امریکا، ایران اور اسرائیل کی بڑھتی کشیدگی: کیا سفارت کاری جنگ پر غالب آ سکے گی؟

سنگت ڈیسک

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید جغرافیائی اور سیاسی ہلچل کا مرکز بنا ہوا ہے۔ امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کو تقریباً ایک ماہ مکمل ہونے کو ہے اور اس دوران خطہ مسلسل غیر یقینی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ عسکری سرگرمیوں، سفارتی پیغامات اور پسِ پردہ رابطوں کی خبروں نے عالمی سطح پر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا یہ تنازع مکمل جنگ میں تبدیل ہوگا یا مذاکرات کی کوئی راہ نکل آئے گی؟

اطلاعات کے مطابق واشنگٹن نے پاکستان کے ذریعے تہران تک ایک جامع تجویز پہنچائی ہے جس میں جنگ بندی اور مذاکرات کے آغاز کے لیے متعدد نکات شامل ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکا ایک ماہ کی عارضی جنگ بندی چاہتا ہے تاکہ کشیدگی کم کر کے باضابطہ مذاکرات شروع کیے جا سکیں۔ تاہم اس پیشکش کو حتمی پیش رفت قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ دونوں فریقین کے مؤقف میں گہرا فرق موجود ہے۔

 امریکا کی حکمتِ عملی: دباؤ اور سفارت کاری ساتھ ساتھ

امریکا کی پالیسی بظاہر دو رُخی دکھائی دیتی ہے۔ ایک جانب وہ سفارتی چینلز کھلے رکھنے کی بات کرتا ہے، دوسری طرف خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو کم نہیں کر رہا۔ عسکری ماہرین کے مطابق واشنگٹن کی کوشش ہے کہ فوجی دباؤ کو مذاکراتی عمل کے ساتھ جوڑ کر ایران کو رعایت دینے پر آمادہ کیا جائے۔

امریکی تجویز کے مرکزی نکات میں ایران کے جوہری پروگرام پر سخت نگرانی، یورینیم کی افزودگی کی سطح میں کمی، بیلسٹک میزائل پروگرام کی حد بندی اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کا خاتمہ شامل بتایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی نمایاں ہے، کیونکہ یہ گزرگاہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔

امریکی قیادت پر داخلی سیاسی دباؤ بھی موجود ہے۔ طویل جنگ کے اخراجات، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی عسکری مصروفیات اور عالمی سطح پر سفارتی تنقید واشنگٹن کو کسی نہ کسی سفارتی حل کی طرف بڑھنے پر مجبور کر رہی ہیں۔

ایران کا مؤقف: سلامتی، خودمختاری اور پابندیوں کا خاتمہ

ایران اس تنازع کو اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کا معاملہ قرار دیتا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اگر جنگ ختم کرنی ہے تو سب سے پہلے اس کے جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے۔ ایران جنگ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے، تمام معاشی پابندیوں کے خاتمے اور مستقبل میں کسی بھی حملے یا حکومت کی تبدیلی کی کوششوں سے گریز کی واضح بین الاقوامی ضمانت کا مطالبہ کر رہا ہے۔

ایرانی قیادت کا خیال ہے کہ دباؤ کے تحت مذاکرات دراصل یکطرفہ شرائط مسلط کرنے کی کوشش ہوتے ہیں، اس لیے وہ کسی بھی ایسے معاہدے کو قبول کرنے سے گریز کرے گی جس میں طاقت کا عدم توازن واضح ہو۔ ایران کے نزدیک اصل مسئلہ صرف جوہری پروگرام نہیں بلکہ خطے میں اس کے کردار اور اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش ہے۔

اسرائیل کا زاویہ: فوری جنگ بندی کیوں مشکل؟

اگرچہ ممکنہ امریکا۔ایران مذاکرات میں اسرائیل براہِ راست شامل نہیں، لیکن اس کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اسرائیل ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو اپنے لیے وجودی خطرہ سمجھتا ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ ایران کی عسکری صلاحیت کو بنیادی سطح پر کمزور کیے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل فوری جنگ بندی کے حق میں نہیں دکھائی دیتا، خصوصاً اگر اس کے بنیادی مقاصد ایران کی جوہری تنصیبات، میزائل صلاحیت اور علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنا  حاصل نہ ہوں۔ یہی عنصر ممکنہ سفارتی پیش رفت کو پیچیدہ بنا دیتا ہے، کیونکہ اگر واشنگٹن اور تہران کسی عبوری سمجھوتے پر پہنچ بھی جائیں تو اسرائیل کا ردعمل پورے عمل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

 جنگ اور مذاکرات: متضاد یا مربوط حکمت عملی؟

یہ سوال اہم ہے کہ کیا ایک ہی وقت میں جنگی کارروائیاں اور مذاکراتی کوششیں متضاد نہیں؟ بین الاقوامی سیاست میں اسے اکثر “فائٹ اینڈ ٹاک” حکمت عملی کہا جاتا ہے، جس میں فریقین میدان میں طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے میز پر بہتر شرائط حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

موجودہ حالات میں بھی یہی منظرنامہ دکھائی دیتا ہے۔ امریکا عسکری دباؤ کے ذریعے اپنی شرائط منوانا چاہتا ہے، جبکہ ایران جوابی کارروائیوں کے ذریعے یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ کمزور نہیں۔ اس کشمکش میں کسی بھی غلط اندازے یا حادثاتی تصادم کا خطرہ بھی موجود ہے، جو تنازع کو وسیع جنگ میں تبدیل کر سکتا ہے۔

کیا کوئی راستہ باقی ہے؟

حالات جتنے پیچیدہ نظر آتے ہیں، مکمل بند گلی کا تاثر دینا بھی درست نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ شدید کشیدگی کے باوجود پسِ پردہ سفارت کاری اکثر راستہ نکال لیتی ہے۔ عارضی جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے، محدود نوعیت کے اعتماد سازی اقدامات یا علاقائی ثالثی جیسے اقدامات ابتدائی پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔

تاہم پائیدار حل کے لیے دونوں جانب سے لچک اور اعتماد سازی ناگزیر ہوگی۔ اگر مطالبات زیادہ سے زیادہ دباؤ اور کم سے کم رعایت کے اصول پر قائم رہے تو مذاکرات محض رسمی بیانات تک محدود رہیں گے۔

آخرکار، مشرقِ وسطیٰ کا استحکام صرف عسکری برتری سے نہیں بلکہ سنجیدہ اور باوقار سفارت کاری سے ممکن ہے۔ آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ آیا فریقین تصادم کی راہ پر مزید آگے بڑھتے ہیں یا سیاسی دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مشکل مگر ممکن سفارتی راستہ اختیار کرتے ہیں۔


پاکستان میں پیٹرول کی فراہمی مستحکم، مارچ اور اپریل کے لیے انتظامات مکمل

 

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بیانات اور دعوؤں کا تبادلہ تیزی اختیار کر گیا ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button