سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط32)
”چلاسی عورت بہت محنتی ہے، سارا دن کام کرتی ہے۔ مجال ہے کسی کے جسم پر ذرا سا بھی موٹاپا نظر آئے۔پیدل سفر، دن بھر کی مشقت، سادہ غذا سبھی موٹاپے کے دشمن ہیں۔ یہاں کی عورت صبح سویرے اٹھتی ہے۔ دودھ دوھنے سے لے کر لسی بنانے اور مکھن نکالنے تک، ناشتے سے رات…
کراچی کے میوزیم میں رکھے چاند کے ٹکڑے کی کہانی
چاند کی خوبصورتی پر بہت شاعری کی گئی ہے۔ ہمارے ہاں کسی کی خوبصورتی کی تعریف کرنی ہو تو اکثر اسے ’چاند کا ٹکڑا‘ کہا جاتا ہے۔۔ لیکن اگر آپ کو واقعی چاند کا ٹکڑا دیکھنا ہے تو آپ کراچی میوزیم میں اسے دیکھ سکتے ہیں، جس کے بعد امید ہے کہ آپ کسی کے…
ہولی وڈ میں جاری ہڑتال: کس خوف سے لکھاری اور فنکار ہڑتال پر مجبور ہوئے؟
اس وقت انٹرٹینمنٹ کی دنیا کے سب سے بڑے مرکز ہولی وڈ میں جو کچھ ہو رہا ہے، ایسا تو پہلی جنگِ عظیم میں بھی نہیں ہوا تھا، جب یورپ میں آرٹ اور کلچر کی سرگرمیاں، بالخصوص فلم انڈسٹری شدید متاثر ہوئی تھی، لیکن اس کے برعکس امریکی فلم انڈسٹری اس جنگ کے اثرات سے…
ایک خواب کی تعبیر، انٹرمیامی میں میسی کا استقبال کیسے کیا گیا؟
سفید ٹی شرٹ اور نیلی جینز پہنے وہ اتفاق سے اسٹیج پر اس انداز میں ٹہل گیا، کہ جس سے یہ معلوم نہیں پڑتا تھا کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا ایتھلیٹ ہے، ممکنہ طور پر اس وقت کرہ ارض پر سب سے زیادہ پہچانا جانے والا چہرہ۔۔ اور اتوار کی رات، لیونل میسی…
آسٹریلوی ملاح، جو دو ماہ تک سمندر میں کچی مچھلی کھا کر اور بارش کا پانی پی کر زندہ رہے
ایک آسٹریلوی ملاح اور اس کے کتے کو کئی مہینوں تک سمندر میں بھٹک جانے کے بعد بچایا گیا ہے، جس کی بقا کی ایک شاندار کہانی ہے جسے ٹام ہینکس کی فلم ’کاسٹ اوے‘ سے تشبیہ دی گئی ہے، لیکن ان کا ساتھی کتا تھا، ہاتھ سے چھپی ہوئی والی بال نہیں بحر الکاہل…
سفاک ماں (فرانسیسی ادب سے منتخب افسانہ)
میں پندرہ سال بعد موسم خزاں میں شکار کھیلنے کے لیے ’ویر لون‘ (فرانس کا ایک قصبہ) واپس آیا۔ اپنے دوست سرول کے ہاں قیام کیا۔ اس نے اپنی گاؤں والی حویلی، جسے پروشیائی تباہ کر گئے تھے، دوبارہ تعمیر کرلی تھی۔ میں اس علاقے کا دلدادہ تھا۔دنیا میں کچھ جگہیں ایسی…
جرمن نسل پرستی، جو ہٹلر تک آ پہنچی
جرمنی تقریباً تین سو کے قریب چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا، اس لیے اس کی طاقت اور توانائی بکھری ہوئی تھی۔ اس کے مقابلے میں دوسرے یورپین ممالک سوائے اٹلی کے متحد بھی تھے اور سیاسی طور پر طاقتور بھی۔ اس لیے جرمنی کے دانشوروں میں یہ جذبہ ابھر رہا تھا…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط31)
بابو سر ٹاپ کے برفیلے میدان سے جنم لینے والی شفاف برفیلے پانی کی ’ٹھک ندی‘ کے پل سے گزر رہے ہیں۔ کل کے اس گمنام مقام کو آج نام بھی دیا گیا ہے تو ’زیرا پوائنٹ‘۔گمنام کو زیرا پوائنٹ کہنے سے فرق نہیں پڑتا مگر یہ اس شاہراہ کا نیا اہم اسپاٹ بن گیا…