Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Environmental-destruction-in-Khirthar-National-Park-and-Malir
اہم ترینتازہ ترینکالمماحولیات

ملیر سے کھیرتھر تک: ریاستی سرپرستی میں جاری ماحولیاتی اور قانونی قتلِ عام

By Akhtar Rasool
اکتوبر 3, 2025 3 Min Read
0

ایک تباہی ہے جو کراچی سے شروع ہو کر کھیرتھر نیشنل پارک کی حدود تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ صرف ماحولیاتی تباہی نہیں بلکہ اسمبلی کے قوانین اور عدالتوں کے احکامات کی کھلی توہین بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ فریاد کس سے کریں، جب سب کچھ ریاستی سرپرستی اور سرکاری اداروں کے تعاون سے ہو رہا ہے؟

کھیرتھر نیشنل پارک کو 1974 کے گزٹ نوٹیفیکیشن کے تحت نیشنل پارک قرار دیا گیا۔ اس کے اپنے قوانین ہیں جو نافذ العمل ہیں۔ ملیر سے لے کر کھیرتھر رینج کے پہاڑوں تک جتنی ندیاں اور نالے ہیں ان پر 2003 میں سندھ اسمبلی کا منظور شدہ ریت بجری مائیننگ ایکٹ موجود ہے، جو شہید عبداللّٰہ مراد نے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی پاس کرایا تھا۔ یہ قانون آج بھی لاگو ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے سخت احکامات بھی ریت بجری مائیننگ کے خلاف موجود ہیں۔ ان قوانین اور عدالتی احکامات کی رو سے ملیر دریا سے لے کر کیرتھر نیشنل پارک اور اس سے نکلنے والے تمام ندی نالوں میں ریت بجری مائیننگ پر مکمل پابندی ہے۔

قانونی طور پر ملیر ایک زرعی خطہ ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ملیر کو تیزی سے کنکریٹ کے جنگل میں بدلا جا رہا ہے۔ زرعی زمینوں پر غیر قانونی کمرشل ہاؤسنگ اسکیمیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ صرف ہمارا الزام نہیں، بلکہ سرکاری ادارے خود تسلیم کر چکے ہیں کہ ان میں اکثریت غیر قانونی ہے، ان کی فہرستیں اخبارات میں بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس کے باوجود یہ دھندا آج بھی جاری ہے۔

مزید یہ کہ ملیر کی زرعی زمینوں اور ندیاں نالوں میں، خصوصاً سُکن ندی کے اندر فیکٹریاں تعمیر کی گئیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب کس قانون کے تحت ہوا؟ کوئی ادارہ جواب دینے کو تیار نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ کرپٹ سسٹم اور اس کے ماتحت اداروں کے تعاون سے ہو رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس پر کئی رپورٹس شائع ہوئیں اور یوٹیوب پر تفصیلی پروگرام بھی نشر ہو چکے ہیں، مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ ہم پچھلے دس سال سے چیخ رہے ہیں، لیکن یہ گورکھ دھندا بدستور جاری ہے۔ ”گندا ہے مگر دھندا ہے“ کے مصداق، ملیر سے کیرتھر نیشنل پارک تک یہ تباہی تیز رفتاری سے بڑھتی جا رہی ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ریاست، اس کے ادارے، منتخب نمائندے، سردار اور وڈیرے سب اس دھندے میں بلواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہیں۔ سندھ کی سیاستدان برادری شاید کھیرتھر نیشنل پارک کی تباہی کو سندھ کے قومی وجود سے منسلک نہیں سمجھتی، یا شاید انہوں نے جامشورو سے لے کر کراچی تک کے پہاڑوں، ندیوں، جنگلات اور انڈیجینس لوگوں سے خود کو لاتعلق کر لیا ہے۔

اسی طرح کراچی کی وہ سیاسی قیادت جو کراچی کی ”ملکیّت“ کے دعویدار ہیں، ان کی نظر میں کراچی صرف ان کے انتخابی حلقوں تک محدود ہے۔ اس لیے وہ لکیر کے فقیر بنے ہوئے ہیں اور شہر کے مضافاتی اور دیہی علاقوں میں جاری ماحولیاتی و سماجی تباہی سے بے پروا ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ تباہی صرف ملیر اور جامشورو کے مقامی لوگوں کے لیے نہیں، بلکہ اس کے اثرات پورے خطے پر پڑیں گے۔ اس کے نتائج سے صرف ہم نہیں مریں گے، بلکہ یہ پورا خطہ اس مکافاتِ عمل کی لپیٹ میں آئے گا۔ یہ لکھ کر رکھ لیجیے: اگر یہ تباہی نہ روکی گئی تو آنے والے وقت میں نہ کراچی بچے گا نہ کھیرتھر۔

Tags:

Agricultural land misuse SindhCivil society helpless SindhClimate impact KarachiCommercial housing on farmlandConcrete jungle expansionCorrupt governance SindhDesertification SindhEcological chain reaction SindhEcological collapse SindhEcological massacreEnvironmental activism ignoredEnvironmental injustice SindhEnvironmental law ignoredFarmers losing land MalirGovernment complicity land grabbingGravel mafia SindhHousing mafia SindhIllegal construction in riversIllegal housing schemes KarachiIllegal sand gravel miningIndigenous communities ignoredIndigenous rights ignoredIndigenous rights Sindh ignoredIndustrial factories in Sukhan riverJamshoro ecological damageJamshoro hills ruinedJamshoro rivers destroyedKarachi concrete expansionKarachi development mythKarachi ecological warKarachi Environmental CrisisKarachi forests goneKarachi future at riskKarachi groundwater depletionKarachi housing corruptionKarachi housing mafiaKarachi illegal developmentKarachi mountain blastingKarachi outskirts devastationKarachi political negligenceKarachi politicians negligenceKarachi rural destructionKarachi rural displacementKarachi social injusticeKarachi suburban crisisKarachi suburban neglectKarachi to Kirthar devastationKarachi urban sprawlKarachi water table fallingKirthar biodiversity lossKirthar National Park crisisKirthar riverbeds exploitationland mafia karachiLegal violations SindhMalir ecological collapseMalir environmental destructionMalir farmland destructionMalir greenery destroyedMalir River destructionMalir rivers blockedMalir water resources destroyedMining in protected areasNational park destructionNational park violationPolitical involvement environmental crimesPolitical silence KarachiSand mafia KarachiSand mining ban ignoredSardars corruptionSindh Assembly law violationSindh biodiversity crisisSindh corruption systemSindh ecological injusticeSindh ecosystem collapseSindh farmers helplessSindh forests destructionSindh heritage destructionSindh High Court orders defiedSindh indigenous displacementSindh judiciary orders ignoredSindh judiciary powerlessSindh land exploitationSindh land mafia ruleSindh land misuseSindh mountain destructionSindh natural heritage erasedSindh natural resources plunderSindh people betrayedSindh rural collapseSindh sand extractionSindh state-backed crimesSindh urban sprawl crisisSindh Water CrisisSocial destruction Karachi suburbsState institutions involvedState Within a StateState-backed ecological destructionTen years of protestsWaderas land grabbingwildlife habitat destructionYouTube reports ignored
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Wealthy-ancient-Romans-tomb-discovered-in-Albania
Previous

البانیہ میں قدیم رومی دور کی شاندار قبر دریافت

Iranian-film-cause-of-death-unknown
Next

ایرانی فلم "علت مرگ: نامعلوم” Cause of death : Unknown

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme