Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

آسٹریلیا کے سائنسدانوں کا کہکشاں میں انتہائی ’پراسرار‘ شے کی دریافت کا دعویٰ

By Akhtar Rasool
جنوری 28, 2022 3 Min Read
0

سڈنی – آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ہماری کہکشاں میں گھومتی ہوئی ایک ایسی شے دریافت کی ہے، جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی

اس خلائی شے کو سب سے پہلے یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے دریافت کیا تھا

بعد میں جب سائنسدانوں نے غور سے اس کا جائزہ لیا، تو ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ہر اٹھارہ منٹ کے بعد اس سے ریڈیائی لہروں کی ایک بارش ہوتی دیکھی، جو ایک منٹ تک جاری رہتی

یوں تو خلا میں توانائی خارج کرنے والے اجسام کے بارے میں اکثر سننے میں آتا ہے، لیکن آسٹریلوی سائنسدانوں کا دعویٰ ہے ”یہ چیز بہت ہی عجیب تھی، جو ایک منٹ کے لیے چالو ہو جاتی ہے اور پھر رک جاتی ہے۔“

ماہرین کی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ اس معمے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں

اس پراسرار شے کا سراغ سب سے پہلے کرٹن یونیورسٹی کے طالبعلم ٹائرن اوڈاہرٹی نے لگایا تھا۔ اس وقت وہ مغربی آسٹریلیا کے ایک دور دراز علاقے میں تھا اور اس کے لیے اس نے دوربین کے علاوہ خلائی اجسام کا جائزہ لینے کے لیے ایک نئی تکنیک استعمال کی، جو ان کی اپنی اختراع ہے

ٹائرن سائنسدانوں کی ایک ٹیم کے ساتھ کام کر رہا تھس، جس کی قیادت خلائی طبیعات کی ماہر ڈاکٹر نتاشا ہرلی واکر کر رہی تھیں، جو کرنٹن یونیورسٹی کے خلائی تحقیق کے شعبے سے منسلک ہیں

خلائی تحقیق کے اس مرکز کے مطابق ڈاکٹر نتاشا کا کہنا تھا ”ان چند گھنٹوں کے دوران جب ہم آسمان میں اس کا مشاہدہ کر رہے تھے، تو ایسے لگ رہا تھا جیسے کبھی یہ شے سامنے آ جاتی ہے اور پھر غائب ہو جاتی ہے۔“

ڈاکٹر نتاشا کے مطابق ”یہ مشاہدہ بہت ہی غیر متوقع تھا۔ ہم جیسے ماہرین فلکیات کے لیے یہ ایک پراسرار شے تھی، کیونکہ ہمارے آسمان میں ایسی کوئی شے نہیں، جو اس طرح کرتی ہو۔“

ڈاکٹر نتاشا کہتی ہیں کہ ماہرین کے لیے کائنات میں ایسے اجسام کوئی نئی شے نہیں، جو جلتے بجھتے رہتے ہیں، انھیں ’ٹرانزیئنٹ‘ کہا جاتا ہے، لیکن ڈاکٹر جیما اینڈرسن کہتی ہیں ”ایک ایسی شے جو پورا ایک منٹ جلتی رہے اور پھر بجھ جائے یہ بہت ہی عجیب مشاہدہ تھا۔“

اس حوالے سے یونیورسٹی کے تحقیقی مرکز کا مزید کہنا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں کے اعدادوشمار کا بغور جائزہ لینے کے بعد ٹیم نے نتیجہ اخذ کیا کہ ہے کہ مذکورہ خلائی شے زمین سے تقریباً چار ہزار شمسی سال دور ہے، اس سے نکلنے والی روشنی انتہائی تیز ہے اور اس شے کے ارد گرد ایک نہایت طاقتور مقناطیسی حصار پایا جاتا ہے

اس پراسرار شے کے بارے میں کئی نظریات ہو سکتے ہیں، شاید یہ ایک نیوٹران ستارہ ہو یا کوئی پست قد کا ستارہ

واضح رہے کہ پست قد ستارہ کی اصطلاح ان ٹکڑوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جو کسی بڑے ستارے کے اپنے اندر ٹوٹنے کی صورت میں باقی بچتے ہیں، تاہم ابھی تک اس نئی خلائی شے کی دریافت بڑی حد تک ایک معمہ ہی ہے

ڈاکٹر نتاشا ہرلی واکر کے بقول ”اگر مستقبل میں یہ چیز پھر دکھائی دیتی ہے، تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ تھا یا آسمان میں اس قسم کے دیگر خلائی اجسام بھی پائے جاتی ہیں۔“

وہ کہتی ہیں ”میری خواہش ہے کہ ہم اس شے کو مزید سمجھ سکیں اور پھر اس قسم کے دیگر اجسام کی تلاش جاری رکھ سکیں۔“

Tags:

Galaxy
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

گوادر: شراب خانوں کی بندش کا حکومتی فیصلہ معطل

Next

امریکی بحریہ کے افسر نے نقد رقم، طوائفوں کے ساتھ عیاشی کے عوض ریاستی راز بیچنے کا اعتراف کر لیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme