
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے محتاط اور غیر پُرامید رویہ اختیار کیا ہے، جبکہ روس اور چین نے بھی صورتحال پر اپنے اپنے انداز میں ردعمل دیا ہے۔ سفارتی سطح پر بیانات کے اس تبادلے نے واضح کر دیا ہے کہ خطے میں اعتماد کا فقدان بدستور برقرار ہے۔
ایران: “ہم پُرامید نہیں، بلکہ حقیقت پسند ہیں”
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ معاملات کے حوالے سے حد سے زیادہ امید وابستہ نہیں کر رہا۔ ان کے بقول ایران کا رویہ جذباتی نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ ہے۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے بدگمانی ایک فطری امر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مخالف فریق کے بارے میں محتاط سوچ رکھنا غیر دانشمندانہ نہیں بلکہ حالات کا تقاضا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ نے مذاکرات کے ممکنہ دوسرے مرحلے کے لیے اپنا ایک وفد پاکستان بھیجا ہے۔ تاہم ایران نے تاحال اس عمل میں باضابطہ شرکت کی تصدیق نہیں کی۔
روس: ثالث نہیں مگر تعاون کے لیے تیار
دوسری جانب روس نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں باضابطہ ثالث نہیں ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف Dmitry Peskov نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نہایت حساس اور غیر متوقع ہے، اس لیے طاقت کے استعمال سے گریز کیا جانا چاہیے۔
روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی TASS کے مطابق ماسکو کو امید ہے کہ مذاکراتی عمل جاری رہے گا اور عسکری کارروائیوں میں دوبارہ شدت نہیں آئے گی۔ پیسکوف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر فریقین چاہیں تو روس امن معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔
چین کا زور: آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت برقرار رہے
ادھر چین نے خطے میں استحکام اور سمندری راستوں کی کھلی رسائی پر زور دیا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ Xi Jinping نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ اہم بحری گزرگاہوں میں معمول کی آمدورفت برقرار رہنا چاہیے۔
چینی خبر رساں ایجنسی شنہوا خبر رساں ایجنسی Xinhua News Agency کے مطابق صدر شی نے فوری اور جامع جنگ بندی کی حمایت کی اور کہا کہ خطے میں امن کی بحالی عالمی مفاد میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز Strait of Hormuz سے جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ناگزیر ہے، کیونکہ توانائی کی بڑی ترسیلات اسی راستے سے ہوتی ہیں۔
سفارتی کوششیں یا بڑھتی بے اعتمادی؟
ایران کی محتاط حکمت عملی، روس کی مشروط آمادگی اور چین کی اقتصادی تشویش اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں طاقت کے توازن اور سفارتی عمل کے درمیان نازک کشمکش جاری ہے۔
اگرچہ بظاہر مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، تاہم بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعتماد سازی کے بغیر کسی پیش رفت کا امکان محدود ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا سفارت کاری کشیدگی کو کم کر پائے گی یا خطہ مزید غیر یقینی کی طرف بڑھے گا۔




