Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Waiting-for-the-parents
کالماہم ترینتازہ ترین

ابابیلوں کا انتظار

By Akhtar Rasool
فروری 17, 2024 3 Min Read
0

جب سیاسی تجزیے سُن کر آپ کو مستقبل کا منظر نامہ سمجھ آنے کی بجائے ذہن اور پراگندہ ہو جائے، جب قوم کے سیانے افراد کے سیانے تبصرے سُن کر لگے کہ یہ تو پہلے بھی سُنا ہوا ہے تو کبھی کبھی نمازِ جمعہ سے پہلے دیے جانے والے خطبے اور نماز کے بعد کی جانے والی دُعائیں بھی سُن لینی چاہییں۔

بچپن کے سُنے ہوئے خطبے اور دُعائیں اب بھی یاد ہیں۔ اُن میں ایمان کی سلامتی کے ساتھ ساتھ فصلوں کو موسم کی شدّت سے اور مویشیوں کی وبائی بیماریوں سے حفاظت کی دُعائیں مانگی جاتی تھیں۔

پھر منبر سے قوم کی رہنمائی فرمانے والوں کو اپنی طاقت کا احساس ہوا تو مُلک کے سیاسی حالات پر بھی پہلے اشاروں کنایوں میں اور پھر کُھل کر بات ہونے لگی۔ جو مولانا حضرات جہاد کی تبلیغ یا فرقہ وارانہ موضوعات سے گُریز کرتے تھے، وہ بھی ہمارے حکمرانوں کی بیخ کُنی کے لیے دوچار واقعات اسلامی تاریخ سے ڈھونڈ لیتے تھے۔ جنرل مشرف کے زمانے میں افغانستان میں طالبان کی حمایت میں کُھل کر خطبے اور دُعائیں ہونے لگیں تو جنرل مشرف کہیں سے روشن خیالی کی اصطلاح ڈھونڈ لائے۔ ہمارے گاؤں کی جامع مسجد کے خطیب، جو سیاسی موضوعات سے اجتناب کرتے تھے، انھوں نے بھی اپنی ہر دعا میں فرمانا شروع کیا کہ ’یااللہ اس قوم کو روشن خیالی کے عذاب سے محفوظ رکھ۔‘ جس جذبے کے ساتھ نمازی آمین، ثمہ آمین کہتے تھے تو لگتا تھا کہ اُنھیں اس بات کی سمجھ ہے کہ مولانا ذکر جنرل مشرف کا ہی کر رہے ہیں۔

اس جمعہ کو ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کی مسجد میں امام کا اصلی نشانہ ’اسرائیل اور اُس کے حواری تھے، جو نہتے بچوں کو فضائی بمباری سے نیست و نابود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔ غیبی مدد کی دُعا ہوئی اور کہا گیا کہ یااللہ اب تو ابابیلیں بھیج دے۔ مُلک کی معشیت کی بہتری کی بات ہوئی۔ پھر شاید مولانا کو لگا کہ معیشت کی سمت درست کرنے کے لیے ابابیلیں نہیں آئیں گی تو انھوں نے دُعا مانگی کہ ’اللہ ہمارے حکمرانوں کو عقل دے۔‘ کُچھ لوگوں نے دھیمی آواز میں آمین کہا، جیسے انھیں خود بھی اپنی دُعا کی قبولیت پر یقین نہ ہو۔

میرے جیسے سب نیم پڑھے لکھے لوگ ایک دوسرے کو بتاتے آئے ہیں کہ ایک الیکشن، پورا نہیں تو نیم شفاف الیکشن ہی اس مُلک کے مسائل کا حل ہے۔ حل نہیں بھی ہے تو اُس کی طرف اُٹھایا جانے والا پہلا قدم ہے۔ اگر کُچھ بھی نہیں ہے تو عوام کے دلوں میں پھیلی تلخیوں کا مداوا کرے گا۔

بجلی، گیس، آٹے، دال کے مسائل حل نہیں ہوں گے لیکن عوام کو تھوڑی تسلّی ہوگی کہ انھوں نے اپنا غصّہ نکال لیا ہے، یا اگر کسی اُمیدوار پر دل آیا ہوا تھا تو اُسے اپنا ووٹ دے کر اپنی تمنا پوری کر لی ہے۔ خدا خدا کر کے انتخاب ہو گیا۔ جو نتیجہ آیا، اُس نے زخموں پر مرہم کا کام کرنے کی بجائے نمک چھڑکا ہے۔ جیت کا دعویٰ کرنے والے بھی غضب ناک بنے اور ہارنے والے بھی سڑکوں پر۔

کسی زمانے میں کہا جاتا تھا کہ جنگ اتنا آسان کام نہیں ہے کہ اسے صرف فوجی جنرلوں پر چھوڑ دیا جائے۔ پاکستان میں یہ ریت چلی کہ انتخابات اتنا سادہ کام نہیں ہے کہ اسے سیاستدانوں پر چھوڑ دیا جائے۔ بتایا جاتا تھا کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو مضبوط حکومت پسند نہیں ہے، اس لیے اُسے ہنگ پارلیمنٹ کا فارمولا زیادہ پسند ہے جسے تاش کے پتوں کی طرح پھینٹا جا سکے۔۔ لیکن ان انتخابات کے نتیجے میں جو پارلیمنٹ بنی ہے، وہ مسائل کے حل کی بجائے ایک ایسا پھندہ لگ رہی ہے جو کسی کے گلے میں فٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دُعا کا وقت کبھی ختم نہیں ہوتا لیکن اب یوں لگ رہا ہے کہ ابابیلوں کا انتظار ختم ہوا چاہتا ہے اور ہمیں اپنی کنکریاں خود ہی اُٹھانی ہوں گی۔

بشکریہ بی بی سی اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

a parent has to say that it's ok for you to have this itembird in the nestchicks waiting for the parents to feed themdating advice for mendating advice for womengoogle play waiting for an answergoogle playstore waiting for an answer problem solvedhungry chicks waiting for the parents to feed in the nestParentsstrict parentsstrictest parents in the worldthe doctor waiting for the parents to stop cryingWaitingwaiting in the wingswaiting room
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Aromatherapy-and-modern-research-
Previous

خوشبو کے ذریعے علاج کا طریقہ اروماتھراپی اور جدید تحقیق

The-results-of-the-election-will-have-to-bear-the-consequences-of-the-lands-of-Malir-
Next

الیکشن کے نتائج کا نتیجہ ملیر کی زمینوں کو بھگتنا پڑے گا۔۔

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme