کراچی: زندگی کا گلا گھونٹتا سمندر، جس کے نیلگوں چہرے پر سیوریج کی سیاہی مل دی گئی!
یہ کہانی کسی زمانے کے خوبصورت اور زندگی سے بھرپور کراچی کے ساحل سمندر کی نہیں، بلکہ آج کے ان دلدوز لمحوں کی ہے جب ریڑھی گوٹھ کے باسی نواز علی ساحل کی کالی مٹی پر نظریں جمائے ماضی کے سپید خوابوں کو یاد کرتے ہیں۔ وہ تلخ مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں، ”جب میں…
مکلی کو نقلی بننے سے روکنے کی ضرورت
سندھ کے شہر مکلی جانا ہو اور وہاں کے قدیم قبرستان نہ جایا جائے تو سفر ادھورا رہ جاتا ہے۔ دروازے پر موجود ٹکٹ روم اور ساتھ ہی ایک کمرے میں غیر ملکی سیاحوں کی حفاظت کے لیے موجود اہلکاروں کو دیکھ کر اچھا لگا۔ لیکن جیسے ہی اندر داخل ہوئے تو پھر سے وہی…
سلیمانی ٹوپی اور سائنس: کیا ہم جلد نظروں سے اوجھل ہونے کی صلاحیت حاصل کر لیں گے؟
ایک دیو مالائی قدیم تصور، جس نے انسان کی تخیلاتی دنیا کو صدیوں سے مسحور کر رکھا ہے: سلیمانی ٹوپی۔۔ وہ جادوئی ٹوپی جو پہننے والے کو نظروں سے غائب کر دے، ایک ایسا خواب جسے کہانیاں، افسانے، اور فلمیں بار بار زندہ کرتی رہی ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی انڈین…
چھوٹی اداکارہ بڑی کہانی (برطانوی ادب سے منتخب افسانہ)
کلے پول میں پندرہ ہزار لوگ رہتے تھے لیکن ان میں صرف ایک اداکارہ تھی، جس کی زنانہ ٹوپیوں کی دکان تھی۔ میرا نام سپارک ہے، میری گھڑیوں اور جیولری کی دکان مِس پوریٹس کی دکان کے سامنے پندرہ سال سے ہے۔ اس تمام عرصے میں وہ مجھ سے کبھی نہیں بولی اور میرا نہیں…
جنوبی کوریا کی خوشی پاکستانیوں کو کیوں چڑھی ہوئی ہے؟
جنوبی کوریا کی پیدائش دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ اور سوویت یونین کی سرد جنگ کے نتیجے میں ہوئی تھی۔ فاتحین نے ایک ہی ملک کو کاٹ ڈالا۔ شمالی حصے میں پچھلے 76 برس سے ’کِم خاندان‘ کی کمیونسٹ بادشاہت ہے، جبکہ جنوبی کوریا میں کب آمریت جمہوریت کا اور جمہوریت…
چیمپئنز لیگ میں چوبیسویں نمبر کے پاتال میں گری ریال میڈریڈ۔۔ کیا ’کم بیک کنگز‘ کم بیک کر پائیں گے؟
دنیا کے سب سے بڑے فٹبال کلب ریال میڈریڈ کا نام سنتے ہی کامیابی، شان و شوکت، اور فتح کی داستانیں ذہن میں آتی ہیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں یہ عظیم کلب ایک ایسے بحران سے دوچار ہے جو اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا رہا ہے۔ سوال یہ ہے: کیا ریال میڈریڈ کا…
عوام کا خوف
کچھ مہینے پہلے، بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے گوادر میں ایک جرگہ بلایا۔ اس کا مقصد بلوچستان کے بہت سے چیلنجز کو اجاگر کرنا تھا جیسے کہ جبری گمشدگیوں سمیت پسماندگی اور ریاستی زیادتیاں۔ پھر ردعمل سامنے آیا۔ سب سے پہلے، گوادر میں اجتماع منعقد کرنے کی اجازت —…
بدترین رات
جرمن ناول نگار فرانز کافکا کے بقول، ’یہ صرف ان کی حماقت سے ہوا کہ وہ خود پر اتنا زیادہ اعتماد کرتے ہیں‘۔ آدھی رات گزر چکی تھی کہ جب وزیر داخلہ نے ڈی چوک پر کھڑے ہوکر فخریہ انداز میں اعلان کیا کہ بغیر گولیاں چلائے دارالحکومت کو مظاہرین سے خالی کروا لیا…