اور جب پسنی کے موسیقار نے یورپ میں اپنی دھنیں بکھیریں۔۔۔
ان دنوں بلوچی سروں پر جھومتے یورپیوں کی ایک وڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جو جرمنی کے دارالحکومت برلِن میں فلمائی گئی ہے وڈیو میں نظر آنے والے مرکزی بلوچی موسیقار استاد نور بخش ہیں، وہ جرمنی کیسے پہنچے، یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے، جو آپ موسیقار…
بدبودار ’پاکستانی فیمن ازم‘
تاریخ کی کتابوں میں قدیم زرعی معاشروں کے کچھ حصوں میں تالا بندی کا ذکر ملتا ہے ـ ماہرین نے تالا بندی کے پیچھے کار فرما سیاسی، سماجی اور معاشی عوامل کا بھی عمیق جائزہ لیا ہے ـ یہ رواج البتہ تمام قدیم زرعی معاشروں میں نہ تھا، جیسے قبل از اسلام تمام عرب…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط23)
سندھو بولتے چلا جا رہا ہے؛ ”اولڈنگ سے یہاں تک دریائے شیوک، شگر، کئی ندی، نالے اور چشمے مجھ میں مل کر اپنا وجود کھو چکے ہیں۔ آگے بھی دیکھنا میں کن کن اور کیسے کیسے ندی نالوں کو نگلتا ہوں۔ میرا وجود کافی بھرپور ہو چکا ہے۔ اب میں اپنا غصہ نکالنے اور سیلاب…
اسرائیل ریاست نہیں، جان لیوا معشوق ہے
ایک تو اسرائیل بذاتِ خود نسل پرست فسطائی نظریاتی ریاست، اس پر طرہ یہ کہ وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی موجودہ مخلوط حکومت کو اسرائیل کی پچھتر برس کی تاریخ میں اب تک کی سب سے جنونی حکومت کہا جا رہا ہے کہ جو انتہائی دائیں بازو کی ان دو جماعتوں کے سہارے کھڑی ہے…
’انڈس کوئین‘ اور ’ڈیرہ کے ٹائیٹینک‘ کی داستان، جو کبھی دریا میں سفر کا ذریعہ تھیں۔۔
یہ 1857ع کی بات ہے، جب ریاست بہاولپور کے نواب صادق چہارم نے برطانیہ سے اپنے بحری بیڑے کے لیے بڑی کشتیاں منگوائیں، جن میں سے ایک جہاز فتح بہادر، دوسرا دی پرنس اور تیسرا انڈس کوئین تھا کشتی ستلج کوئین نواب بہاولپور کے ذاتی استعمال میں رہتی اور اس وقت جب…
مارتونگ، جو موت سے بہتر تھا۔۔ اب یہاں ہر طرف معصوم بچوں کی موت کا دکھ پھیلا ہوا ہے۔۔۔
”موت سے مارتونگ بہتر ہے۔“ یہ وہ مقولہ ہے، جو خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ کی تحصیل مارتونگ میں زبان زد عام ہے۔ کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں تین بھائیوں نے ضلع شانگلہ کے تین مقامات بشمول تحصیل مارتونگ، تحصیل چکیسر اور شاہ پور کا بٹوارا کرنے کا ارادہ کیا۔…
زنجیروں سے پھولوں کے ہار تک، اسپیشل اولمپکس کی مشعل اٹھانے والی ثنا کپری کی کہانی
یہ ستمبر 2022 کی بات ہے جب صوبہ سندھ میں ضلع میر پورخاص کی تحصیل جُھڈو میں سیلابی ریلے نے داخل ہوتے ہی تباہی مچا دی، تباہی کے باعث مکانات ڈوب گئے جبکہ جھڈو کے رہائشی مال مویشیوں کی وجہ سے ڈوبے ہوئے گھروں میں انتہائی مشکل سے گزارا کرنے پر مجبور تھے جھڈو…
کیا گھر کی چھتوں پر سفید پینٹ واقعی گرمی کی شدت سے محفوظ رکھ سکتا ہے؟
مغربی بھارت میں پنکی کے گھر کی چھت سورج کی روشنی سے چمک رہی تھی۔ یہاں گرمی کے موسم میں درجہ حرارت لگ بھگ 48 م ڈگری کو چھونے لگتا ہے۔ لیکن ان کے گھر کی چھت پر سفید سولر ریفلیکٹیو پینٹ اس شدید گرمی کی حدت کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہا تھا…