سلسلہ تکّلم کا (افسانہ)
کِسی کی آواز پر اُس نے چونک کر دیکھا۔ اُسے بھلا کون آواز دے سکتا ہے.. وہ بھی اِس محلے میں، جہاں اُسے کوئی جانتا بھی نہیں تھا۔ اُسے دور دور تک کوئی شناسا چہرہ نظر نہیں آیا۔ ایک جگہ کچھ بچے بیٹھے ہنس رہے تھے اور اس سے کچھ آگے ہوٹل پر لوگ بیٹھے…
پانچ مختصر کہانیاں
1. خوابوں میں بندوق نہیں چلائی جاسکتی ہم نے بھیڑیوں کو قصبے سے بھگانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی مگر ایک وقت آیا جب ہمیں محسوس ہونے لگا جیسے وہ انسانوں سے مقابلے پر اتر آئے ہیں، ہم جب انہیں کہتے کہ ”ہش بھاگو یہاں سے“ تو وہ ہمیں گھورنے لگ جاتے۔ ایسی خون…
ہاسٹل میں پڑنا (مزاح)
ہم نے کالج میں تعلیم تو ضرور پائی اور رفتہ رفتہ بی اے بھی پاس کر لیا، لیکن اس نصف صدی کے دوران میں، جو کالج میں گزارنی پڑی، ہاسٹل میں داخل ہونے کی اجازت ہمیں صرف ایک ہی دفعہ ملی۔ خدا کا یہ فضل ہم پر کب اور کس طرح ہوا؟ یہ سوال ایک…
وزیر عدالت
ایک دن شام کے وقت جب کہ آسمان پر بادل لہرا رہے تھے۔ ایک اجنبی ششوپال، برہمن کے دروازے پر آیا اور لجاجت آمیز لہجے میں بولا، ’’کیا مجھے رات کاٹنے کے لیے پناہ مل سکے گی؟‘‘ ششو پال اپنے گاؤں میں سب سے غریب تھے۔ تاہم اجنبی کو دروازے پر دیکھ کر ان کا…
دوجی واری ماں نئیں لبھدی
میں اکثر حیران ہوتی ہوں کہ انسان اتنا نادان کیسے ہو سکتا ہے کہ جان بوجھ کر خسارہ اکٹھا کرے مگر ایسا ہوتا ہے اور اکثر و بیشتر ہوتا ہے! میں جب میڈیسن سے فارغ ہوئی تو ہاؤس جاب ختم ہوتے ہی مجھے دیس نکالا مل گیا. میں اپنے دل کے سُرور عاقب، جو میرا…
اماں کا دل ایسا ہی تھا (افسانہ)
اور جب ابّا کی تنخواہ کے ساڑھے تین سو روپے پورے خرچ ہو جاتے، تب امّاں ہمارا پسندیدہ پکوان تیار کرتیں۔ ترکیب یہ تھی کہ سوکھی روٹیوں کے ٹکڑے کپڑے کے پرانے تھیلے میں جمع ہوتے رہتے اور مہینے کے آخری دنوں میں ان ٹکڑوں کی قسمت کھلتی۔ پانی میں بھگو کر نرم کر کے…
سانجھ
لالہ جی کو یہ بات کھل گئی کہ بڑھیا (لالائن) نے بال کٹوا دئیے اور ان سے پوچھا بھی نہیں۔ پچھلے مہینے ان کی بہو مائیکے گئی تھی تو اپنی ساس کو ساتھ لے گئی تھی، دلی۔ کہ ٹرین میں گود کے بچے کو سنبھالنے میں آسانی رہےگی۔ لالہ جی سے خود مایا دیوی نے…
غلطی کا انعام
جزیرے کا آمر اپنے محل کی کھڑکی کے قریب کھڑا آسمان پر سفید بادل آگے پیچھے دوڑتے دیکھ رہا تھا۔ یہ محل سمندر کنارے ایک وسیع و عریض پہاڑی پر واقع تھا۔ وہاں سے جزیرے کی واحد بندر گاہ صاف نظر آتی تھی۔ آگے حدِنگاہ تک سمندر کی نیلی پُرسکون سطح پھیلی ہوئی…