Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

پلاسٹک کا بے دریغ استعمال روک کر مہذب شہری بننا ہوگا

By Akhtar Rasool
اگست 8, 2023 4 Min Read
0

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں جہاں بھی اور جب بھی پلاسٹک بنا ہے چاہے وہ کتنا ہی عرصے پہلا کیوں نہ بنا ہو وہ اب بھی ختم نہیں ہوا بلکہ اسی حالت میں موجود ہے

پلاسٹک جس میں ہم روزمرہ کی چیزیں خرید کر لاتے ہیں اور بغیر پرواہ کیے پھینک دیتے ہیں، پلاسٹک جس سے بنی بوتلوں میں پانی اور کولڈ ڈرنکس پیتے ہیں اور بغیر ہچکچائے ہم گاڑی کا شیشہ اتارتے ہیں اور پھینک دیتے ہیں اور اگر پچھلی گاڑی والا اس حرکت پر ہارن بجا کر سرزنش کرتا ہے تو ہم کہتے ہیں اس کو کیا مسئلہ ہے۔

سوشل میڈیا کے اس زمانے میں بھی اگر ہم کو پلاسٹک کے نقصانات سے آگاہی نہ ہو تو ہم سوشل میڈیا پر کچھ اور دیکھ رہے ہیں۔

گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی تھی جس میں ماحولیات کے لیے کام کرنے والے سمندر میں ایک جال میں پھنسی چار بڑی مچھلیوں کو چھڑاتے ہیں۔

یہ جال معلوم نہیں کب سے تھا اور یہ مچھلیاں ان میں کب سے پھنسی ہوئی تھیں۔ ایک اور ویڈیو میں پلاسٹک کی تھیلی میں ایک چھوٹی مچھلی پھنسی تھی اور اس کو ان لوگوں نے اس پلاسٹک بیگ سے نکالا۔

یہ تو کسی اور ملک کی بات ہے نا۔ پاکستان میں اس قسم کی کبھی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ بحیرہ عرب میں ہم مہذب شہریوں کی طرح اپنی غلاظت نہیں پھینکتے۔

بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ پاکستان نے اس قسم کی اب تک سٹڈی ہی نہیں کی کہ ہماری آلودگی کی وجہ سے آبی حیات کس حال میں جی رہی ہے۔

بین الاقوامی تنظیم ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے مطابق کہ پاکستان میں سالانہ کچرے میں 25 کروڑ ٹن کچرا پلاسٹک کا ہوتا ہے جن میں پلاسٹک بیگ، بوتلیں اور کھانے کی پیکنگز وغیرہ شامل ہوتی ہیں۔ اس 25 کروڑ ٹن میں سے 16 کروڑ 30 لاکھ ٹن یعنی 65 فیصد ساحل سمندر تک پہنچتا ہے۔

بین الاقوامی تنظیم کے مطابق آٹھ ملین ٹن پلاسٹک کا کچرا ہر سال سمندروں میں جاتا ہے۔ اور اگر اسی مقدار میں پلاسٹک ہمارے سمندروں میں جاتا رہا تو 2050 تک سمندروں میں مچھلیاں کم اور پلاسٹک کا کچرا زیادہ ہو گا۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایک پلاسٹک بیگ کو ختم ہونے میں 500 سال لگتے ہیں جبکہ وہ پلاسٹک کی بوتل جو ہم شیشے سے باہر پھینکتے ہیں اس کو ڈی کمپوز ہونے میں 300 سال لگتے ہیں۔

چلیں میں آپ کو ایک اور طریقے سے پلاسٹک کے کچرے کی سنگینی کے بارے میں بتاتا ہوں۔ پاکستان میں متوقع عمر 66 سال سے کچھ زیادہ ہے۔ یعنی اگر ہم ساڑھے سات بار پیدا ہوں اور 66 کی عمر میں مریں تو تب کہیں جا کر ایک پلاسٹک بیگ ڈی کمپوز ہو گا۔ اور ایک پلاسٹک بوتل کو ڈی کمپوز ہونے کے لیے ساڑھے چار بار پیدا ہو کر مرنا ہو گا۔

پاکستان میں سالانہ 55 ارب پلاسٹک بیگ استعمال ہوتے ہیں اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق ان کے استعمال میں سالانہ 15 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق ہر سال پاکستان میں 33 لاکھ ٹن پلاسٹک کا کچرا بنتا ہے اور اس میں سے زیادہ تر لینڈ فلز یا جگہ جگہ زمین اور پانی میں پھیلا ہوتا ہے۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ اگر اس 33 لاکھ پلاسٹک کچرے کا انبار لگایا جائے تو اس کی اونچائی 16500 میٹر بنے گی۔ یعنی اس پلاسٹک کے کچرے کے پہاڑ کی اونچائی دنیا کی دوسرے بلند ترین چوٹی کے ٹو سے تقریباً دگنی ہوگی۔

پاکستان میں پانی کا ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی پلاسٹک کے کچرے اور دیگر کچرے کا زیرِ زمین پانی میں مل جانے سے ایک بڑا خطرہ ہمیں لاحق ہے۔

کچرے کے ڈھیر تو ہم سب نے دیکھے ہی ہوئے ہیں اور اب ذرا سوچیے کہ یہ کچرا زیر زمین پانی میں مل جائے تو کیا ہوگا۔ ہم جو پانی استعمال کرتے ہیں، اس میں کچرے کے چھوٹے چھوٹے ذرات ملے ہوں گے۔

پاکستان میں 2020 میں 39 لاکھ ٹن پلاسٹک کا کچرا تھا جبکہ اس میں 70 فیصد یعنی 26 لاکھ پلاسٹک کے کچرے کو صحیح طور پر ضائع نہیں کیا گیا۔

ہمیں بھی افریقی ملک روانڈا کی طرز پر پلاسٹک کے استعمال کے خلاف مہم چلانی ہوگی۔

روانڈا نے 2008 میں پلاسٹک بیگ پر پابندی عائد کی تھی اور کامیابی سے اس پر عملدرآمد کروایا ہے۔

روانڈا میں پلاسٹک بیگ کے استعمال پر جیل ہو سکتی ہے اور جو غیر ملکی بھی روانڈا پہنچتا ہے تو امیگریشن ہی پر اسے تمام پلاسٹک بیگز کو چھوڑنا پڑتا ہے۔

پلاسٹک آلودگی کے حوالے سے پاکستان میں سیاسی سنجیدگی میں ابھی وقت لگے گا لیکن کیا اس حوالے سے دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے پاس اتنا وقت ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے۔

اس سے پہلے کہ یہ مسئلہ مزید سنجیدہ ہو ملک بھر میں عوام کو آگاہی دینے کی فی الفور ضرورت ہے، ایک مربوط پالیسی درکار ہے جس پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور ایک بار کی مہم کافی نہیں ہوتی بلکہ پلاسٹک آلودگی کے بارے میں مہم کو وقفے وقفے اور جدید طریقوں سے چلائے جانے کا وقت آ گیا ہے۔

بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

causes of plastic pollutionhow to end plastic pollutionOcean PollutionPlasticPlastic Pollutionplastic pollution coalitionplastic pollution factsplastic pollution for kidsplastic pollution in the oceanplastic pollution solutionplastic pollution solutionsplastic pollution videoplastic wastePollutionpollution of seas and oceans by plasticssolution for plastic pollutionsolution to plastic pollutionwhat is plastic pollution
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

میٹرک میں اچھے نمبر نہ لینے والے بچے کیا کریں؟

Next

واٹس ایپ کی متبادل ’بیپ پاکستان‘ ایپلیکیشن متعارف

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme