Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںسائنس و ٹیکنالوجی

اولڈ از گولڈ: 1960 کے کمپیوٹر پروگرام نے چیٹ جی پی ٹی کو ہرا دیا!

By Akhtar Rasool
دسمبر 8, 2023 3 Min Read
0

انگریزی کی ایک مشہور کہاوت کو ’اولڈ از گولڈ‘ کو
1960 کی دہائی میں بنائے گئے ابتدائی کمپیوٹر پروگرام نے اس وقت سچ کر دکھایا، جب اس نے تیزی سے مقبول ہونے والے مصنوعی ذہانت کے پروگرام چیٹ جی پی ٹی کو ٹرنگ ٹیسٹ میں شکست دے دی

یہ ٹیسٹ انسانوں اور مصنوعی ذہانت کے درمیان فرق کرنے کے لیے بنایا گیا ہے

تفصیلات کے مطابق امریکہ میں یو سی سان ڈیاگو کے محققین نے 1960 کی دہائی کے وسط میں ایم آئی ٹی کے سائنسدان جوزف ویزن بام کے تیار کردہ ابتدائی چیٹ بوٹ ’ایلیزا‘ کو ٹیکنالوجی کی جدید شکل کے خلاف آزمایا

محققین کے علم میں آیا کہ ایلیزا نے اوپن اے آئی کے جی پی ٹی -3.5 اے آئی کو پچھاڑ دیا، جو کمپنی کا چیٹ جی پی ٹی کا مفت ورژن ہے

واضح رہے کہ 1950میں برطانوی کمپیوٹر سائنسدان ایلن ٹرنگ نے پہلی بار ٹرنگ ٹیسٹ متعارف کروایا تھا، جس کے بعد سے یہ امتحان کسی مشین کی انسانی انداز میں گفتگو کی نقل کرنے کی صلاحیت کا تعین کرنے کا معیار چلا آ رہا ہے

تازہ ترین تحقیق میں 652 لوگوں کو یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت تھی کہ آیا وہ انٹرنیٹ پر کسی دوسرے انسان یا مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹ سے بات کر رہے ہیں

اوپن اے آئی کا جی پی ٹی-4 چیٹ بوٹ، جو ٹیکنالوجی کے مفت ورژن سے زیادہ طاقت ور ہے، الیزا کے مقابلے میں زیادہ بار لوگوں کو دھوکہ دینے میں کامیاب رہا۔ اس کی کامیابی کی شرح 41 فیصد رہی۔ الیزا 27 فیصد وقت میں لوگوں کو یہ باور کروانے میں کامیاب رہا کہ وہ کسی انسان سے بات چیت کر رہے ہیں، جب کہ جی پی ٹی 3.5 کی کامیابی کی شرح محض 14 فیصد تھی

مصنوعی ذہانت کے ماہر گیری مارکس نے ایلیزا کی کامیابی کو اے آئی چیٹ بوٹس پر کام کرنے والی جدید ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ’تشویشناک‘ قرار دیا ہے، تاہم دیگر ماہرین نے دلیل دی کہ چیٹ جی پی ٹی کو ٹرنگ ٹیسٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا

امریکہ میں وارٹن اسکول میں مصنوعی ذہانت کے پروفیسر ایتھن مولک نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا ”جب آپ تحقیق کا مطالعہ کرتے ہیں تو میرے خیال میں جی پی ٹی 3.5 کا الیزا سے شکست کھا جانا کوئی ایسا حیران کن نہیں لگتا“

وہ مزید لکھتے ہیں ”اوپن اے آئی نے نقل کے خطرے کو ایک حقیقی تشویش سمجھا ہے اور اس کے پاس آر ایل ایچ ایف (انسانی رائے سے مشین لرننگ) کی صلاحیت ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ چیٹ جی پی ٹی انسان کے طور پر کامیاب ہونے کی کوشش نہ کرے۔ الیزا ہماری نفسیات کو استعمال کرتے ہوئے کامیاب ہونے کے لیے تیار کیا گیا“

تحقیق میں شامل افراد کے لیے ایلیزا کو غلطی سے انسان سمجھنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس کی کارکردگی ’بہت زیادہ‘ خراب تھی کہ وہ مصنوعی ذہانت کا موجودہ ماڈل نہیں ہو سکتا اور اس لیے اس بات کا زیادہ امکان تھا کہ وہ کوئی انسان ہو، جو جان بوجھ کر تعاون پر تیار نہیں

پرنسٹن میں کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر اروند نرائن، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، نے کہا ”ہمیشہ کی طرح، ٹیسٹنگ کے رویے ہمیں صلاحیت کے بارے میں نہیں بتاتے ہیں۔ چیٹ جی پی ٹی رسمی لہجہ رکھنے، رائے کا اظہار نہ کرنے وغیرہ کے لیے بنایا گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ کم انسان نما ہے۔“

خیال رہے کہ ’کیا جی پی ٹی-4 ٹرنگ ٹیسٹ پاس کرتا ہے؟‘ کے عنوان سے کی جانے والی اس تحقیق کا ابھی جائزہ لیا جانا باقی ہے۔

Tags:

60 minutes australiaanimated feature filmbecome chatgpt expertchatgpt complete coursechatgpt complete guidecold casecontent strategyfin reactsfinamenon reactsGPT 3.5's loss to Eliza doesn't seem all that surprisinggrandmasterjames altucher podcastprogrammersprogrammingpte write from dictationpte write from dictation practice with answersreactsreal write from dictation exam testresponse ratesStrategywatch cold case fileswrite from dictationwrite from dictation pte
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سائنسدانوں نے حادثاتی طور پر آگ لگنے سے محفوظ رہنے والا ایندھن بنا لیا

Next

ذوالفقار علی بھٹو قتل کیس: سماعت کے لیے مقرر ہونے 2011 کے صدارتی ریفرنس میں کن سوالوں کے جواب مانگے گئے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme