Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

مظفرآباد: ’نقل نہ کروانے‘ پر ساتھی طالب علم کو قتل کرنے پر چار گرفتار

By Akhtar Rasool
جون 19, 2023 4 Min Read
0

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں پولیس نے اتوار کے روز تصدیق کی کہ ساتھی طالب علم کو قتل کرنے کے الزام میں چار طلبا کو گرفتار کیا گیا ہے، جنہوں نے اعترافِ جرم بھی کرلیا ہے

پولیس کے مطابق ”ان چار طلبا نے مبینہ طور پر اپنے ایک ساتھی طالب علم کو امتحان میں نقل نہ کروانے پر خنجر کے وار کر کے مار دیا تھا“

واضح رہے کہ گیارہویں جماعت کے طالب علم سترہ سالہ علی رشید مغل کی لاش جمعے کے روز ایک سرکاری اسکول کے احاطے سے ملی تھی، جہاں وہ گیارہویں جماعت کا امتحان دینے گئے تھے

پولیس نے ہتھکڑیاں لگے چار نوجوان لڑکوں کی تصویر بھی جاری کی ہیں، جن کی عمریں سولہ سے انیس سال کے درمیان ہیں

پولیس کے مطابق گرفتار نوجوانوں میں سے تین مقتول علی رشید کے ہم جماعت ہی ہیں، جبکہ چوتھے طالب علم بھی ان کے ساتھی ہیں اور وہ اسی نجی اسکول میں بارہوں جماعت کے طالب علم ہیں، جہاں یہ سب پڑھتے تھے

تفصیلات بتاتے ہوئے تھانہ سٹی مظفرآباد کے ایس ایچ او جاوید گوہر نے کہا ”چاروں ملزمان کو ان شواہد کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا، جو اس اندھے قتل کے بعد ابتدائی تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آئے اور بعد ازاں پولیس کو ملنے والی ایک مختصر سی سی ٹی وی فوٹیج سے ان شواہد کی تصدیق ہوئی۔ گرفتار چاروں ملزمان نے دورانِ تفتیش پولیس کے دیے گئےابتدائی بیان میں اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے اور قتل کی وجہ مقتول کی جانب سے ’دوران امتحان انہیں نقل نہ کرنے دینا اور ان کی شکایت امتحانی عملے سے کرنا‘ بتائی ہے“

جاوید گوہر کا کہنا تھا ”گرفتار ملزمان میں سے تین مقتول کے ہم جماعت ہیں اور وہ امتحانی ہال میں ان کے ساتھ بیٹھتے تھے. مقتول چونکہ لائق بچہ تھا اور امتحان کی تیاری کر کے آتا تھا۔ یہ لڑکے اس کا پرچہ دیکھ کر اپنے پرچے پر نقل کرتے تھے۔ مقتول علی رشید نے ان کو کئی بار منع کیا مگر وہ بار بار اسے تنگ کرتے تھے۔ جس پر مقتول نے امتحانی عملے سے شکایت کر کے اپنی نشست تبدیلی کروا لی“

ملزمان کے بیان کے مطابق ان کا ارادہ قتل کا نہیں تھا بلکہ وہ اسے ڈرا دھمکا کر ’معاملہ ختم کرنا چاہتے تھے۔‘ مگر پولیس کے مطابق عین چھٹی کے وقت ان کے چوتھے ساتھی کے خنجر لے کر امتحانی مرکز پر پہنچنے سے یہ واضح ہے کہ انہوں نے اس واردات کی ’باقاعدہ منصوبہ بندی‘ کر رکھی تھی

مقتول علی رشید کی والدہ نے اپنے بیان میں پولیس کو بتایا کہ مقتول نے ان لڑکوں کے ساتھ جھگڑے کا ذکر گھر پر بھی کیا تھا اور بتایا کہ یہ لڑکے اسے ’سبق سکھانے‘ کی دھمکیاں دے رہے ہیں، مگر انہوں نے اس بات کو سنجیدہ نہیں لیا

اپنے بیان میں مقتول کی والدہ نے کہا ”اس نے مجھے اپنے موبائل میں ان لڑکوں کی تصاویر بھی دکھائیں اور بتایا کہ یہ مجھے دھمکیاں دے رہے ہیں، مگر میں سمجھی کہ اس عمر میں بچوں کے درمیان تو تکرار عام سی بات ہے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس حد تک چلے جائیں گے“

مقتول علی رشید کی لاش جمعے کے روز مظفرآباد کے پائلٹ ہائی اسکول کے احاطے سے ملی۔ یہ گیارہویں جماعت کے امتحانات کا آخری دن تھا

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتول علی کی پیٹھ پر بائیں جانب خنجر کا وار کیا گیا، جو سیدھا ان کے دل کے اندر اتر گیا اور موقع پر ہی اس کی موت واقع ہو گئی

جاوید گوہر کے مطابق ”پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق وہ انتظار میں تھے۔ جونہی مقتول امتحانی ہال سے نکلے، وہ انہیں سکول کے عقبی حصے میں لے گئے اور خنجر کا وار کر کے بھاگ گئے“

جاوید گوہر نے بتایا کہ مقتول کی والدہ کے بیان کے بعد پولیس نے امتحانی سینٹر سے مقتول کے ساتھ امتحان میں شامل طلبا کا ریکارڈ حاصل کر کے تعلیمی دستاویزات پر موجود ان کی تصاویر والدہ کو دکھائیں تو انہوں نے تین ایسے لڑکوں کو شناخت کر لیا جنہوں نے مقتول کو دھمکیاں دی تھیں

اس کے بعد پولیس نے ان کی تلاش شروع کر دی مگر یہ واردات کے بعد علیحدہ علیحدہ جگہوں پر چھپ گئے تھے

مبینہ ملزمان میں سے تین کا تعلق ایک ہی گاؤں سے ہے اور وہ آپس میں رشتہ دار ہیں، جبکہ چوتھے کا تعلق ایک علیحدہ گاؤں سے ہے

پولیس نے ان کے گھروں پر چھاپے مارے تو ان میں سے کوئی بھی اپنے گھروں میں موجود نہیں تھا بلکہ ارد گرد کے گھروں میں روپوش تھے اور وہیں سے گرفتار ہوئے

اس سوال پر کہ کیا پولیس نے امتحانی عملے سے پوچھ گچھ کی کہ انہوں نے مقتول طالب علم کی شکایت پر کوئی کارروائی کیوں نہیں کی؟ جاوید گوہر نے کہا ”ابھی تفتیش کے کئی مراحل باقی ہیں۔ اگر ضروری ہوا تو امتحانی عملے کو بھی شامل تفتیش کیا جائے گا اور جو بھی ملوث ہوا یا غفلت کا مرتکب پایا گیا اس کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی“

مقتول علی رشید کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ مظفرآباد کے نواحی قصبے گڑھی دوپٹہ کے رہائشی تھے اور ان کے والد بجلی کے محکمے میں لائن مین ہیں۔ علی رشید کافی عرصے تک بیمار رہنے کے بعد صحتیاب ہوئے تھے او انہیں پڑھنے لکھنے کا کافی شوق تھا اور وہ اپنی جماعت کے نمایاں طالب علم تھے

اس سوال پر کہ کیا ان طلبا کی مقتول کے ساتھ امتحان سے قبل بھی کوئی دشمنی تھی یا کبھی لڑائی ہوئی؟ پولیس نے بتایا کہ ابھی ایسے کوئی شواہد نہیں ملے، تاہم اس معاملے کی ہر پہلو سے جانچ کی جائے گی۔

Tags:

7 killedbridge incident in muzaffarabadcrpf personnel killedkashmir: protesting students clash with policekilled in shopian encounterminor boy killedminor boy killed anantnag attackminor boy killed in anantnagmuzaffarabadmuzaffarabad citymuzaffarabad in pokmuzaffarabad kashmirmuzaffarabad protestmuzaffarabad protestsmuzaffarabad riverrally in muzaffarabadStudentssufi singer killedtwo terrorists killed in traluajk students
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

نصف صدی بعد پولیو سے تحفظ کی نئی طاقتور ویکسین تیار کر لی گئی

Next

اب راستہ ڈھونڈنا اور بھی آسان۔۔ گوگل تھری ڈی میپ متعارف

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme