Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

اب کے درونِ خانہ تلوار چل رہی ہے

By Akhtar Rasool
نومبر 12, 2023 5 Min Read
0

اسرائیل میں سات اکتوبر کو جو ہو چکا اور اس کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں موجود پچاس لاکھ فلسطینیوں کے ساتھ مسلسل جو ہو رہا ہے، اس کے اثرات اقوامِ متحدہ کے اندر اجلاس در اجلاس، دنیا بھر کے دارالحکومتوں کی سڑکوں پر تاحدِ نگاہ انسانی سروں کی فصل اور حکمرانی کے ایوانوں میں لامتناہی بے نتیجہ ملاقاتوں اور مباحث کی شکل میں تو دیکھنے میں آ رہے ہیں، مگر ضمیر کے کچوکوں سے جنم لینے والی بے چینی امریکی فیصلہ سازوں اور امریکی اداروں کے اندر بھی مسلسل کروٹ لے رہی ہے۔ یہ خاموش پسِ دیوار مزاحمت کن کن صورتوں میں ہو رہی ہے، اس بابت کچھ تاک جھانک کی ضرورت ہے تاکہ آپ کو بھی اندازہ ہو کہ

آپس میں کس بلا کی پیکار چل رہی ہے،
اب کے دورنِ خانہ تلوار چل رہی ہے۔۔
(جاوید صبا)

آٹھ اکتوبر کو غزہ پر اسرائیلی بمباری شروع ہوتے ہی دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں کو ایک انٹرنل میمو بھیجا گیا، جس میں ہدایت کی گئی کہ مقامی میڈیا کے لیے جاری کردہ بیانات میں جنگ بندی، تحمل، بین الاقوامی قوانین جیسے الفاظ و اصطلاحات استعمال نہ کریں، مگر بائیڈن انتظامیہ کی یکطرفہ اندھا دھند اسرائیل نواز پالیسی کے سبب دفترِ خارجہ میں ایک خاموش بغاوت کی کیفیت پیدا ہو گئی۔

دفترِ خارجہ کے لگ بھگ چار سو اہلکاروں نے اسرائیل پالیسی پر اپنے تحفظات کا پسِ دیوار کھل کے اظہار کیا۔چنانچہ دفترِ خارجہ کے ملازمین کو اپنی بھڑاس نکالنے کے لیے خصوصی سیشنز میں بولنے کا موقع دیا گیا، مگر ان سیشنز کے نتیجے میں اسرائیل کی اندھی حمایت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور لفظ ’جنگ بندی‘ کا استعمال حرام قرار پایا۔

دفترِ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار جوش پال نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا اور اس استعفیٰ میں لکھا کہ ”ہم مشرقِ وسطی میں جس راستے پر چل رہے ہیں، اس کے نتیجے میں بطور ثالث ہماری علاقے میں جو تھوڑی بہت عزت تھی، وہ بھی سات اکتوبر کے بعد مٹی میں مل گئی۔ ان حالات میں بوجھل دل اور دماغ کے ساتھ اپنے فرائض نبھانا ناممکن ہو چکا ہے، لہٰذا میں اپنا منصب چھوڑ رہا ہوں۔“

امریکی کانگریس اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ سے بھی زیادہ اسرائیل کی وفادار ہے۔ ایوانِ نمایندگان اور سینیٹ کے ڈیموکریٹ یا ریپبلیکن ارکان بھلے ہر معاملے پر جوتم پیزار ہوں مگر ان کی اکثریت اسرائیل نوازی پر متفق ہے۔

چنانچہ کانگریس کے معاون عملے میں شامل مسلمان اور یہودی اہلکاروں نے اپنے باسز کو ایک مشترکہ خط میں کہا کہ وہ کانگریس کے ایوان میں جنگ بندی کا مطالبہ کریں۔ ان ملازمین نے کیپیٹل ہل کی سیڑھیوں پر اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا بھی دیا۔

امریکی کانگریس ڈھائی سو برس کی تاریخ میں اپنے ہی چھبیس ارکان کے خلاف قرار دادِ مذمت منظور کر چکی ہے۔چھبیسویں رکن رشیدہ طالب ہیں، جنھوں نے دریا سے سمندر تک (دریائے اردن تا بحیرہ روم) فلسطین کی آزادی کے نعرے لگاتے جلوس میں شرکت کی۔

اس کو بنیاد بنا کے ان ہی کے اسرائیل نواز ساتھیوں نے ان کے خلاف ایک سو اٹھاسی کے مقابلے میں دو سو چونتیس ووٹوں سے قرار داد منظور کی۔ اس قرار داد میں کہا گیا کہ رشیدہ دراصل اس نعرے کے ذریعے اسرائیلی ریاست کے خاتمے اور اسرائیلیوں کی نسل کشی کی حمایت کر رہی ہیں۔

رشیدہ طالب نے اپنی جوابی تقریر میں کہا کہ ”فلسطینی انسان ہیں، کوئی کوڑا کرکٹ نہیں۔ میں اس ایوان میں امریکی فلسطینیوں کی واحد منتخب نمایندہ ہوں لہٰذا اگر میرے معزز ساتھی تصویر کا دوسرا رخ دیکھنا چاہتے ہیں تو انھیں میری بات زیادہ دھیان سے سننا چاہیے۔ اسرائیلی حکومت پر تنقید کا مطلب یہود دشمنی ہرگز نہیں۔ میرے ووٹر مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آخر فوری جنگ بندی کیوں ممکن نہیں۔بجائے اس کے کہ مجھے اس سوال کا جواب ملتا، آپ نے میرا ہی منہ بند کرنے کے لیے قرار داد منظور کر لی۔ نا یہ منہ بند ہوگا نہ ہی سچائی کی گونج کم ہوگی۔“

عجیب بات ہے کہ جس کانگریس میں رشیدہ طالب کو دریا تا سمندر فلسطینیوں کی آزادی کے نعرے کی حمایت پر سرزنش کی گئی، اسی کانگریس میں جب ایک رکن میکس ملر نے کہا کہ یہ جنگ بندی کا نہیں بلکہ جنگی اخلاقیات کے تمام بین الاقوامی کنونشنز کو پسِ پشت ڈالنے کا وقت ہے یا پھر سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا کہ غزہ کو مکمل مسمار کر دینا چاہیے۔۔ ایسے ریمارکس پر قراردادِ مذمت تو کجا، کسی رکنِ کانگریس کے ماتھے پر شکن تک نہیں آئی۔

یو ایس ایڈ کا نام کس نے نہیں سنا۔ دنیا بھر میں امریکی امداد سے جتنے بھی عوامی فلاح کے منصوبے مکمل ہوتے ہیں، وہ اسی ادارے کے توسط سے ہوتے ہیں۔ یو ایس ایڈ کے کئی پروجیکٹس مقبوضہ فلسطین میں بھی ہیں۔

یو ایس ایڈ کے اہلکاروں نے اس ماہ کے اوائل میں ایک کھلا خط لکھا، جس پر ایک ہزار سے زائد اہلکار دستخط کر چکے ہیں۔ خط میں امریکی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری جنگِ بندی کے لیے اقدامات کرے۔کیونکہ یو ایس ایڈ جیسے ادارے بھلے فلاح و بہبود کے جتنے بھی منصوبے مکمل کر لیں، اگر وہ جنگ یا بمباری کے سبب برباد ہو جائیں تو پھر ایسے منصوبوں کو روک دینا زیادہ بہتر ہوگا۔

خط میں مطالبہ کیا گیا کہ مزید تباہی سے بچنے کے لیے نہ صرف یرغمالیوں کی فوری رہائی عمل میں آئے بلکہ جنگی کارروائیاں روک دی جائیں۔ غزہ کے لیے منقطع بجلی، خوراک اور ادویات و اسپتال کے آلات کی رسد کو بلا روک ٹوک بحال کیا جائے۔اسرائیل سمیت تمام فریقوں کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر مجبور کیا جائے۔ اس پاسداری میں مقبوضہ علاقوں سے اسرائیل کے غیر قانونی قبضے کا خاتمہ بھی شامل ہے۔

یقین نہیں آتا کہ اس خط میں جو زبان استعمال کی گئی ہے، وہ حکومتِ امریکا کے ایک ادارے کے کارکنوں کی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ خط کسی فلسطینی فلاحی ادارے کے کارکنوں کی تکلیف کا اظہاریہ ہے۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ غزہ کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اور ہونے والا ہے، سوشل میڈیا کے طفیل اس کی گونج اب امریکی اداروں کے اندر تک سرائیت کر چکی ہے۔

فوری طور پر تو اس بے چینی کے سبب ریاستی پالیسی نہیں بدلے گی مگر یہ بات یقینی ہے کہ اب آنکھوں میں دھول جھونکنے کا زمانہ لپٹتا جا رہا ہے اور اس کے کچھ نہ کچھ نتائج اگلے چار پانچ برس میں ضرور دیکھنے کو ملیں گے۔

بشکریہ: ایکسپریس نیوز
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

baat se baat | wusatullah khan fansbaat se baat wusatullah khanlatest column of wusatullah khanwasatullah khanwasatullah khan |talk |ayaz melo 2018wusatullahwusatullah bbcwusatullah dawnwusatullah khanwusatullah khan about talib johriwusatullah khan baat se baatwusatullah khan baat se baat latestwusatullah khan bbcwusatullah khan biographywusatullah khan educationwusatullah khan fanswusatullah khan latestwusatullah khan urdu column
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط67)

Next

نکسیر پھوٹنا: ناک سے خون آنا صحت کے لیے کب خطرناک ہو سکتا ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme