Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Iran US war Sangat Mag
اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

ایران کو امریکہ سے مذاکرات پر شکوک، روس اور چین کا محتاط مؤقف

By Akhtar Rasool
اپریل 20, 2026 3 Min Read
0

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے محتاط اور غیر پُرامید رویہ اختیار کیا ہے، جبکہ روس اور چین نے بھی صورتحال پر اپنے اپنے انداز میں ردعمل دیا ہے۔ سفارتی سطح پر بیانات کے اس تبادلے نے واضح کر دیا ہے کہ خطے میں اعتماد کا فقدان بدستور برقرار ہے۔

ایران: “ہم پُرامید نہیں، بلکہ حقیقت پسند ہیں”

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی  نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ معاملات کے حوالے سے حد سے زیادہ امید وابستہ نہیں کر رہا۔ ان کے بقول ایران کا رویہ جذباتی نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ ہے۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے بدگمانی ایک فطری امر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مخالف فریق کے بارے میں محتاط سوچ رکھنا غیر دانشمندانہ نہیں بلکہ حالات کا تقاضا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ نے مذاکرات کے ممکنہ دوسرے مرحلے کے لیے اپنا ایک وفد پاکستان بھیجا ہے۔ تاہم ایران نے تاحال اس عمل میں باضابطہ شرکت کی تصدیق نہیں کی۔

روس: ثالث نہیں مگر تعاون کے لیے تیار

دوسری جانب روس نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں باضابطہ ثالث نہیں ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف Dmitry Peskov نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نہایت حساس اور غیر متوقع ہے، اس لیے طاقت کے استعمال سے گریز کیا جانا چاہیے۔

روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی TASS کے مطابق ماسکو کو امید ہے کہ مذاکراتی عمل جاری رہے گا اور عسکری کارروائیوں میں دوبارہ شدت نہیں آئے گی۔ پیسکوف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر فریقین چاہیں تو روس امن معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔


  • خلیجِ عمان میں کشیدگی: ایرانی کارگو جہاز کی تحویل پر تہران اور واشنگٹن آمنے سامنے


چین کا زور: آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت برقرار رہے

ادھر چین نے خطے میں استحکام اور سمندری راستوں کی کھلی رسائی پر زور دیا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ Xi Jinping نے سعودی ولی عہد  محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ اہم بحری گزرگاہوں میں معمول کی آمدورفت برقرار رہنا چاہیے۔

چینی خبر رساں ایجنسی شنہوا خبر رساں ایجنسی Xinhua News Agency کے مطابق صدر شی نے فوری اور جامع جنگ بندی کی حمایت کی اور کہا کہ خطے میں امن کی بحالی عالمی مفاد میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز Strait of Hormuz سے جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ناگزیر ہے، کیونکہ توانائی کی بڑی ترسیلات اسی راستے سے ہوتی ہیں۔

سفارتی کوششیں یا بڑھتی بے اعتمادی؟

ایران کی محتاط حکمت عملی، روس کی مشروط آمادگی اور چین کی اقتصادی تشویش اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں طاقت کے توازن اور سفارتی عمل کے درمیان نازک کشمکش جاری ہے۔

اگرچہ بظاہر مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، تاہم بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعتماد سازی کے بغیر کسی پیش رفت کا امکان محدود ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا سفارت کاری کشیدگی کو کم کر پائے گی یا خطہ مزید غیر یقینی کی طرف بڑھے گا۔


  • ہنگری میں تاریخی فیصلہ: اوربان اقتدار سے باہر، یورپ اور امریکہ کی نظریں نئی قیادت پر

  • امریکہ کے ساتھ بات چیت کے بارے میں ایران ’پُرامید نہیں‘، روس کی ثالثی میں مدد کی پیشکش بی بی سی اردو 

Tags:

china middle east policyDiplomatic talksenergy security crisisgeopolitical tensionsGlobal economic impactGlobal oil marketsGulf stabilityInternational SanctionsIran foreign ministryIran nuclear negotiationsIran US TalksMiddle East diplomacyOil supply routesPeace NegotiationsRegional securityRussia mediationSaudi Arabia relationsStrait of HormuzUS Foreign PolicyWar risk Middle East
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Iran america strait of Hurmoz
Previous

خلیجِ عمان میں کشیدگی: ایرانی کارگو جہاز کی تحویل پر تہران اور واشنگٹن آمنے سامنے

tears-sangat-mag
Next

ہم روتے کیوں ہیں؟ آنسوؤں کا ارتقائی راز

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme