پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے لئے کون سا ملک خفیہ روڈ میپ پر کام کر رہا ہے؟

ویب ڈیسک

موقر بین الاقوامی جریدے بلوم برگ کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین ﺍﻣﻦ ﮐﮯ ﻭﺳﯿﻊ ﺭﻭﮈ ﻣﯿﭗ ﮐﺎ ﺍٓﻏﺎﺯ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ہے، ﮐﺸﻤﯿﺮ ﮐﺎ ﺣﺘﻤﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ، ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﺑﺤﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭﺳﻔﯿﺮ ﻭﮞ ﮐﺎ ﺗﻘﺮﺭ ﺍﯾﺠﻨﮉﮮ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﮯ

رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے مابین سرحدوں پر فائر بندی میں  ثالثی کے بعد  دونوں ممالک کے تعلقات بہتر کرنے کے لیے اس خفیہ روڈ میپ کے پیچھے متحدہ عرب امارات پر کام کر رہا ہے

پاکستان اور بھارت ﮐﮯ ﻭﺯﺭﺍﺋﮯ ﺧﺎﺭﺟﮧ ﮐﯽ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﻣﮑﺎﻥ ظاہر کیا جا رہا ﮨﮯ ﺗﺎﮨﻢ ﻣﺬﺍﮐﺮﺍﺕ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﺤﺪﮦ ﻋﺮﺏ ﺍﻣﺎﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﻭﺯﺍﺭﺕ ﺧﺎﺭﺟﮧ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺒﺼﺮﮦ نہیں ﻣﻞ ﺳﮑﺎ، ﺍﺩﮬﺮ ﺫﺭﺍﺋﻊ ﺩﻓﺘﺮ ﺧﺎﺭﺟﮧ ﻧﮯﮐﮩﺎ ﮨﮯﮐﮧ ﺍٓﺝ ﺍﮨﻢ ﺍﺟﻼﺱ ﮨﻮﮔﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﻮﻗﻒ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ

اس کے علاوہ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﻠﮏ ﺷﻨﮕﮭﺎﺋﯽ ﺗﻌﺎﻭﻥ ﺗﻨﻈﯿﻢ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﺍﻧﺴﺪﺍﺩ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩﯼ ﮐﯽ ﻣﺸﻘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺣﺼﮧ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ

بلومبرگ کے مطابق گزشتہ مہینے دونوں افواج کی جانب سے 2003ع کے جنگ معاہدے پر عمل درآمد کے اچانک سامنے آنے والے مشترکہ اعلان نے سب کو حیران کر دیا اور اس کے چوبیس گھنٹے کے بعد امارات کے وزیر خارجہ نے دہلی کا دورہ کیا

رپورٹ میں ان رابطوں سے آگاہ سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک میں فائر بندی کے لیے متحدہ عرب امارات نے ایک ماہ سے درپردہ کوششیں شروع کر دی تھیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ افواج کی جانب سے فائر بندی کا معاہدہ دونوں ممالک کے  مابین دیرپا امن کے قیام کے روڈ میپ کا آغاز ہے

ﻣﺘﺤﺪﮦ ﻋﺮﺏ ﺍﻣﺎﺭﺍﺕ ﮐﮯ 26 ﻓﺮﻭﺭﯼ ﮐﻮ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺳﻄﺢ ﮐﮯ ﺍﺟﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﻭﺯﯾﺮ ﺧﺎﺭﺟﮧ ﺷﯿﺦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠّٰﮧ ﺑﻦ ﺯﯾﺪ ﻧﮯ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﮨﻢ ﻣﻨﺼﺐ ﺍﯾﺲ ﺟﮯ ﺷﻨﮑﺮﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻮ ﺑﺎﺕ ﭼﯿﺖ ﮐﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﭽﮫ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺸﺘﺮﮐﮧ ﻣﻔﺎﺩ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻼﻗﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻦ ﺍﻻﻗﻮﺍﻣﯽ ﺍﻣﻮﺭ ﭘﺮ ﺗﺒﺎﺩﻟﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﯿﺎ

ﺍﺱ ﺻﻮﺭﺕ ﺣﺎﻝ ﺳﮯ ﺑﺎﺧﺒﺮ ﺫﺭﺍﺋﻊ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﻨﺎﺧﺖ ﻇﺎﮨﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺑﻨﺪ ﺩﺭﻭﺍﺯﻭﮞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻣﺘﺤﺪﮦ ﻋﺮﺏ ﺍﻣﺎﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﭼﻨﺪ ﻣﺎﮦ ﻗﺒﻞ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺧﻔﯿﮧ ﺑﺎﺕ ﭼﯿﺖ ﮐﮯ ﻧﺘﯿﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮎ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺟﻨﮓ ﺑﻨﺪﯼ ﻣﻌﺎﮨﺪﮮ ﮐﺎ ﺳﻨﮓ ﻣﯿﻞ ﻋﺒﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺳﮑﺎ، ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﺑﻨﺪﯼ ﺩﻭ ﮨﻤﺴﺎﯾﮧ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﭘﺎﺋﯿﺪﺍﺭ ﺍﻣﻦ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﻭﺳﯿﻊ ﺗﺮ ﺭﻭﮈ ﻣﯿﭗ ﮐﺎ ﺍٓﻏﺎﺯ ﮨﮯ

ﺍﺱ ﻋﮩﺪﮮ ﺩﺍﺭ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﮐﮯ ﺍﮔﻠﮯ ﻣﺮﺣﻠﮯ ﻣﯿﮟ  سفیروں کو واپس بھیجنے کا اقدام ہو سکتا ہے۔ خیال رہے کہ 2019ع میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کے بعد دونوں ممالک نے اپنے سفیر واپس بلا لیے تھے

ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ جس ﻣﺸﮑﻞ ﻣﺮﺣﻠﮯ ﮐﺎ ﺍٓﻏﺎﺯ ﮨﻮﮔﺎ ﻭﮦ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﮐﺎ ﺣﺘﻤﯽ ﺣﻞ ﮨﮯ، ﮐﺌﯽ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﮐﻮ ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﺑﮭﮍﮐﺎﻧﮯ کے لیے ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ

سفارتی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک میں ایک دوسرے کے خلاف پائے جانے والے جذباتی ماحول میں سفیروں کو واپس بھیجنے  سے بڑھ کر کسی کام یابی کی فی الحال توقع نہیں کی جا سکتی

جریدے کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن قائم کرنے کی یہ حالیہ کوشش ماضی کے مقابلے میں اس لیے مختلف ہے کہ امریکا میں صدر بائیڈن کی حکومت افغانستان میں وسیع پیمانے پر مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے سنجیدگی کے ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر کرنا چاہتی ہے، کیوں کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کے ساتھ افغانستان میں بھی اپنا رسوخ بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور افغانستان میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے دونوں کے تعلقات میں بہتری ضروری ہے

دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم مودی معاشی ترقی اور چین سے ملحقہ سرحد پر اپنی فوجی طاقت کو پوری طرح متوجہ کرنا چاہتے ہیں جب کہ پاکستان اپنے مشکل معاشی حالات کے باعث امریکا سمیت دیگر عالمی قوتوں سے بہتر تعلقات کی تگ و دو کر رہا ہے

جریدے کا کہنا ہے کہ حال ہی میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے ”ماضی کو دفنا کر آگے بڑھنے‘‘ کے بیان اور مودی کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے کورونا سے متاثر ہونے کے بعد نیک خواہشات کے اظہار کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے

بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں امارات کے کردار کے کچھ اور اشارے بھی ملتے ہیں۔ نومبر میں بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے ابوظہبی کے ولی عہد سے ملاقات کی جس کے اگلے ہی ماہ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود امارات پہنچے۔ اس کے کم و بیش دو ہفتے بعد اماراتی وزیر خاجہ نے وزیر اعظم عمران خان کو فون کیا۔ جس کے بعد حال ہی میں بھارت نے دورۂ سری لنکا کے لیے وزیر اعظم عمران خان کے طیارے کو 2019ع کے بعد پہلی مرتبہ بھارتی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی

علاوہ ازیں فائر بندی کا اعلان ہونے کے بعد امارات اس کا خیر مقدم کرنے والے گنے چنے ممالک میں بھی شامل تھا۔ جب کہ واشنگٹن میں امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس اس معاہدے میں امریکی کردار سےمتعلق پوچھا گیا سوال ٹال گئے تھے

جریدے کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین قیام امن کے اس خفیہ روڈ میپ اور اس میں عرب امارات کے کردار سے متعلق پاکستانی، بھارتی اور اماراتی  دفاتر خارجہ نے تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا

ادہر بھارت کی اپوزيشن پارٹی ﮐﺎﻧﮕﺮﯾﺲ ﮐﮯ ﺭﮨﻨﻤﺎ ﺍﻭﺭ ﺭﮐﻦ ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﻨﭧ ﺷﺸﯽ ﺗﮭﺮﻭﺭ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭨﻮﯾﭧ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ محض ﻣﯿﮉﯾﺎ ﻗﯿﺎﺱ ﺍٓﺭﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ اور اگر ﻣﺘﺤﺪﮦ ﻋﺮﺏ ﺍﻣﺎﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﻭﺯﯾﺮ ﺧﺎﺭﺟﮧ ﻋﺒﺪﷲ ﺑﻦ ﺍﻟﻨﮩﯿﺎﻥ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﮐﺴﯽ ﺑﮍﮮ ﻣﻌﺎﮨﺪﮮ ﮐﻮ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮ ﭘﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻧﻮﺑﯿﻞ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﮐﮯ ﻣﺴﺘﺤﻖ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close