Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

بجلی کے بل اور پاکستان میں ’انارکی پھیلنے‘ کی ابتدائی علامات

By Akhtar Rasool
اگست 26, 2023 3 Min Read
0

مختلف لوگ انارکی کی مختلف تشریحات کرتے ہیں لیکن اس کا بنیادی مقصد انسانی سماج سے درجہ بندی پر مبنی استحصالی نظام کا خاتمہ ہے

عمومی طور پر انارکی کو منفی معنوں یعنی افراتفری، دنگے، فساد اور خون خرابے سے جوڑا جاتا ہے اور پاکستان میں اسی انارکی کی ابتدائی علامات نظر آ رہی ہیں۔

ایک وڈیو موصول ہوئی، جس میں مساجد سے اعلان کیا جا رہا تھا کہ کوئی بھی شہری بجلی کا بل ادا نہ کرے۔ سیاسی شعبدہ بازی تو ہوتی رہی لیکن عوامی سطح پر میں نے اپنی زندگی میں کبھی ایسا اعلان ہوتے نہیں سنا۔ شاید میری پیدائش سے پہلے کوئی تحریک سول نافرمانی نہ چلی ہو لیکن یہ اعلانات میرے لیے حیران کن تھے۔ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ لوگ حکومت کے مدمقابل آتے جا رہے ہیں

دو روز قبل ایک دوست کی کال موصول ہوئی۔ بہت ہی اچھا انسان ہے، خود دار بھی ہے اور عزت نفس کا بھی بہت خیال رکھنے والا ہے۔ ان کے ایف اے میں پڑھنے والے بیٹے نے بات کی کہ ابو خود آپ سے بات نہیں کرنا چاہتے، وہ شرمندہ ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بل کی ادائیگی کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ میں حیران تھا کہ اس انسان نے تو زندگی میں کبھی ایسا سوال نہیں کیا۔ خیر میں جو کر سکتا تھا کیا لیکن ابھی تک خیال آ رہا ہے کہ اس نے دل پر کتنا بڑا پتھر رکھ کے فون کیا ہو گا؟ یعنی بلوں کی ادائیگی لوگوں کے بس میں نہیں رہی۔

اسی طرح سوشل میڈیا پر بلوں میں اضافے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ایک احتجاجی تحریک چلتی دکھائی دے رہی ہے، اب ایک پرامن انسان یہی کر سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر اسی وجہ سے چند لوگوں کی خودکشی کرنے کی غیرمصدقہ اطلاعات ہیں۔ آپ سوچیں آپ نظام کے ہاتھوں کتنا بے بس محسوس کرتے ہیں، تو خودکشی کے خیالات تک پہنچتے ہیں۔

اسی طرح ایک وڈیو میں لوگ واپڈا کے اُن ملازمین کو زدو کوب کرتے نظر آتے ہیں، جو بل کی ادائیگی پر میٹر کاٹنے گئے ہیں۔

آپ خود بتائیں کہ حکومتی فیصلوں یا حکومتی اداروں کا کتنا ڈر لوگوں میں باقی بچا ہے؟

جب ڈر نہیں رہتا تو لوگ سینہ تان کر کھڑے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ جب ایسا ہو تو آپ انتشار پھیلنے کے دہانے پر کھڑے ہوتے ہیں۔ کسی بھی ملک کے لیے یہ ‘الارمنگ صورتحال‘ ہوتی ہے۔ بلکہ مہذب ملک تو احتجاج کی ابتدائی اشکال سے ہی خوفزدہ ہو جاتے ہیں، یہ تشدد، جلاؤ گھیراؤ تو احتجاج کی آخری شکلوں میں سے ایک ہے۔

مسئلہ صرف عوام کا نہیں ہے۔ ہمارے مقتدر حلقوں نے عملی طور پر دکھایا ہے کہ اس ملک کے ہر قانون اور قاعدے کو توڑا جا سکتا ہے۔ آپ نے دنیا میں کبھی سنا ہے کہ ملک کا صدر کہہ دے کہ یہ قانون میرے دستخط کے بغیر بن گیا ہے؟ یعنی یہ عوام کو پیغام گیا ہے کہ صدر کا عہدہ کوئی عہدہ نہیں ہے۔ آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ سپریم کورٹ حکم دے اور یہ خدشہ بھی ظاہر کرے کہ اس پر عمل درآمد نہیں ہونا؟ یہ عوام کے لیے پیغام ہے کہ سپریم کورٹ بھی ایک بے بس ادارہ ہے۔

پارلیمان کی بے بسی اب ہر نوجوان کے سامنے ہے۔ یعنی ملک میں میرٹ، قانون یا انصاف کی کوئی شکل ہی نہیں بچی ہے۔

ایسی صورت حال میں اگر گلیوں میں دن دہاڑے لوٹ مار ہو، سرکاری ملازمین کی پٹائی ہو، سرکاری املاک کا جلاؤ گھیراؤ ہو، غریب لوگوں کی خودکشیاں ہوں، مساجد سے بلوں کی ادائیگی نہ کرنے کے اعلانات ہوں، اقلیتوں کے گھروں، مندروں یا گرجا گھروں پر حملے ہوں تو حیرت کی کوئی بات نہیں ہے۔

عام آدمی کے لیے بجلی مہنگی کرنے کے ساتھ ساتھ حکمرانوں نے بڑے عہدوں والے سرکاری ملازمین اور اراکین پارلیمان کو فری بجلی اور پٹرول دے کر یہ پیغام دیا ہے کہ ان کے گھروں کے دیے عوام کے خون پسینے سے جلائے جائیں گے۔

جب صورتحال ایسی ہو جائے تو پھر قتل و غارت ہوتی ہے، چوریاں ہوتی ہیں، سرعام ڈاکے ڈلتے ہیں، جھتے بنتے ہیں، جرائم پیشہ گروہ جنم لیتے ہیں۔ ایسی انارکی، حکومتی رٹ کے خاتمے اور ایک معاشرے کے زوال کی ابتدائی علامت ہے۔

اس وقت پاکستانی سماج کو دوطرفہ احترام، بنیادی حقوق، بنیادی سہولیات، براہ راست جمہوریت اور بلاتخصیص انصاف کی ضرورت ہے۔

بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

anita anandbuilders of ancient mysteriescommunism in indiadebate between left and rightdemocratic socialists of americaimproves your listening skillsleft and right wing political ideologiesleft and right wing political ideologies explainedleft and right wing political ideologies in hindileft and right wing political ideologies in hindi by vikas sirleft and right wing politics in indiapeace and cooperatiowhat is right wing and left wing in politics
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کیا بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف احتجاج سول نافرمانی کی تحریک بن سکتا ہے؟

Next

چندریان اور تحقیق کے بارہ آنے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme