
واشنگٹن ڈی سی کے قلب میں واقع ’نیشنل پارک‘ کی ہریالی میں دھوپ کی تمازت اب 80 ڈگری فارن ہائیٹ کو چھو رہی ہے۔ ’راک کریک پارک‘ کی ٹھنڈی ندی کے کنارے چار سالہ بچوں کا ایک غول کیچڑ میں ہاتھ ڈالے کیکڑا نما دریائی جھینگے (Crayfish) ڈھونڈنے میں مگن ہے۔ ان بچوں کی ٹولی کے پیچھے 55 سالہ براؤن کھڑی مسکرا رہی ہیں، جو ’فاریسٹ کڈز‘ (ForestKids) کے نام سے ایک منفرد پروگرام چلاتی ہیں۔ ان کا مشن سادہ لیکن گہرا ہے: نئی نسل کو اس مٹی اور ہریالی سے دوبارہ جوڑنا، جسے ہم کہیں پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔
براؤن بتاتی ہیں کہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں جب انہوں نے ماحولیات کے لیے آواز اٹھانا شروع کی، تو اسے ایک ”عجیب و غریب حقیر بات“ سمجھا جاتا تھا۔ لوگ طنزیہ طور پر کہتے، ”اوہ خدایا، تم ایک ’ٹری ہگر‘ (Tree Hugger) یعنی درخت سے لپٹنے والی ہو؟“ اس وقت یہ لفظ ایک گالی یا تحقیر کے طور پر استعمال ہوتا تھا، لیکن 2026 کی اس روشن صبح براؤن فخر سے کہتی ہیں کہ اب یہ لفظ ان کے لیے اعزاز بن چکا ہے۔
ہمالیہ کی گود سے جنم لینے والی اصطلاح
دلچسپ بات یہ ہے کہ ”ٹری ہگر“ کی اصطلاح نے کسی مغربی میگزین کے دفتر میں نہیں، بلکہ ہمالیہ کے برف پوش پہاڑوں اور بل کھاتے راستوں میں جنم لیا۔ ماحولیاتی مورخ رام چندر گوہا کے مطابق، اس کی اصل 1973 کی بھارت کی مشہور ’چپکو آندولن‘ (Chipko Movement) ہے۔ ہندی زبان میں ”چپکو“ کا مطلب ہے ”چمٹ جاؤ“۔
یہ کہانی ہمالیہ کی برف پوش چوٹیوں اور گھنے جنگلات کی ہے، جہاں انسان اور فطرت کا رشتہ محض ضرورت کا نہیں بلکہ عقیدت کا تھا۔ یہ محض ایک احتجاج نہیں تھا، بلکہ زمین کے بیٹوں اور خاص طور پر بیٹیوں کی طرف سے اپنی جڑوں کو بچانے کی ایک والہانہ پکار تھی۔ یہ محض جذباتی لگاؤ کی بھی کہانی نہیں تھی بلکہ دراصل یہ بقا کی جنگ تھی۔ ہمالیہ کے دیہی باشندے اپنی معیشت کے ضامن ’ہارن بیم‘ (Hornbeam) کے درختوں کو بچانے کے لیے میدان میں اترے تھے، جنہیں حکومت نے ایک بین الاقوامی کمپنی کو ٹینس ریکٹ بنانے کے لیے فروخت کر دیا تھا۔
ہوا کچھ یوں کہ 1963 کی ہند-چین جنگ کے بعد، اتراکھنڈ کے دور دراز علاقوں میں سڑکیں بنیں تو ترقی کے نام پر بڑی بڑی تجارتی کمپنیوں کی نظریں یہاں کے ہریالی بھرے خزانوں پر پڑیں۔ حکومت نے مقامی دیہاتیوں کو تو لکڑی کاٹنے سے روک دیا، لیکن بیرونی کمپنیوں کو جنگلات کے قتلِ عام کا پروانہ دے دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہولناک سیلاب آنے لگے، مٹی بہہ گئی اور پانی کے چشمے خشک ہونے لگے۔
1973 میں جب ایک اسپورٹس کمپنی کو ٹینس ریکیٹ بنانے کے لیے جنگل کاٹنے کی اجازت ملی، تو منڈل گاؤں کے لوگ تڑپ اٹھے۔ گاندھی جی کے فلسفے پر چلنے والے سماجی کارکن چندی پرساد بھٹ نے ایک انوکھا راستہ دکھایا۔ انہوں نے کہا: ”اگر کلہاڑی چلے گی، تو پہلے ہمارے جسموں پر چلے گی!“
لوگوں نے درختوں کو بانہوں میں بھر لیا۔ درخت کاٹنے والے حیران رہ گئے اور بالآخر حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا۔
1974 میں ایک نیا موڑ آیا۔ مردوں کو معاوضے کے بہانے شہر بلا لیا گیا تاکہ پیچھے سے خاموشی سے جنگل صاف کر دیا جائے۔ لیکن درخت کاٹنے والوں کا سامنا ایک نڈر خاتون گورا دیوی اور ان کی 27 ساتھی خواتین سے ہوا۔ ان عورتوں نے ہمالیہ کی چٹانوں کی طرح درختوں کے گرد گھیرا ڈال لیا۔ انہوں نے کہا، ”یہ مائکا (میکے) ہے ہمارا، اسے ہم کٹنے نہیں دیں گی۔“ ان کی ہمت کے آگے فولاد کی کلہاڑیوں نے گھٹنے ٹیک دیے۔
یہ تحریک صرف نعروں تک محدود نہ تھی، اس میں روحانیت اور مزاحمت کا حسین امتزاج تھا۔ عظیم ماہرِ ماحولیات سندر لال بہوگنا نے 1974 میں 14 دن تک بھوک ہڑتال کی اور بعد میں ہمالیہ کے 5000 کلومیٹر طویل پیدل سفر کے ذریعے اس پیغام کو پوری دنیا میں پھیلایا۔ خواتین نے درختوں کو راکھیاں باندھیں جیسے بھائیوں کی حفاظت کا عہد کیا جاتا ہے۔ احتجاج کے دوران درختوں کے نیچے بیٹھ کر بھگوت گیتا پڑھی گئی تاکہ درخت کاٹنے والوں کے ضمیر کو جھنجھوڑا جا سکے۔ پُلنا گاؤں کی خواتین نے تو درخت کاٹنے والوں کے اوزار ہی چھین لیے اور انہیں رسید دے دی کہ ”اپنے اوزار واپس لے جانا، مگر یہاں سے جانے کے بعد!“
گوہا کہتے ہیں، ”یہ ان کی معاشی اور سماجی آزادی کا اعلان تھا۔“ اس تحریک میں خواتین کا کردار کلیدی تھا اور ان کی ہمت نے بالآخر حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ اس عوامی لہر کا اثر یہ ہوا کہ 1980 میں اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے ہمالیہ کے ان علاقوں میں تجارتی کٹائی پر 15 سالہ پابندی عائد کر دی۔ یہ دنیا کی ماحولیاتی تاریخ میں ایک بہت بڑی فتح تھی۔
’چپکو تحریک‘ کے اثرات اور میراث کی بات کی جائے تو اس تحریک نے ثابت کر دیا کہ عورتیں ماحولیات کی سب سے بڑی محافظ ہیں۔ عدم تشدد میں اتنی طاقت ہے کہ وہ بڑی بڑی مشینوں کا راستہ روک سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ترقی کا مطلب تباہی نہیں ہونا چاہیے۔
آج یہ تحریک ”ہمالیہ بچاؤ“ مہم میں بدل چکی ہے۔ اگرچہ چیلنجز اب بھی موجود ہیں، لیکن چپکو کی یاد آج بھی ہر اس شخص کے دل میں تازہ ہے جو کسی پودے کو بچانے کے لیے جھکتا ہے۔ سبق سادہ ہے: اگر درخت سانس لیں گے، تبھی ہم سانس لے پائیں گے۔
وندنا شیوا جیسی ممتاز ماہرِ ماحولیات اس کی جڑیں مزید پیچھے 1730 تک لے جاتی ہیں، جب ’بشنوئی‘ برادری کے لوگوں نے مقدس ’کھیجری‘ درختوں کو بچانے کے لیے اپنی جانیں قربان کر دی تھیں۔
راجستھان میں یہ ’کھجڈلی آندولن‘ ماحولیات بچانے کی مہم، ایک بہترین مثال ہے۔ کھجڈلی گاؤں کی یہ تحریک مقامی لوگوں نے شروع کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ 1730 میں جودھپور کے مہاراج کا محل بنانے کے لئے لکڑی کی ضرورت تھی۔ راجا کے سپاہی کلہاڑی لے کر کھجڈلی گاؤں میں پہنچ گئے۔ لیکن گاؤں کی خاتون امریتا دیوی نے سپاہیوں کی مخالفت کی اور اپنی تین بیٹیوں کے ساتھ پیڑ سے لپٹ گئیں۔ جنگلات کو بچانے کے لئے وہ آخری سانس تک لڑتی رہیں۔ ان کے مارے جانے کی خبر کے پھیلتے ہی 363 لوگوں نے بھی جنگلات بچانے کے لئے اپنی جان دے دی۔ اس تحریک کا ذکر ریچرڈ بروے نے بھی کیا ہے۔
اسی عظیم قربانی کی یاد میں حکومتِ ہند نے 2013 سے 11 ستمبر کو ’جنگلات کے شہداء کا قومی دن‘ منانا شروع کیا۔
امریکہ: جب تمسخر تحریک بن گیا
امریکہ میں اس لفظ کا سفر ذرا مختلف رہا۔ 1965 میں جب شکاگو کے جیکسن پارک میں شاہراہ کی تعمیر کے لیے درخت گرائے جا رہے تھے، تو اخبارات نے سرخی لگائی: ”آریاں ٹری ہگرز کے گرد گونج رہی ہیں“۔ 1990 کی دہائی تک یہ لفظ سیاسی میدان میں مخالفین کو نیچا دکھانے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ 2010 میں جب ریپبلکن لیڈر نیوٹ گنگرچ نے موسمیاتی تبدیلی پر تعاون کی بات کی، تو ان کی اپنی پارٹی نے انہیں حقارت سے ’ٹری ہگر‘ پکارا، جس سے انہوں نے فوری جان چھڑانے کی کوشش کی۔
لیکن فلسفے کے پروفیسر راجر گوٹلیب اس رویے کو انسانی انا کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔ وہ اپنے طلباء کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ کسی ایک درخت کو اپنا دوست بنائیں اور اس پر ڈائری لکھیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایک طالب علم جو شروع میں اسے ”بے وقوفی“ کہتا تھا، تین ہفتے بعد اپنے پسندیدہ درخت کا نام ’جارج‘ رکھ چکا تھا اور اس کی بیماری پر پریشان رہتا تھا۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ایک انسان واقعی ’ٹری ہگر‘ بنتا ہے۔
جنریشن زی اور نیا سورج
آج کی نوجوان نسل یعنی ’جنریشن زی‘ نے اس پرانے طنز کو اپنی پہچان بنا لیا ہے۔ 31 سالہ مصنفہ لیاہ تھامس کہتی ہیں کہ یہ اب ’ایکو فیمینزم‘ (Ecofeminism) کی علامت ہے۔ وہ جولیا بٹر فلائی ہل کی مثال دیتی ہیں جنہوں نے 1990 کی دہائی میں ایک ہزار سال پرانے درخت کو بچانے کے لیے اس پر 738 دن قیام کیا۔
’راک کریک پارک‘ میں آج زندگی مسکرا رہی ہے۔ کوئی ’ایلم‘ (Elm) کے درخت کے سائے میں مطالعہ کر رہا ہے، تو کوئی ’اوک‘ (Oak) یعنی شاہ بلوط کے ساتھ اپنی بائیک کھڑی کر کے دم لے رہا ہے۔ یہ درخت صرف آکسیجن کے کارخانے نہیں، بلکہ ہماری زمین کا وہ قدیم ورثہ ہیں جو ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔
ندی کے کنارے جب ننھے بچے ”کری فش“ دریافت کر کے خوشی سے چلاتے ہیں، تو ان کی آوازیں ان گھنے درختوں میں گونجتی ہیں جنہیں کبھی بچانے کے لیے انسانوں نے گلے لگایا تھا۔ شاید فطرت سے محبت کی یہ انوکھی کہانی اب حقارت کے سائے سے نکل کر بقا کے نور میں داخل ہو چکی ہے۔
______________________
-
درخت، لڑکی اور 738 دن: ایک انوکھا احتجاج جو تاریخ بن گیا
-
گُگھر کی قیمتی رال، ماحول دشمنوں کے منہ سے بہتی لالچ کی رال اور عالمی تحفظ کی کہانی
-
ہجامڑو کریک کے سمندری جنگلات، زرمبادلہ اور ماحولیاتی توازن کا ذریعہ
______________________




