Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتکالم

قربانی اور اساتذہ!!

By Akhtar Rasool
جولائی 6, 2021 3 Min Read
1

یوں تو زندگی نام ہی قربان ہونے کا ہے۔ کبھی خواہشات کی قربانی، تو کبھی حالات سے مجبور ہوتے ہوئے کسی چیز کی قربانی۔ زندگی جیسے ہر لمحہ قربانی مانگتی ہے۔

شعبہ ہائے زندگی کی طرف اک نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے یہاں بھی قربان ہونے کا متوازن سلسلہ اپنے جوبن پر ہے۔ کبھی ملازم اپنے مالک کے ہاتھوں قربان ہو رہا ہے تو کبھی اس آتی ہوئی تنخواہ کے ہاتھوں جو اسے شاید اس تناسب سے نہ ملے جس کا وہ حقدار ہے۔ اور اگر اس طرف سے ذی روح بنفس نفیس مطمئن ہے تو پھر ٹی سی جیسی شے کے ہاتھوں قربان ہو رہا ہے۔
بہر کیف یہ دنیا ہے اور یہاں ہم قربان ہونے کے لئے آئے ہیں!!

مگر رکئیے!! کیا شعبہ تدریس و تعلیم بھی اس زمرے میں آتے ہیں؟؟
اگر اس بات کا بغور مشاہدہ کیا جائے اور کچھ ماضی کے پہلو پر روشنی ڈالی جائے تو ہم اس نقطہ پر بغیر کسی تردد ہائے تردید کے پہنچ جائیں گے کہ یہ مقدس شعبہ بھی اس لپیٹ میں آچکا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس شعبہ میں کونسے عہدیداران ہیں جو اس بھنور میں آگئے ہیں۔ اس سوال کی گہرائی میں جب ہستی زماں پہنچے تو یہ اچھنبے کی بات منظر عام کی روح رواں بن گیا کہ وہ بنی نوع اس شعبہ ہائے حیات میں "استاد” کے نام سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ آہ رے قسمت!!

جی ہاں!! درحقیقت ہم نے اس شعبے کو اس قدر کمرشلائز کر دیا ہے کہ اب اس کا روحانی پہلو بالکل پامال ہو کر رہ گیا ہے۔ روحانیت تو شاید بہت اعلیٰ درجے کی بات ہے، اس دور میں مکتب و جامعہ کا رویہ اساتذہ کے ساتھ انسانیت کی حدود سے بھی پست ہوچکا ہے۔ رنج کا عالم تو دیکھئیے کہ یہ اس طور سے بڑھ رہا ہے کہ اب اس کا ارتقاء کسی بڑی ہی پر خطر انقلاب کی صورت واقعہ ہونے کو ہو جیسے!!

اساتذہ جہاں درس دینے کے لئے دن رات مگن ہے وہیں متاثرکن حد تک مجبور ہونے میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ کیا یہ کسی قربانی کے زمرے میں آتا ہے؟؟

بغور مشاہدے کے بعد یہ بات واضح ہوئی کہ ان کا اپنے پروفیشن کے ساتھ وفادار ہونا نہ صرف انہیں تنخواہ دار ہونے کا مستحق ٹھہراتا ہے، وہیں انہیں اپنے گھریلو ذندگی قربان کرنے کی ترویج دیتا ہے۔

اساتذہ اگر اپنی روزمرہ ذندگی سے بہت سارا وقت اس شعبے کو بخشتی ہے تو کیا یہ لازم ہے کہ وہ باقی ماندہ وقت بھی اسی کی نظر کردیں وہ بھی بغیر کسی چوں چراں کے!!
کیوں موسم کی حدت ان کے لئے مختلف تصور کی جاتی ہے؟؟
کیوں انسانیت کے اصول ان کےلئے کچھ اور ہیں؟؟
کیوں ان کی ذاتی زندگی ایک المیے کا شکار ہے؟؟
کیوں وہ اپنے پیاروں کے ساتھ دوپل سکون کے نہیں گزار سکتی؟؟
میرے یہ سوالات ان سب اعلیٰ حکام سے ہیں جو ان عہدوں پر فائز ہے جہاں وہ ان  سارے سوالات کا بخوبی جواب دے سکتے ہیں۔

کیا اساتذہ قربان نہیں ہو رہے؟؟
جب بھی کبھی موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان ہوتا ہے تو اساتذہ اس ننھے طفل کی مانند اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ کوئی ان کو بھی یہی خوشخبری دے دے مگر ان کا یہ خواب ورکشاپ، پروفیشنل ڈیولپمنٹ, کلاس مینٹیننس/ڈیکوریشن جیسی قربانیوں کے بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔
میرا آپ سب سے یہ سوال ہے کیا ایسی قربانی جائز ہے؟؟
بہت سوچئے!!

"کچھ باتیں قربانی کی” سے اقتباس

Tags:

Education SystemPakistanTeachers
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کرائے کا فوجی (ریمنڈ ڈیوس کی کتاب The Contractor کا اردو ترجمہ) گیارہویں قسط

Next

دودو بھیل کے ساتھ کیا ہوا؟!

One Comment
  1. Faiz نے کہا:
    جولائی 7, 2021 وقت 10:53 صبح

    This was amazing article and very attractive and with very well sequence so I appreciate it not me everyone like it. Thanks for sharing

    Reply

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme