Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Sindhu-Ji-Goonj-The-new-echo-of-Sindhi-cinema
کالماہم ترینتازہ ترینفن

’سندھو جی گونج‘: سندھی سینیما کی نئی بازگشت

By Akhtar Rasool
فروری 25, 2025 4 Min Read
0

فلم ’سندھو جی گونج‘ میں سندھو دریا کے گرد گھومتی چار کہانیاں اور ان سے جڑے کردار سبھی میں سندھو بہتا، ٹھہرتا، تھمتا اور کہیں تھکتا نظر آتا ہے۔

میں نے فلم پر جب لکھنا چاہا تو فلم ناقد اور ’سندھو جی گونج‘ کے ڈسٹری بیوٹر کامران جاوید نے مختصر دورانیے کے لیے اس کا لنک شیئر کیا۔

سندھو، فلم کے ہر کیمرہ فریم میں بولتا ہے۔ فلم کی کہانی صحافی و لکھاری راہل اعجاز کی ہے جو اس فلم کے ہدایت کار بھی ہیں۔

ان سے پوچھا کہ اس فلم کا قصہ ہے کیا اور ایک طویل عرصے بعد سندھی زبان کے سینیما نےکروٹ کیوں کر لی؟ تو راہل نے بڑے دلچسپ اور سادے الفاظ میں بتایا: ’یہ سندھو کی کچہری ہے، سندھو کی باتیں، سندھو سے باتیں اور سندھو سے جڑی اس کے بارے میں باتیں۔‘

راہل نے 2022 کی گرمیوں میں اس خیال پہ لکھنا شروع کیا۔ وہ ذاتی طور پہ خود کو سندھو دریا سے جوڑ کر دیکھتے اور سوچتے دکھائی دیے۔

فلم میں ‘انتھولوجی‘ کی طرز پہ پانچ کہانیاں نظر آتی ہیں۔ ان سبھی کہانیوں میں بقول راہل، کہیں نہ کہیں ان کی زندگی کی جھلکیاں بھی ہیں۔

انہوں نے فلم کے کینوس سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ ’سندھو دریا ‘ کو صرف آرٹ کے غلاف میں لپیٹ کر تکریم کی ضرورت نہیں بلکہ اپنی اصلی زندگی میں بھی اس کی تہذیب اور اہمیت کو اجاگر کر کے دیکھنا ہوگا۔

فلم ابھی پاکستان اور عالمی سطح پہ ریلیز نہیں کی گئی، لیکن رواں سال ہی اس کی ملک گیر اور دنیا بھر میں اسکریننگ پہ کام چل رہا ہے۔

فلم کے ایگزیکٹیو پروڈیوسر اور شوبز انڈسٹری کے اداکار شمعون عباسی نے کہا ’راہل کہانی کار بھی ہیں اور جنوبی کوریا سے فلم میکنگ پڑھ کے آئے ہیں۔

’راہل نے متوازی سینیما کے پیرائے میں یہ کہانی سندھو دریا کے آس پاس بُنی اور دریا کی قربت اور اس سے جڑے ماحول پہ بات ہونی چاہیے۔‘

اسی وجہ سے شمعون نے فلم میں دلچسپی لی۔ فلم کے کرداروں میں مچھیرے، لٹیرے، ہاری اور لکھاری سبھی ’سندھو‘ کے گرد اپنی زندگیاں کھوج رہے ہیں۔

بقول فلم پروڈیوسر: ’جب سے سینیما ہے، متوازی سینیما یا ان موضوعات پہ بھی بات ہوتی اور فلمیں بنتی رہی ہیں جو کمرشل موضوعات کے لوازمات سے یکسر مختلف ہوتی ہیں۔

’سو اس وقت پاکستانی سینیما انڈسٹری میں علاقائی سینیما کی ایک بار اس لہر نے لکھنے، فلم بنانے اور فلم بینوں سبھی کو ایک نئی کھڑکی کھلی ملی ہے۔‘

پروڈیوسر شمعون عباسی کے مطابق ‘سندھو جی گونج‘ ہمارے ماحول میں پھیلی ہوئی ہے، اور ہمیں اس کی بارہا بازگشت 71 منٹ کی اس فلم میں سنائی دیتی ہے۔

فلم کی سبھی کہانیوں سے جڑے اداکاروں نے اپنے کردار کو ہر نئی کہانی سے جوڑ کے بخوبی نبھایا ہے۔

سینیما انڈسٹری میں علاقائی سینیما نے ایک بار پھر کروٹ لی ہے اور متوازی سینیما کے لیے لکھنے، فلم بنانے اور فلم بینوں سبھی کے لیے ایک نیا تجربہ ہوگا۔

فلم کی سبھی کہانیوں سے جڑے اداکاروں نے اپنے کردار کو ہر نئی کہانی سے جوڑ کے بخوبی نبھایا ہے۔

یہ چہرے کوئی معروف فلمی ستارے نہیں بلکہ منجھے ہوئے نوجوان اداکار ہیں جو فلم کی ’تھیم‘ کے ساتھ لازم ہیں۔

فلم میں میوزک نہیں، بغیر کسی ساز کے ہر کہانی سے جڑے ’بند‘ گائے گئے ہیں جو سندھو کی الٹتی پلٹتی لہروں کے بہاؤ کے سنگ بخوبی سر تال ملاتے ہیں۔

فلم کی ڈسٹری بیوشن کے حوالے سے جاوید بلند حوصلہ محسوس ہوئے۔ ان کے بقول کمرشل سینیما کے پنپنے کی جدوجہد کے دوران علاقائی زبان میں متوازی سینیما کا ساتھ دینا ان کے لیے دلچسپ اور منافع بخش تجربہ ہو گا۔

پاکستان میں فلمی صنعت ماضی کے مقابلے اس رفتار سے نہیں پنپ رہی جو ڈسٹری بیوٹر برادری کو منافع دے سکے۔

کامران کے مطابق ’سندھو جی گونج‘ کے منصوبے میں شمولیت کی بڑی وجہ ’سٹوڈیو ذہینیت‘ کو فروغ دینا ہے تاکہ ایک فلم کے لکھنے سے اس کے ریلیز ہونے تک ذمہ داری کو بخوبی نبھایا جا سکے۔

فلم کے لکھاری و ہدایت کار، ایگزیکٹیو پروڈیوسر اور ڈسٹری بیوٹر سے گفتگو کے علاوہ انڈپینڈنٹ اردو نے ٹی وی و فلم اداکارہ اور ہدایت کارہ زیبا بختیار سے بھی رابطہ کیا۔

پاکستان میں فلمی صنعت اور متوازی سینیما کے حوالے سے زیبا کا کہنا ہے کہ ’متوازی سینیما ایک لگژری ہے۔ اس سے کمائی نہیں ہوتی۔ ہاں اگر 10 کمرشل فلمیں باکس آفس پر ہٹ ہوں تو دو آرٹ فلمیں بھی ریلیز کی جا سکتی ہیں۔

’لیکن صرف متوازی سینیما ہی کرنا ہے تو یہ نظریہ بدلنا ہو گا۔ یہ بربادی ہے انڈسٹری کی۔ میں یہ کر کے دیکھ چکی ہوں۔ لیکن اگر کمرشل سینیما چلے گا تبھی متوازی سینیما ٹھہر سکے گا۔

’ایک خاندان کو ایک آرٹسٹ نہیں چلا سکتا۔ اگر کاروبار چل رہا ہے تو ایک خاندان میں ایک آرٹسٹ پیدا ہو سکتا ہے۔‘

یاد رہے فلمی صنعت کی بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھنا، اس صنعت کی کامیابی کی پہلی کڑی شرط ہے۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

Anthology FilmArt FilmArtistic CinemaArtistic ExpressionCinema and SocietyCinema RevolutionCinema TrendsCinematic ExperienceCinematic ExpressionCinematic FrameCinematic MovementsCreative DirectionCreative NarrativesCultural Awarenesscultural heritagecultural representationDocumentary StyleEmerging FilmmakersEmerging TalentExperimental FilmFilm ActorsFilm AestheticsFilm AnalysisFilm AppreciationFilm AudienceFilm CharactersFilm CollaborationFilm CriticFilm CritiqueFilm DirectorFilm DistributionFilm EnthusiastsFilm ExhibitionFilm FestivalsFilm IndustryFilm Industry ChallengesFilm Industry EvolutionFilm InterpretationFilm Making JourneyFilm MarketingFilm MusicFilm NarrativesFilm ProducersFilm ReceptionFilm ReleasesFilm RepresentationFilm ReviewFilm ScreeningFilm SocietyFilm Sound DesignFilm StorytellingFilm ThemesFilmmaker VisionFilmmakingIndependent CinemaIndependent Film SupportIndependent FilmmakingIndigenous CinemaIndus RiverKamran JavedLocal StoriesNon-commercial FilmsNon-traditional FilmPakistani Art ScenePakistani CinemaPakistani FilmmakersParallel CinemaRahul AijazRealism in CinemaRegional CinemaRegional Film GrowthRegional IdentityRegional StorytellingRevival of Sindhi CinemaRiver SindhuShamon Abbasisindhi artSindhi CinemaSindhi communitySindhi CultureSindhi Farmerssindhi filmSindhi FishermenSindhi FolkloreSindhi heritageSindhi HistorySindhi Identitysindhi languageSindhi LegendsSindhi LiteratureSindhi Musicsindhi poetrySindhi TraditionsSindhi WritersSindhu ConversationsSindhu Ji GoonjSocial Issues in FilmSound in CinemaStory-Driven FilmsstorytellingVisual ArtVisual Impactvisual storytelling
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
The-story-of-Hamida-Bibi-who-was-kidnapped-sixty-years-ago-meets-her-family
Previous

ساٹھ برس قبل اغوا ہونے والی حمیدہ بی بی کی اپنے خاندان سے ملنے کی کہانی

Taklamakan-The-Story-of-the-Battle-of-Man-and-the-Desert
Next

تکلامکان: انسان اور صحرا کی جنگ کی کہانی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme