Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

The-story-of-Hamida-Bibi-who-was-kidnapped-sixty-years-ago-meets-her-family
خبریںاہم ترینتازہ ترین

ساٹھ برس قبل اغوا ہونے والی حمیدہ بی بی کی اپنے خاندان سے ملنے کی کہانی

By Akhtar Rasool
فروری 25, 2025 5 Min Read
0

کبھی کبھی زندگی میں ایسے ناقابلِ یقین واقعات رونما ہوتے ہیں کہ حقیقت اور کہانی میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا ہی واقعہ خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کے ایک چھوٹے سے قصبے سے جڑا ہے، جہاں ساٹھ برس قبل بچھڑنے والی بہن سات گھنٹوں میں اپنے اہل خانہ سے جا ملی۔ یہ کہانی صرف وقت کے جبر کی نہیں، بلکہ امید، جستجو اور سوشل میڈیا کے حیران کن اثرات کی بھی ہے۔

یہ کہانی 1960 کی دہائی میں مردان کے بغدادی بازار کے قریب ایک اینٹوں کے بھٹے سے شروع ہوتی ہے، جہاں نور محمد اپنے بچوں کے ہمراہ مزدوری کرتے تھے۔ ان کے تین بچے تھے: حمیدہ، سانگہ اور مجانہ۔ وقت گزرتا گیا، اور سانگہ کی شادی مالاکنڈ کے درگئی علاقے میں ہو گئی۔ والدین کے انتقال کے بعد حمیدہ اکثر اپنی بہن سانگہ کے گھر جایا کرتی تھیں، لیکن ایک دن، جب وہ اپنی بہن کے گھر گئیں، تو پڑوس میں رہنے والے گلزار نامی شخص نے انہیں اغوا کر لیا۔ اس وقت حمیدہ کی عمر صرف دس برس تھی۔

کراچی کے سماجی کارکن ولی اللہ معروف کے مطابق، گلزار نے حمیدہ کو محض ڈھائی ہزار روپے کے عوض فروخت کر دیا۔ اس کے بعد وہ مختلف ہاتھوں میں بِکتی رہی، یہاں تک کہ سندھ کے شہر شکارپور میں ایک شخص نے انہیں خریدا اور بعد میں نکاح کر لیا۔

حمیدہ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ شکارپور میں گزارا، جہاں ان کے چھ بیٹے اور چار بیٹیاں ہوئیں۔ اگرچہ ان کی اولاد نے انہیں ہر طرح کی محبت دی، عمرے پر بھیجا، اور ہر ممکن طریقے سے خوش رکھنے کی کوشش کی، مگر ان کے دل میں اپنے اصل خاندان سے ملنے کی خواہش کبھی مدھم نہ ہوئی۔

اب تک حمیدہ بی بی اپنی مادری زبان بھول چکی تھیں اور وہ اردو بھی نہیں بول سکتی تھیں۔ حمیدہ زیادہ تر بات چیت سندھی زبان میں کرتی ہیں۔

حمیدہ کو اپنے بھائی، بہنوں اور مردان کے آبائی علاقے کا نام یاد تھا، مگر وہ کبھی ہمت نہ کر سکیں کہ خود وہاں جا کر ان کی تلاش کریں۔ آخرکار، ایک دن انہوں نے اپنے بیٹوں کو اپنی کہانی سنائی، جنہوں نے انہیں مردان لے جانے کا فیصلہ کیا۔

مردان پہنچ کر انہوں نے اپنا پرانا علاقہ تو پہچان لیا، مگر معلوم ہوا کہ ان کا خاندان یہاں سے راولپنڈی منتقل ہو چکا ہے۔ یوں وہ راولپنڈی کے گلی کوچوں میں اپنے بہن بھائی کو تلاش کرتی رہیں، مگر کوئی کامیابی نہ ملی۔ یہ لمحہ ان کے لیے مایوسی سے بھرپور تھا۔

ادہر حمیدہ کی کہانی شکارپور میں عام ہو چکی تھی، اور مقامی افراد بھی ان کے خاندان کو تلاش کرنے میں دلچسپی لینے لگے۔ پھر ایک دن، کسی نے ان کے بیٹے کو کراچی کے سماجی کارکن ولی اللہ معروف کا حوالہ دیا۔ ولی اللہ، جو سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو ان کے گمشدہ رشتہ داروں سے ملواتے ہیں، فوراً متحرک ہوئے۔ انہوں نے حمیدہ سے ابتدائی معلومات حاصل کر کے اپنے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ لگائی، جس میں ان کی ایک تصویر اور ان کے خاندان کے چند نام شامل تھے۔

یہ پوسٹ چند ہی گھنٹوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ گئی، اور حیرت انگیز طور پر، محض سات گھنٹے بعد مردان کے ایک شخص، حاجی شاہ زمان، نے ولی اللہ سے رابطہ کیا۔

حاجی شاہ زمان، جو خود ساٹھ برس کے تھے، نے ولی اللہ کو بتایا کہ حمیدہ ان کی خالہ زاد بہن ہیں اور ان (شاہ زمان) کی عمر ساٹھ سال ہے۔ انہیں زیادہ تو یاد نہیں لیکن بچپن میں جب وہ اپنے والد کے ساتھ اینٹوں کی بھٹی پر جاتے تھے تو حمیدہ کے والد اور بھائی وہاں کام کرتے تھے

شاہ زمان نے انہیں مزید بتایا ”یہ وہی حمیدہ بی بی ہیں جو بچپن میں کھو گئی تھیں اور اب ان کا خاندان مل گیا ہے۔“

حاجی شاہ زمان کا کہنا تھا ”میرا ہاتھ فالج زدہ ہے تو اس لیے میرا دن زیادہ تر گھر پر موبائل استعمال کرتے ہی گزر جاتا ہے۔ میں فیس بُک سکرول کر رہا تھا کہ میرے سامنے ولی اللہ معروف کی پوسٹ آئی۔ معلوم نہیں کیوں لیکن اس پوسٹ نے میری توجہ حاصل کی۔ میں نے جب تفصیل سے پڑھا تو مجھے حمیدہ بی بی کے بتائے ہوئے نام شناسا لگے۔“

حاجی شاہ زمان نے فیس بُک پر پوسٹ دیکھنے کے بعد فوری طور پر اپنے قریبی رشتہ داروں سے رابطے کیے تاکہ تصدیق کی جا سکے۔ اب تک رات کے 11 بج چکے تھے۔ انہوں نے حمیدہ بی بی کے بھائی یار محمد سے رابطہ کیا۔ ”میں نے یار محمد سے پوچھا کہ آپ کی ایک بہن بچپن میں کھو گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے خود بھی نہیں یاد لیکن بڑی بہن نے بتایا تھا۔ ہم نے اپنی بہن کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ آج تک نہیں ملی۔“

حاجی شاہ زمان نے یار محمد کو بتایا کہ آپ کی بہن مل چکی ہے۔ وہ حیران تھے کہ یہ کیسے ممکن ہوا؟

اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اپنی بہن کی تلاش میں بھٹکتے یار محمد کو ابتدا میں اس بات پر جیسے یقین ہی نہیں آیا، تاہم جب حاجی شاہ زمان نے ولی اللہ معروف کے ذریعے حمیدہ سے ان کی بات کروائی اور ان کی تصویر یار محمد کو بھیجی، تو ہر شک دور ہو گیا۔

ولی اللہ معروف نے فوری طور پر حمیدہ کو لے کر مردان جانے کا انتظام کیا۔ جب وہ یار محمد کے گھر پہنچے تو وہاں ایک جشن کا سماں تھا۔ حمیدہ کے بھانجوں نے انہیں پھولوں کے ہار پہنائے، اور جب بھائی بہن کی نظر ملی، تو دونوں زار و قطار رونے لگے۔ وہ لمحہ جذبات سے لبریز تھا۔ برسوں بعد، آخرکار بچھڑے ہوئے بہن بھائی مل رہے تھے۔

یار محمد نے اپنی بہن کے لیے ایک شاندار دعوت کا اہتمام کیا۔ انہوں نے خانہ کعبہ میں اپنی بہن کی سلامتی اور ملاقات کے لیے جو دعائیں مانگی تھیں، وہ آج پوری ہو رہی تھیں۔ حمیدہ کے لیے یہ ایک خواب کی تکمیل تھی۔

ولی اللہ معروف کے مطابق ”یار محمد نے ہمیں بتایا کہ اگر مجھے معمولی نشانی بھی مل جاتی تو میں دنیا کے کسی بھی کونے میں جا پہنچتا لیکن مجھے اپنی بہن سے متعلق کسی چیز کا علم نہیں تھا۔“

”حمیدہ کا کہنا تھا کہ اللہ نے مجھے سب کچھ دیا۔ بیٹے دیے، بیٹیاں دیں اور ہم مال مویشی پالنے لگے لیکن اپنے خاندان سے ملنا میرا خواب تھا جو اب پورا ہوا۔“

حمیدہ کچھ دن اپنے بھائی اور بہن کے ساتھ گزارنے کے بعد واپس شکارپور چلی گئیں، مگر اس بار یہ جدائی کسی غم کا سبب نہ تھی۔ حاجی شاہ زمان نے کہا: ”ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ وقتاً فوقتاً ہم بہن بھائی اور رشتہ دار ان کے ہاں جایا کریں گے تاکہ حمیدہ کو اپنے خاندان کے نہ ہونے کی کمی محسوس نہ ہو۔“

یہ کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا، جب صحیح مقصد کے لیے استعمال ہوں، تو بچھڑوں کو ملا سکتے ہیں اور برسوں کے فاصلے مٹا سکتے ہیں۔

Tags:

60-year reunionA brother’s searchA daughter’s journeyAbduction survivorAbduction survivor’s journeyChildhood abductionDigital age miraclesDigital age wondersEmotional family reunionEmotional search journeyFacebook changing livesFacebook family searchFacebook reunites familiesFacebook search successFacebook viral postFamily beyond distanceFamily history rediscoveredFamily lost and foundFamily lost for decadesFamily reunificationFamily reunion storyFamily search networkFamily tracing onlineFinding home againFinding lost relativesFinding lost siblingsFinding rootsFrom Sindh to KPKHamida Bibi reunionHamida’s journeyHamida’s lost yearsHeart-touching reunionHeartfelt homecomingHeartwarming family reunionHeartwarming reunionHope and perseveranceHope beyond bordersHope in adversityHope through social workHope through technologyHuman trafficking survivorJourney of hopeKarachi social workerKidnapped child’s fateKidnapped girl returnsLong-lost relativesLong-lost sisterLost and foundLost and found onlineLost but not forgottenLost ChildhoodLost sister foundMardan abduction caseMardan missing girlMiracle reunionMissing and foundMissing child caseMissing PersonsMissing sister foundModern technology reunitesModern-day miracleOnline activismOnline family searchOnline lost-and-foundOnline missing persons helpOvercoming lossPakistani family reunionPakistani resiliencePakistani social workPower of online connectionsReunion after 60 yearsReunion after decadesReunion against the oddsSearch for lost familySearch for loved onesSearch through generationsSearching for a lost pastSibling bondSibling loveSibling search successSiblings reunitedSindh family searchSindh to Mardan journeySocial impact of mediaSocial justice caseSocial media awarenessSocial media impactSocial media miraclesSocial media powerSocial media searchSocial media success storiesSocial worker effortsStrength of a motherSurvival and reunionTragic separationTrue Pakistani storiesTrue resilienceTrue story of abductionTrue story of resilienceUnbelievable reunionUnexpected reunionWomen’s empowerment storyWomen’s survival stories
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Sindhi-language-spoken-all-over-world
Previous

پاکستان میں بولی جانے والی زبان سندھی میں سرحد پار انڈین نوجوانوں کی دلچسپی

Sindhu-Ji-Goonj-The-new-echo-of-Sindhi-cinema
Next

’سندھو جی گونج‘: سندھی سینیما کی نئی بازگشت

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme