
اسلام آباد کی صبح غیر معمولی تھی۔ فضا میں خاموشی تھی مگر سیاسی درجہ حرارت بلند۔ سرینا ہوٹل کے باہر کیمروں کی قطاریں، اندر بند کمروں میں 21 گھنٹے کی مسلسل گفت و شنید، اور پھر ایک مختصر پریس کانفرنس چند منٹوں میں دنیا بھر کی شہ سرخیاں بدل گئیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعلان کیا: معاہدہ نہیں ہو سکا۔
لیکن کیا واقعی بات ختم ہو گئی؟
یا یہ صرف ایک وقفہ ہے ایک طویل اور پیچیدہ عمل میں؟
آئیے، مرحلہ وار سمجھتے ہیں کہ اسلام آباد میں کیا ہوا، کس نے کیا کہا، اور اس کے بعد خطہ اور دنیا کس سمت جا سکتی ہے۔
21 گھنٹے کی سفارت کاری: بند کمرے میں کیا ہوا؟
مذاکرات تین ادوار پر مشتمل تھے۔ پہلے مرحلے میں بالواسطہ پیغامات کا تبادلہ ہوا۔ دوسرے مرحلے میں براہ راست بات چیت کی گئی۔ تیسرے مرحلے میں تکنیکی ٹیموں نے تفصیلی نکات پر کام کیا۔
ذرائع کے مطابق:
- ایٹمی پروگرام بنیادی نکتہ تھا
- آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایک حساس موضوع رہا
- لبنان اور علاقائی کشیدگی بھی ایجنڈے میں شامل تھی
- پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں پر بھی بات ہوئی
اکیس گھنٹے کوئی مختصر وقت نہیں۔ خاص طور پر جب دو ایسے ممالک آمنے سامنے ہوں جن کے درمیان 47 برس کی بداعتمادی موجود ہو۔
وینس کا پیغام: سختی بھی، نرمی بھی
روانگی سے قبل امریکی نائب صدر نے کہا:
- ہم نے لچک دکھائی
- ہم نیک نیتی سے آئے
- ہم نے اپنی سرخ لکیریں واضح کر دیں
- ایران نے ہماری شرائط قبول نہیں کیں
اہم بات یہ تھی کہ انہوں نے پاکستان کی تعریف کی اور واضح کیا کہ ناکامی میزبان کی وجہ سے نہیں ہوئی۔
یہ جملہ سفارتی لحاظ سے بہت اہم تھا۔
کیوں؟
کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ امریکہ پاکستان کو مستقبل میں بھی قابلِ اعتماد ثالث سمجھتا ہے۔
لیکن وینس نے ایک اور جملہ کہا:
"ہم ایک سادہ اور بہترین پیشکش چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ دیکھتے ہیں ایران کیا جواب دیتا ہے۔”
یعنی دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا۔
ایران کا مؤقف: ناکامی نہیں، جزوی پیش رفت
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مختلف انداز اپنایا۔ ان کے مطابق:
- کئی نکات پر مفاہمت ہو گئی
- صرف دو یا تین بڑے اختلافی معاملات باقی تھے
- ایک نشست میں معاہدے کی توقع غیر حقیقی تھی
- سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی
یہاں بیانیے کا فرق نمایاں ہے۔
امریکہ کہتا ہے: "معاہدہ نہیں ہوا۔”
ایران کہتا ہے: "مذاکرات جاری رہیں گے۔”
دونوں باتیں بیک وقت درست ہو سکتی ہیں۔
سیاسی سطح کا دور ختم ہو سکتا ہے، مگر تکنیکی بات چیت جاری رہ سکتی ہے۔
جنگ بندی کا سوال: اصل امتحان آگے ہے
سب سے حساس سوال یہ ہے:
کیا جنگ بندی برقرار رہے گی؟
جنگ بندی کی مدت ختم ہونے میں چند ہی دن باقی ہیں۔ اگر ان دنوں میں پیش رفت نہ ہوئی تو خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
توانائی منڈی پہلے ہی دباؤ میں ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی تجارت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
اگر کشیدگی بڑھی تو:
- تیل کی قیمتوں میں اضافہ
- عالمی افراط زر میں اضافہ
- خطے میں فوجی سرگرمیوں میں شدت
ممکنہ نتائج ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کا کردار: خاموش مگر مؤثر سفارت کاری
اسلام آباد میں یہ ملاقات معمولی نہیں تھی۔
پاکستان نے:
- دونوں فریقوں کو ایک میز پر بٹھایا
- اعتماد سازی میں کردار ادا کیا
- جنگ بندی کی اپیل کی
- مذاکرات کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریق مثبت رویہ جاری رکھیں گے اور جنگ بندی کی پاسداری کریں گے۔
سفارتی حلقوں میں یہ بات تسلیم کی جا رہی ہے کہ پاکستان نے اپنی ساکھ داؤ پر لگا کر ایک بڑا سفارتی قدم اٹھایا۔
تجزیہ کار کیا کہہ رہے ہیں؟
بین الاقوامی ماہرین کی آرا مختلف ہیں:
- کچھ کے مطابق امریکہ جلد معاہدہ چاہتا تھا
- بعض کا خیال ہے ایران وقت لے کر بہتر شرائط چاہتا ہے
- کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل معرکہ تکنیکی نکات پر ہے
- کچھ اسے ایک "عمل” قرار دے رہے ہیں، نہ کہ ایک ڈرامائی ناکامی
ایک رائے یہ بھی ہے کہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی "ریڈ لائنز” واضح کر لیں اور یہ خود ایک بڑی پیش رفت ہے۔
اصل اختلافات کہاں ہیں؟
1. جوہری پروگرام
امریکہ طویل المدتی یقین دہانی چاہتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔
ایران اسے اپنی خودمختاری کا معاملہ سمجھتا ہے۔
2. آبنائے ہرمز
ایران اسے اپنی اسٹریٹجک برتری سمجھتا ہے۔
امریکہ آزادانہ جہاز رانی چاہتا ہے۔
3. پابندیاں
ایران معاشی ریلیف چاہتا ہے۔
امریکہ جوہری اور میزائل پروگرام میں کمی کے بغیر نرمی پر آمادہ نہیں۔
کیا اگلا دور اسلام آباد میں ہوگا؟
وینس نے پاکستان کی کھل کر تعریف کی۔
ایران نے بھی ثالثی کردار کو تسلیم کیا۔
یہ اشارہ ہے کہ اگلا دور بھی اسی مقام پر ہو سکتا ہے۔
اسلام آباد اب صرف ایک شہر نہیں رہا یہ ایک سفارتی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔
سفارتی زبان کے پیچھے اصل پیغام
اگر الفاظ غور سے پڑھے جائیں تو:
- "ابھی تک معاہدہ نہیں ہوا”
- "مذاکرات جاری رہیں گے”
- "ہم بہترین پیشکش چھوڑ رہے ہیں”
- "ہم نے لچک دکھائی”
یہ سب مکمل انکار کی زبان نہیں۔
یہ ایک کھلا دروازہ ہے۔
عالمی منظرنامہ: آگے کیا؟
آنے والے دنوں میں تین امکانات ہیں:
- تکنیکی سطح پر پیش رفت ہو اور سیاسی قیادت دوبارہ ملے
- محدود پیش رفت ہو مگر جنگ بندی برقرار رہے
- مذاکرات تعطل کا شکار ہوں اور کشیدگی بڑھ جائے
فی الحال سب سے بڑا سوال یہی ہے:
کیا دونوں فریق سیاسی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں؟
21 گھنٹے ضائع ہوئے یا بنیاد رکھی گئی؟
اکیس گھنٹے میں معاہدہ نہیں ہوا۔
مگر اکیس گھنٹے میں:
- 47 برس کی براہ راست خاموشی ٹوٹی
- دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا
- سرخ لکیریں واضح ہوئیں
- ممکنہ راستے کھلے
سفارت کاری کبھی ایک نشست میں مکمل نہیں ہوتی۔
2015 کا جوہری معاہدہ بھی برسوں کی بات چیت کے بعد ممکن ہوا تھا۔
نتیجہ: وقفہ یا موڑ؟
اسلام آباد مذاکرات کو ناکامی کہنا شاید جلد بازی ہو۔
یہ زیادہ درست ہوگا کہ اسے ایک مرحلہ کہا جائے ایک عمل کا حصہ۔
اب گیند واقعی ایران کے کورٹ میں ہے؟
یا امریکہ کو بھی مزید لچک دکھانی ہوگی؟
دنیا انتظار میں ہے۔
خطہ انتظار میں ہے۔
جنگ بندی کی گھڑی ٹک ٹک کر رہی ہے۔
اور اسلام آباد ایک بار پھر سفارتی تاریخ کے مرکز میں کھڑا ہے۔
بی بی سی نیوز کی رپورٹ




