
دھرمیندر اور دوہری نگاہ کی معیشت (Dual gaze economy)
لورا مالوی کے فیمن اسٹ نظریے کا جب ہندی سینما پر اطلاق کیا جائے تو ہمارے سامنے دو نظریاتی سوالات کھڑے ہوجاتے ہیں ـ ایک؛ مارکسی سوال جو ثابت کرتا ہے امریکی سینما کے برعکس ہندی سینما میں بیانیے کی ملکیت ہیرو نہیں بلکہ ریاست کے پاس ہوتی ہے ـ اس نکتے پر مختصر بحث ہوچکی ہے کہ کیسے مالوی کا نظریہ ہندی سینما کے پوسٹ کالونیل نظریاتی ڈھانچے پر من وعن استعمال نہیں ہوسکتا ـ دوسرا سوال برصغیر کے خاندانی نظام اور اس تناظر میں عورت کی فلمی پیش کش سے جڑا ہے جس کے مطابق مرد بھی "تماشا” بنتا ہے مگر اس کی نوعیت مختلف ہوتی ہے ـ مرد کے جسم کا تماشا بننا گوکہ مغربی سینما کا بھی نظریہ ہے (مالوی کے نظریے کی توسیع) مگر جب یہ ہندی سینما (جنوبی سینما اور پاکستانی سینما و ڈرامہ بھی شامل کریں) تک پہنچتا ہے تو اس کی نوعیت بدل جاتی ہے ـ
برٹش فلم اسکالر رچرڈ ڈائر (Richard Dyer) کے مطابق مغربی فلموں میں مرد کے جسم کو بھی دکھایا جاتا ہے مگر یہ مرد کو عورت کی طرح جنسی شے اور غیر فعال نہیں بناتا ـ مردانہ جسم کو ایک خاص فریم ورک میں دکھایا جاتا ہے جس سے اس کا غلبہ اور مردانہ وقار برقرار رہتا ہے یعنی "گے” ہونے کا تاثر یا "نسوانیت” کو زائل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو پدرشاہیت کو مستحکم بناتا ہے ـ
رچرڈ ڈائر کی تھیوری کو وین ڈیم، بروس ولیس، سیلوسٹر اسٹالون اور آرنلڈ شیوازینگر وغیرہ وغیرہ کے جسم کی نمائش سے سمجھا جاسکتا ہے ـ ہندی سینما میں دھرمیندر کے ننگے یا پانی میں بھیگے جسم کی فلمی پیش کش بھی اس تھیوری کو تقویت پہنچاتی ہے جہاں وہ سیکشول اوبجیکٹ کی بجائے طاقت ، غلبہ ، تحفظ اور بہادری کی علامت بنتے ہیں ـ اس حوالے سے متعدد مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں جیسے فلم "دھرم ویر” (1977) میں زینت امان کا انہیں باندھ کر ننگے بدن پر چابک برسانے کا منظر جو ان کی طاقت اور بہادری کی علامت بن کر سامنے آتا ہے ـ اسی طرح فلم "رام بلرام” (1980) کے گیت:
لڑکی پسند کی
مشکل سے ملتی ہے
مل گئی ـ مل گئی
اس گیت کے سوئمنگ پول سین میں زینت امان کا بھیگا بدن ایروٹک ، دھرمیندر کا ننگا جسم عورت پر غلبے کی علامت ہے ـ خاص طور پر کیمرہ دھرمیندر کے رانوں کے درمیان ابھار پر فوکس کرتا ہے جو پدرشاہی سماجی نفسیات کے تناظر میں طاقت اور غلبے کا سیمبل ہے ـ
ہندی سینما مگر چوں کہ پوسٹ کالونیل نظریاتی ڈھانچے کے باعث قومی تعمیر و تشکیل کا نظریاتی آلہ ہے اس لئے اس پر رچرڈ ڈائر کی تھیوری کا اطلاق بھی محدود ہے ـ ہندی سینما ہیرو کے جسم کو صرف اوبجیکٹ بننے سے ہی نہیں بچاتا بلکہ اسے قومی اور سماجی شکل بھی دیتا ہے ـ
ہندی سینما میں ہیرو اور ہیروئن کے جسموں کی پیش کش کو دو فیمن اسٹ نظریات سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جو "دوہری نگاہ کی معیشت” کی بنیاد ہیں ـ
پیٹریشیا اوبرائے کی کتاب "Freedom and destiny” اس موضوع پر اہم دستاویز ہے ـ اس کتاب کا ایک باب ہندی سینما پر بحث کرتی ہے جس میں وہ لکھتی ہیں کہ عورت کا جسم جنسی کشش کا محور جب کہ مرد کا سماجی نظم و ضبط کی بحالی سے جڑا ہے ـ دوسرے لفظوں میں عورت تماشا بن کر بصری تلذز فراہم کرتی ہے ، مرد سماجی طاقت کی تصویر بنتا ہے ـ
برٹش پروفیسر رچل ڈوائر اپنی کتاب "Bollywood’s india” میں تقریباً اوبرائے سے اتفاق کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ ہندی سینما میں ہیرو کا جسم یقین دلاتا ہے کہ یہ برائیوں کا خاتمہ کرکے سماجی انصاف کو یقینی بنائے گا ـ ان کے مطابق ہندی سینما میں ہیرو کا جسم بھارتی قوم پرستی اور ریاستی بیانیے کی تمثیل ہے ـ
اوبرائے اور ڈوائر کی تحقیق سے نتیجہ نکلتا ہے کہ ہندی سینما میں بیک وقت دو نگاہیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں ـ ایک کیمرے کی نگاہ جو عورت کو بصری تلذذ کا مرکز بناتا ہے جب کہ دوسرا فلم بینوں کی نگاہ جو مرد کو خاندان (پرساد تھیوری کے مطابق خاندان سماج اور ریاست کی علامت ہے) کے تحفظ اور اس کے نظم کی بحالی کی علامت تصور کرتا ہے ـ دھرمیندر اس دوہری نگاہ کی معیشت کے مرکز میں کھڑے نظر آتے ہیں ـ جیسے "شعلے” ، "پرتگیا” ، "میرا گاؤں میرا دیش” یا "بٹوارا” جیسی فلموں میں لینڈ اسکیپ یا وادیوں کے بیچ میں دھرمیندر کا جسم ثقافتی اختیار کی علامت بنتا ہے ـ انہی یا اس قسم کی دیگر فلموں میں لڑائی کے سینز، دھول مٹی میں اٹے کپڑے، غصیلا چہرہ، آگ برساتی آنکھیں (گبر سنگھ میں آرہا ہوں جیسے ڈائیلاگ) طاقت اور سماجی انصاف کی بحالی کے تاثر کو پختہ کرتے ہیں ـ
لبرلائزیشن کے بعد ہندی سینما میں ہیرو کے جسم کی پیش کش میں نمایاں تبدیلی آئی ـ اس میں مارکیٹ اور گلوبل امیج کی آمیزش ہوئی جس نے دھرمیندر کی پیش کردہ مردانگی کو بدل دیا ـ آگے ہم اسی پر بحث کریں گے ـ طوالت سے بچنے کے لئے بحث کو شاہ رخ خان، سلمان خان اور رنبیر کپور کی مردانگی تک محدود رکھیں گے ـ بالخصوص سلمان خان جنہیں دھرمیندر کا جدید ورژن قرار دیا جاتا ہے ـ
جاری ہے




