Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

ہزار سال پرانی نظم شیئر ہر چینی کمپنی کو اربوں ڈالر کا نقصان

By Akhtar Rasool
مئی 15, 2021 2 Min Read
0

بیجنگ: کیا آپ یقین کریں گے کہ آج اطلاعات کے تیزرفتار دور میں ایک متنازعہ نظم شیئر کرانے سے اربوں ڈالر کی کمپنی کو خود اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ گیا؟

تفصیلات کے مطابق چین میں غذائی اشیا تقسیم کرنے والی مشہور کمپنی مائی توان کے سی ای او، وینگ چِنگ نے گیارہ سو سال قبل لکھی گئی ایک نظم چینی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی اور ایک دن بعد ڈیلیٹ کردی

لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی کیونکہ چینی حکومت نے اس نظم کو اپنے خلاف قرار دیا۔ اس کے بعد حکومت نے کمپنی کی بعض بے ضابطگیوں کا نوٹس لیا جو ایک نقصاندہ کریک ڈاؤن تھا

کمپنی کے خلاف چینی حکومت کے اقدامات کے باعث پیر کے روز کمپنی کے حصص 5.3 فیصد تک گر گئے اور اگلے روز یہ شرح 9 فیصد تک پہنچ گئی، اس طرح کمپنی کو کم سے کم ڈھائی ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے

وینگ نے اپنی پوسٹ چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم فین فاؤ پر پوسٹ کی تھی جو بعد میں ہٹادی گئی

اپنی صفائی میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اس نظم سے ای کامرس صنعت کے درمیان سخت مسابقت اور خطرناک حریفوں کا حوالہ دے رہے تھے، ان کا نشانہ چینی سرکار بلکل نہیں تھی

واضح رہے کہ وینگ نے چند اشعار پر مبنی کلاسیکی نظم منتخب کی تھی جو چینی بادشاہ چِن شائی ہوانگ کے عہد میں کتابوں کو جلانے پر اس کی خاموشی کے ردِ عمل میں ایک گمنام شاعر نے لکھی تھی. چِن شائی شہنشاہ جدید اور متحدہ چین کے بانی بھی تصور کیا جاتا تھا لیکن وہ اپنی ذات میں بہت سخت اور آمرانہ مزاج کا حامل بھی تھا

اس نظم کو شیئر کرتے وقت وینگ یہ بھول گئے کہ چینی حکومت اس وقت بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری اور من مانی پر سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے اور اس ضمن میں انٹرنیٹ سینسر شپ بھی عروج پر ہے

یاد رہے کہ اس سے قبل علی بابا کمپنی پر ضوابط کی خلاف ورزی پر دو ارب 80 کروڑ ڈالر کا جرمانہ بھی ہوچکا ہے.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

اب عام انجکشن سے بھی جسم میں چِپ داخل کی جائے گی

Next

ترقی اور تباہی کا سفر ساتھ ساتھ (قسط 4)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme