Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںسائنس و ٹیکنالوجی

اب روبوٹ بھی لطیفوں پر ہنسیں گے۔۔

By Akhtar Rasool
ستمبر 16, 2022 2 Min Read
0

ایک روبوٹ کی انسان کے ساتھ مشابہت کو مزید بڑھانے کے لیے لطیفوں پر ہنسنا سِکھایا گیا ہے

جاپان کی کیوٹو یونیورسٹی کے محققین روبوٹس کو متناسب ہنسی، قہقہوں اور زور زور سے ہنسنے کے بارے میں تربیت دینے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہے ہیں

فرنٹیئر اِن روبوٹکس اینڈ اے آئی نامی جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں محققین نے بتایا کہ وہ ایرِیکا نامی ایک روبوٹ کے ساتھ اس امید پر کام کر رہے ہیں کہ روبوٹ کے ساتھ گفتگو کو مزید قدرتی بنایا جا سکے

کیوٹو یونیورسٹی میں شعبہ انٹیلیجنس سائنس اور ٹیکنالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر اور جریدے میں لکھنے والے ڈاکٹر کوجی انوئی کا کہنا ہے ”ہم سمجھتے ہیں کہ بات چیت کی مصنوعی ذہانت میں سب سے اہم ہمدردانہ رویہ ہے۔“

انہوں نے کہا ”بات چیت کی یقیناً کئی جہتیں ہیں۔ یہ محض صحیح طریقے سے جواب دینا نہیں۔ لہٰذا ہم نے فیصلہ کیا کہ ایک روبوٹ صرف انسان کو ٹھیک ٹھیک جواب نہ دے بلکہ اس کے لب و لہجے میں نرمی ہونی چاہیے، تاثر ہونا چاہیے۔ وہ ہنسی بانٹے، جو آپ ٹیکسٹ پر مبنی چیٹ بوٹ کے ساتھ نہیں کر سکتے“

محققین نے ’مشترکہ ہنسی‘ (شیئرڈ لافٹر) ماڈل پر کام کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کی مدد سے پہلے انسانی ہنسی کا پتہ چلایا اور پھر روبوٹ کو فیصلہ کرنا سکھایا کہ اسے ہنسنا بھی ہے یا نہیں اور اگر ہنسنا ہے تو اس کی نوعیت کیسی ہوگی

انہوں نے حقیقی لوگوں اور ایریکا کے درمیان دو سے تین منٹ کے چار مختصر مکالمے سسٹم کو جانچنے کے لیے استعمال کیے، جس کے اچھے تنائج ملے

تاہم ماہرین کے مطابق قدرتی ہنسی کے صحیح حالات پیدا کرنے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے

ڈاکٹر انوئی نے کہا ”روبوٹس کا اصل میں ایک الگ کردار ہونا چاہیے اور ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے گفتگو کے رویے، جیسے کہ ہنسنے، نظروں سے دیکھنے، اشاروں اور بولنے کے انداز سے یہ ظاہر کر سکتے ہیں“

ان کا کہنا تھا ”ہمیں نہیں لگتا کہ یہ کوئی آسان مسئلہ ہے، اور اس میں دس سے بیس سال سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے، جب تک کہ ہم آخرکار روبوٹ کے ساتھ آرام سے بات چیت کر سکیں، جیسا کہ ہم کسی دوست کے ساتھ کرتے ہیں“

Tags:

Robot TechnologyTECHNOLOGY
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

فوجی سیمنٹ فیکٹری: کیا محکمہ ماحولیات کی شرائط پر عمل ہوگا؟

Next

دو انجنوں والی مسٹینگ ’اس سے بہتر گاڑی کبھی کسی نے نہیں چلائی ہوگی‘

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme