ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس سے منسلک تقریب میں فائرنگ، سیکیورٹی اہلکار زخمی

سنگت ڈیسک

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کور کرنے والے صحافیوں کی تنظیم کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ایک عشائیہ تقریب اس وقت خوفناک صورتحال میں بدل گئی جب اچانک فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی اہلیہ کے ہمراہ موجود تھے تاہم انہیں فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

امریکی صدر نے بعد ازاں بیان میں کہا کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ اس واقعے کے دوران سیکیورٹی پر مامور سیکرٹ سروس کا ایک اہلکار زخمی ہوا ہے۔

حملے کا ممکنہ ہدف حکومتی شخصیات تھیں: امریکی میڈیا

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشتبہ شخص نے حکام کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ سے وابستہ اعلیٰ عہدے داروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔

رپورٹس کے مطابق واقعے کے دوران متعدد گولیاں چلائی گئیں جن کی تعداد تقریباً پانچ سے آٹھ کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔

تقریب میں اعلیٰ امریکی قیادت بھی موجود تھی

یہ واقعہ واشنگٹن کے ایک معروف ہوٹل میں اس وقت پیش آیا جب وائٹ ہاؤس پریس ایسوسی ایشن کی سالانہ ڈنر تقریب جاری تھی۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ، خاتون اول، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ سمیت کئی اہم امریکی حکام شریک تھے۔

فائرنگ کے فوری بعد سیکیورٹی اداروں نے ردعمل دیتے ہوئے تمام اہم شخصیات کو محفوظ طریقے سے مقام سے نکال لیا۔

ویڈیو مناظر میں افراتفری کی جھلک

واقعے کے دوران سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیکیورٹی اہلکار فوری طور پر نائب صدر جے ڈی وینس کو اسٹیج سے ہٹا کر محفوظ مقام کی طرف لے جا رہے ہیں، جبکہ تقریب میں موجود افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کی

فائرنگ کے فوراً بعد سیکرٹ سروس نے صدر اور دیگر اہم شخصیات کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ بعد ازاں حکام نے تصدیق کی کہ حملہ آور کو موقع پر ہی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

امریکی صدر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس کی تصدیق ایف بی آئی نے بھی کر دی ہے۔ ان کے مطابق تقریب سے پہلے کسی بھی ممکنہ خطرے کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

حملہ آور کے بارے میں نئی تفصیلات

صدر ٹرمپ کے مطابق مشتبہ شخص اسی ہوٹل میں مقیم تھا جہاں یہ تقریب جاری تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور نے تقریباً پچاس گز کے فاصلے سے دوڑتے ہوئے حملے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی اہلکار فوری طور پر متحرک ہو گئے۔

ٹرمپ نے مشتبہ شخص کو “خطرناک ذہنیت کا حامل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں وہ اکیلا تھا اور اس واقعے میں کسی بڑے نیٹ ورک کے ملوث ہونے کے شواہد فی الحال سامنے نہیں آئے۔

واقعے کے دوران افراتفری

فائرنگ کے وقت تقریب میں شدید افراتفری پھیل گئی اور شرکاء کو فوری طور پر محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا گیا۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیکیورٹی اہلکار نائب صدر جے ڈی وینس سمیت دیگر حکام کو اسٹیج سے ہٹا کر باہر لے جا رہے ہیں۔

حکام کے مطابق واقعے میں ایک سیکرٹ سروس اہلکار زخمی ہوا، تاہم اس کی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

تحقیقات جاری

امریکی ادارے ایف بی آئی اور سیکرٹ سروس واقعے کی مشترکہ تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حملہ آور کا مقصد کیا تھا اور آیا اس کا کوئی ممکنہ تعلق کسی تنظیم یا گروہ سے تھا یا نہیں۔

_______________________

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں توسیع، مگر کشیدگی برقرار

جے ڈی وینس کا دورۂ پاکستان منسوخ، ٹرمپ کی جنگ بندی میں غیر معینہ توسیع اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھنے کا اعلان

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button