اسمارٹ فون اسکرین سے بچوں کے قبل از وقت بلوغت کا امکان ہے، سائنسی تحقیق
ابتدائی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ فون اور ٹیبلٹ کی نیلی روشنی بچوں میں ہارمون کی سطح کو تبدیل کر سکتی ہے، جس سے ان میں قبل از وقت بلوغت کا خدشہ بڑھ سکتا ہے واضح رہے کہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ نیلی روشنی میلاٹونین کے اخراج کو دبا دیتی ہے۔ میلاٹونین…
جنگی جرائم کے شکار بچے، جنہیں بھلا دیا گیا!
اس وقت دنیا بھر میں 452 ملین سے زائد بچے جنگ زدہ ممالک و خطوں ميں رہتے ہيں۔ ان کے زخموں اور اموات کی بہت کم تحقیقات کی جاتی ہیں اور ان کے خلاف جرائم کی سزا شاذ و نادر ہی دی جاتی ہے یہ المناک کہانی یوکرینی شہر ونیتسیا کی رہائشی بدقسمت لیزا کی…
ایران میں مہسا امینی کی دورانِ حراست ہلاکت پر غم وغصے میں اضافہ
درست طور پر حجاب نہ اوڑھنے پر ایران میں گرفتار ہونے والی خاتون کی پولیس کی حراست میں ہلاکت سے ایران میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور ان کے جنازے کے موقع پر شدید احتجاج سامنے آیا ہے جبکہ ٹوئٹر پر خاتون کا نام ٹاپ ٹرینڈ ہے خبر رساں ادارے روئٹرز…
کیا پاکستان انٹرنیٹ اور موبائل فون لوڈشیدنگ کی طرف بڑھ رہا ہے؟
پاکستان کے شہری بجلی اور گیس کی لوڈشیدنگ کا تو برسوں سے سامنا کر رہے ہیں، لیکن اب انہیں ’ڈجیٹل لوڈشیڈنگ‘ یا انٹرنیٹ اور موبائل فون کی بندش سے بھی پالا پڑ سکتا ہے، یعنی وہ ایک خاص وقت کے لیے رابطے کی سہولت سے محروم ہو سکتے ہیں اس کی وجہ بھی وہی ہے…
کیا دنیا زندگیاں بچانے کے لیے ’معدنی ایندھن پر پابندی کے معاہدے‘ پر متفق ہو سکے گی؟
کاربن کے اخراج سے منسلک فضائی آلودگی ہر سال لاکھوں اموات کا سبب بنتی ہے اور کوئی بھی اس سے نہیں بچ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ صحت عامہ کی حفاظت کے لیے سرگرم گروپوں کا اتحاد دنیا بھر میں فوسل فیول کے استعمال کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر زور دے رہا ہے ایک…
پیروں میں زخم اور ہاتھوں پر چھالے لیے سیلاب میں تباہ گھروں کی مرمت کرتی خواتین
یہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کا گاؤں چودھوان ہے، جہاں بارشوں اور سیلاب سے متعدد کچے مکان پگھل کر مکمل طور پر ڈھ گئے ہیں یا جزوی طور پر تباہی ان کا مقدر بنی ہے اسی گاؤں کی ساٹھ سالہ فاطمہ کے پیروں پر زخم اور ہاتھوں پر چھالے ہیں، لیکن اس…
سندھ: سیلابی پانی میں ڈوبے متاثرین پینے کے پانی کو ترس گئے
سندھ میں سیلاب متاثرین میں وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں جبکہ کئی جگہوں پر صاف پانی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے شہری ٹھہرے ہوئے سیلابی پانی میں نہا رہے ہیں اور وہی پانی پینے پر بھی مجبور ہیں سندھ کے شہر سیہون کے رہائشی عبدالعزیز نے برطانوی خبر رساں ادارے…
جوگی: ’1984 میں فسادات نہیں سکھوں کا قتل عام ہوا تھا‘
31 اکتوبر 1984 کی معمول کی ایک صبح جوگی نیند سے بیدار ہو کر ناشتے کے لیے میز پر ’اوہ، نو بج گئے کتنا لیٹ ہو گیا پاپا جی‘ کہتا ہوا آتا ہے جہاں پورا خاندان ہنسی خوشی باتیں اور ناشتہ کر رہا ہوتا ہے اچانک گولیاں چلنے اور ٹیلیفون بجنے کی آواز کے ساتھ…