Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینخبریںعالمی

سزائے موت سے قبل تین سو مجرموں کے آخری الفاظ سننے والی امریکی صحافی کیا کہتی ہیں

By Akhtar Rasool
اپریل 10, 2021 3 Min Read
0

امریکی صحافی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انہوں نے امریکہ میں سزائے موت پانے والے خطرناک مجرموں سے عین موت سے قبل بات کی اور ان کے آخری الفاظ نوٹ کئے۔ تاہم وہ کہتی ہیں کہ ان میں سے بعض جملے ان کے لاشعور کا حصہ بن چکے ہیں اور وہ بہت تکلیف دہ ہیں

نوجوانی میں وہ ہنٹس ویلی آئٹم نامی اخبار سے وابستہ تھیں، لیکن جلد ہی وہ ٹٰیکساس کے شعبہ جرائم سے وابستہ ہوئیں

سال 2000ع سے 2012ع کے درمیان ان کے سامنے تین سو افراد کو سزائے موت دی گئی، اور مشیل نے ان سے ملاقات کی اور ان کے آخری الفاظ نوٹ کئے

اس طرح وہ دنیا میں سزائے موت پانے والے مجرموں کی معلومات، نفسیات اور ان کے اہلِ خانہ اور متاثرین کے اہلِ خانہ سے واقف ماہرین میں غیرمعمولی رتبہ پا چکی ہیں

مشیل نے اپنی کتاب ’ ڈیتھ رو‘ میں ان تمام باتوں کا انکشاف کیا ہے

مشیل اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ مجرموں کی اکثریت کو انجیکشن دے کر موت کی نیند سلایا گیا۔ انہیں 30 سے 45 سیکنڈ کے دوران تین انجیکشن لگائے جاتے تھے۔ اکثر افراد کو شام چھ بجے موت دی گئی۔ اس دوران مجرم کے پانچ اہلِ خانہ کو یہ سارا واقعہ دیکھنے کی اجازت تھی۔ اس کے ساتھ ہی مقتولین کے پانچ لواحقین بھی بلائے جاتے تھے، مجرموں کو پہلے گہری نیند کا ٹیکہ دیا جاتا تھا جس سے وہ نیند میں چلے جاتے تھے۔ اس کے بعد پٹھوں کو سکون دینے والا انتہائی مہلک ٹیکہ دیا جاتا تھا جس سے پھیپھڑے اور سینے اور پیٹ کا درمیانی حصہ تباہ ہوجاتا تھا۔ تیسری دوا سب سے زہریلی ہوتی جس سے دل کی دھڑکن رک جاتی تھی

مشیل بتاتی ہیں ’میں نے سزائے موت پانے والوں کی بیویوں، بچوں اور عزیزوں کو آخری لمحات میں روتے اور بلکتے دیکھا۔ میں سمجھتی ہوں کہ بعض معاملات میں سزائے موت درست ہوتی ہے، لیکن اس کا طریقہ کار بہت پیچیدہ ہے. ‘

مشیل نے لکھا ہے کہ موت کے کمرے میں جانے سے قبل بہت کم مجرموں نے بات کی، حالانکہ انہیں اہل ِخانہ سے دو منٹ کی گفتگو کی اجازت دی جاتی تھی۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے معافی مانگی، کچھ مجرم روتے ہوئے دکھائی دیئے اور کچھ لوگوں نے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ غلط کیا

"ڈیتھ رو” کی مصنفہ کا کہنا ہے کہ جب انہیں اپنے اہلِ خانہ سے ملنے دیا گیا تو وہ بہت پچھتائے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے جرم کی وجہ سے اہلِ خانہ شدید مصائب کا شکار ہوئے ہیں، البتہ ایک مجرم نے جیل کے وارڈن سے گفتگو کے لیے اضافی وقت مانگا اور بیس منٹ تک اپنے بچوں اور بیوی سے بات کرتا رہا

مشیل کے مطابق انہوں نے دو افراد کو دیکھا جو موت سے چند لمحے قبل لطیفے سنا رہے تھے اور ایک شخص ٹیکساس کا مقبول گانا گارہا تھا۔ لیکن بہت سے مجرم ایسے بھی تھے، جنہیں چپ لگ گئی تھی اور وہ ایک لفظ بھی نہ بول پائے تھے

مشیل نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ دو سفاک مجرم ایسے تھے جو مقتول کے اہلِ خانہ کو بددعا دیتے ہوئے موت کے کمرے میں گئے۔ ایک نے مقتول کے خاندان والوں سے کہا کہ جب تم واپس جاؤ تو راستے میں تم سب کو حادثہ ہوجائے اور تم سب مر جاؤ۔ دوسرے شخص نے مقتول کے خاندان والوں کو گالیاں دیں اور نہایت برے الفاظ ادا کئے

مشیل کے مطابق بعض مجرم آخری وقت پر بہت پشیمان بھی تھے اور پھوٹ پھوٹ کر روتے رہے اور مقتول کے وارثوں سے معافی مانگتے رہے تھے.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ﮈﺍﺅ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﺟﮕﺮ ﮐﺎ ﺁﭨﻮ ﭨﺮﺍﻧﺴﭙﻼﻧﭧ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ

Next

درختوں نے مل کر مسکراتا ہوا چہرہ بنا دیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme