خاموش نگاہیں
میں اپنے گھر کی چھت پر کھڑا تھا, پھر اچانک میری آنکھیں اس کے گھر کی طرف جم سی گئیں.. اس کا گھر میرے گھر سے تھوڑے ہی فاصلے اور گاؤں کے جنوب میں بند کے ساتھ ہی تھا، میری چھت سے اس کے گھر کے سامنے والے کھلے میدان میں کھڑے لوگ دکھائی دے…
ساون اب کبھی نہیں آئے گا
وہ اپنے بچپن سے بکریاں چرا رہا ہے. اس نے بچپن کے سارے کھیل بکریاں چراتے ہی کھیلے… بکری کے چھوٹے پیارے سے بچے ہی اس کا کھلونا بھی ہوتے تھے… بارش کے بعد جنگل ہرے بھرے لگ رہے ہیں، دور دور تک سبز چادر بچھی ہوئی ہے۔ حسب معمول گیم واچر یعنی جنگلات…
"کراچی سندھ ہے” کا نعرہ اور کراچی میں صدیوں سے آباد ہم مقامی لوگ
"کرانچی ہمارا” اور "مرسوں مرسوں” کے شور میں دبی یہ آواز…. ذرا سی توجہ چاہتی ہے. ایک منٹ… "کرانچی کسی کے باپ کا نہیں” اور "کراچی سندھ ہے” کی بحث کو تھوڑی دیر کے لیے روک دیجیے، منہ سے اڑتی جھاگ صاف…
عذابِ آگہی
وہ مین روڈ پر رکشے سے اتر کر پیدل اپنے گوٹھ کی طرف جا رہا تھا، اس کا گوٹھ مین روڈ سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر ایک بڑے گوٹھ کے بعد آتا تھا.. چاند کی آخری تاریخیں تھیں، چاند اماوس کے گھونگھٹ میں اور نظروں سے اوجھل تھا اور جھینگر خاموشی کی تھاپ…
ایک تصویر ، ایک کہانی (1)
یہ کراچی کے ماضی کے مشہور ھوٹل میٹروپول کے افتتاح کا پوسٹر ہے اور ساتھ افتتاح کے پروگرام کی تصویر. ھوٹل میٹرو پول کا افتتاح مارچ 1950 کو شہنشاہ ایران نے کیا تھا. افتتاح کے پوسٹر میں انگریزی رسم الخط میں فارسی محاورہ لکھا تھا "قدر گوھرشاھ داندبہ داند…