Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Hollow-man
ادباہم ترینتازہ ترین

کھوکھلے بندے

By Akhtar Rasool
دسمبر 26, 2023 3 Min Read
0

میں جب ننھا بچہ تھا، تو ہمارے گھر ہر طرح کے لوگ آتے اور سامنے والے دروازے پر دستک دیتے۔ میرے والد دروازے میں بنے ننھے سوراخ سے باہر جھانکتے لیکن دروازہ نہ کھولتے۔ لوگ دروازے پر دستک دیتے رہتے، اس کو پاگل پنے کی حد تک پیٹتے اور میں ان سے خوفزدہ ہو جاتا۔ میرے والد، لیکن، میرے پاس آتے اور قالین پر میرے پاس لیٹ جاتے۔ ان کی پشت پیانو کی طرف ہوتی اور وہ مجھے گلے کے ساتھ لگا کر زور سے بھینچتے ہوئے سرگوشی کرتے، ”ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں، یہ تو بس کھوکھلے لوگ ہیں“ اور پھر وہ میرے کان میں کہتے، ”اے ملاح، دروازہ کھولو۔۔ ہمیں پتہ ہے کہ تم وہاں ہو۔“
اور ایک لمحے بعد ہی لوگ وہی کہنے لگتے، جو میرے والد نے کہا ہوتا، لیکن وہ اسے اونچی آواز میں دہراتے۔ پھر وہ گھر کے ارد گرد چند بار چکر لگاتے اور بند دروازے باہر کی طرف سے کھولنے کی کوشش کرتے۔ میرے والد میرے کان میں بُڑبُڑ کرتے تو وہ بھی باہر اسی طرح بُڑبُڑانا شروع کر دیتے جیسے یہ میرے والد کے کہے کی بازگشت ہو۔

”تم نے دیکھا“ والد پھر سے سرگوشی کرتے، ”ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کھوکھلے لوگ ہیں، ان کے جسم نہیں ہیں اور یہ بس آوازیں ہیں۔“ اور پھر میرے والد سرگوشی کرتے، ”دیکھو ملاح، ہم دوبارہ آئیں گے، تم نے غلط لوگوں سے پنگا لیا ہے۔“ اور پھر وہ ان کے پیچھے پیچھے ان کے کہے الفاظ دہراتے۔۔ اور یہ کھوکھلے لوگ ہمیشہ واپس آتے رہتے اور ہم ان سے چھپ جاتے۔

اور پھر میری ماں آواز نکالے بِنا ہی مر گئی لیکن ان کا جسم تھا۔ اور ہم اسے دفنانے کے لیے گئے ۔ ہم ساتھ میں رُدالی بھی لے کر گئے، جو ان کی میت پر بَین کر سکتا تھا اور میرے والد نے مجھے کتاب میں دکھایا کہ یہ بَین اصل میں کیا تھے، وہ بندہ بھی انہیں میں سے ایک تھا۔

تب ایک ہفتہ خاموشی چھائی رہی لیکن اس کے بعد وہ پھر آئے۔ ہم ایک کونے میں دبکے رہے۔ بعض اوقات میرے والد وہی کچھ کہتے، جو وہ بولتے تھے اور کبھی میں یہ بولتا تھا۔ میں اپنے آپ میں اس بات پر حیران ہوتا کہ پہلے میں ان کی وجہ سے خوفزدہ رہتا تھا لیکن اب میرے الفاظ ان سے یوں ٹکرا کر واپس آتے، جیسے ٹینس کا گیند دیوار سے ٹکرا کر واپس آتا ہے۔ یہ سب ساکت اور بے معانی تھا۔

اور پھر میرے والد بھی پیانو کے پاس والے کونے میں مر گئے اور میں نے انہیں اسی طرح گلے سے لگا کر بھینچا، جس طرح وہ تب مجھے گلے لگا کر بھینچتے تھے، جب میں ڈرا کرتا تھا۔ ہم نے جب انہیں قبر میں اتارا تو وہ خاموش تھے ۔ وہ تب بھی خاموش تھے جب رُدالی نے بین ڈالے۔ بَین، جنہیں میں کتاب کی وجہ سے جانتا تھا۔

وہ تب بھی خاموش تھے، جب ہم نے انہیں قبر میں اتارا اور انہیں مٹی سے ڈھانپ دیا۔۔ اور تب ان کے بعد، میں خاموش تھا کیونکہ جب سب کچھ کہا اور کیا جا چکا، تو مجھے لگا کہ میں بھی انہیں میں سے ایک تھا۔

Tags:

hollow manhollow man bloodhollow man boobhollow man cliphollow man elisabeth shuehollow man endinghollow man explosionhollow man full moviehollow man gorillahollow man invisiblehollow man josh brolinhollow man kevin baconhollow man kim dickenshollow man maskhollow man moviehollow man paul verhoevenhollow man rapehollow man rathollow man rhona mitrahollow man scenehollow man sexhollow man toplesshollow man trailer
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
The-problem-of-Balochistan-is-not-rocket-science
Previous

بلوچستان کا مسئلہ راکٹ سائنس نہیں

icc-favorite-batting-performance-of-2023
Next

2023 کی پسندیدہ بیٹنگ پرفارمنس کون سی رہی؟ آئی سی سی کے سوال پر دلچسپ تبصرے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme