگلات کا تقریباً صفایا کیا جا چکا ہے اور ان کی جگہ ڈی ایچ اے کے نئے فیز بنائے جا چکے ہیں

ان جنگلات کے خاتمے سے مچھلی جھینگے کے افزائش نسل کو بری طرح نقصان پہنچا ہے جبکہ دوسری جانب ان سوسائٹیوں کا سارا فضلہ سمندر برد کرنے سے بھی آبی حیات خطرات سے دوچار ہے

ایک وقت تھا کہ پاکستان کی گندم چاول اور دیگر اجناس دنیا میں برآمد کئے جاتے تھے اور آج یہ حال ہے کہ نا صرف ملکی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو چلے ہیں بلکہ پڑوسی ممالک سے درآمد کرنے کی نوبت آ گئی ہے

دوسری جانب گلوبل وارمنگ کی بنا پر پوری دنیا ہی میں موسمیاتی تغیرات رونما ہو رہے ہیں۔ پاکستان بھی ان موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ حالیہ سیلاب نے ملک کے کونے کونے میں ایسی تباہی پھیلائی کہ ابھی تک اس کے اثرات نمایاں ہیں۔ ان سیلاب کی تباہیوں کی ایک بڑی وجہ زرعی اور زرخیز زمینوں کا بتدریج ختم ہونا بھی ہے۔ زرعی زمین سیلابی پانی کو جذب کرنے اور درخت سیلابی ریلے کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے شہری سیلاب کی روک تھام ہوتی ہے

اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا میں آبی قحط کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال زیر زمین پانی کی سطح کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ زرخیز اراضیوں پر کنکریٹ کے فرش بچھائے جارہے ہیں

لیکن جس بے دردی سے ہزاروں ایکڑ پر پھیلے پورے پورے باغات کاٹے جا رہے ہیں، فصلیں تباہ کی جا رہی ہیں، مستقل قریب میں سیلاب کی تباہ کاریاں اور قحط سالی کے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔ دیگر کاروباری انڈسٹری لگانے سے ملک کی پیداواری صلاحیت بڑھتی ہے اور زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے، جو ایک ملک کی معیشت کو مضبوط کرتا ہے۔ ریئل اسٹیٹ کا کاروبار پیداواری شعبہ نہیں، جس کی وجہ سے پاکستانی معیشت پر اس کاروبار کے پھلنے پھولنے کے باوجود کوئی مثبت اثر نہیں پڑا

بے شک پاکستان میں عوام کے لئے گھروں کی تعمیرات ضروری ہیں لیکن ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاؤن جیسی سوسائٹیاں صرف امراء کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تعمیر کی جا رہی ہیں، جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ غریب افراد کے لئے چھوٹے مکانات یا فلیٹس تعمیر کئے جائیں تاکہ بے گھر افراد کو گھر کی چھت میسر آئے۔

بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

12 countryside to buy land in europe12 places for vacant land in europeagricultural communityagricultural landagricultural real estateAgriculturebenefits of landbuying agricultural land in floridacommunity agriculturecost of landcost of land in philippinesinvesting in european landkigali land for salekigali rwanda land for saleland best investmentland developmentland investing basicspermitted sanitation projectraw land vs real estate
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

2031 میں انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کے سمندر میں گر کر تباہ ہونے کے بعد اس کا متبادل کیا ہوگا؟

Next

واٹس ایپ نے ’ایڈٹ‘ آپشن پیش کرنے کا اعلان کر دیا!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme