Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

اسکالرشپ نہیں ملی؟ ہمت نہ ہاریئے

By Akhtar Rasool
نومبر 8, 2023 4 Min Read
0

ہر سال بہت بڑی تعداد میں طالب علم اسکالرشپس کےلیے اپلائی کرتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو اسکالرشپ مل جاتی ہے اور اکثریت کو نہیں ملتی۔ اس بار بھی بہت سے نتائج آ گئے ہیں اور میرے اردگرد بہت سارے دوست پریشان ہیں۔ یہ تحریر ان سب کے نام ہے۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جتنے لوگ بھی اپلائی کرتے ہیں، سب کو اسکالرشپ نہیں مل سکتی۔ کچھ ہی لوگوں کو ملے گی۔ یہ ایسے ہی ہے کہ آپ دوڑ لگاتے ہیں تو جیتتا کوئی ایک ہی ہے لیکن پھر بھی بارہ پندرہ لوگ دوڑ لگاتے ہیں۔ اس ڈر سے رک نہیں جاتے کہ ہم ہار جائیں گے۔ اور جو ایک مرتبہ نہیں جیت پاتے، وہ اگلی مرتبہ اپنی خامیوں کو دور کرکے دوبارہ دوڑ لگاتے ہیں اور کئی مرتبہ ہوا کہ پھر وہ جیت بھی گئے، اس لیے آپ کا عزم آپ کا حوصلہ ٹوٹنے نہ پائے کہ اسکالرشپ نہیں ملی۔ بس اس بار نہیں ملی، کیا معلوم اگلی باری آپ کی ہو۔ لہٰذا محنت اور کوشش جاری رکھیے۔

ہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ کیوں نہیں ہوئی؟ کہاں پر کمی رہ گئی تھی؟ اس کے لیے لازمی ہے کہ جس اسکالرشپ کےلیے اپلائی کریں، پہلے لازمی اس اسکالرشپ کے پرانے ونرز سے بات کریں۔ اسکالرشپس کی گائیڈ لائنز پڑھیں، اور پھر جو بھی ضروری باتیں ہیں، ان کے مطابق اپنی درخواست دوبارہ سے ترتیب دیں۔ بغیر سوچے سمجھے مناسب منصوبہ بندی کے بغیر ایسے اپلائی کیے جانا بھی مناسب نہیں ہے۔ مثال کے طور پر چین میں جو سائنس کے طالب علم اچھی یونیورسٹیز میں اپلائی کرتے ہیں، وہاں ریسرچ پیپرز کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کے پاس نہیں ہیں تو متبادل میں آپ نے کیا تیاری کی ہے؟ کہیں اگر IELTS چاہیے تو صرف پاسنگ بینڈز ہیں آپ کے یا بہت اچھے بینڈز ہیں؟
آپ نے ساری تیاری بہت اچھی کی ہے، پھر بھی ممکن ہے کہ رہ جائیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ قابلیت میں کوئی کمی تھی۔ ہو سکتا ہے یونیورسٹی والوں نے محض diversity کے لیے آپ کو چھوڑ دیا ہو۔ لہٰذا خود پر بھروسہ ہر گز نہ ختم ہونے دیجئے۔ یقین کیجیے کہ ساری دنیا آپ کو ہرانا چاہے تو بھی آپ نہیں ہار سکتے لیکن جس دن آپ خود سے ہار گئے، اور آپ نے خود ہی یہ سوچ لیا کہ آپ ایک ناکام انسان ہیں تو ساری دنیا کے انسان مل کر بھی آپ کو کامیاب نہیں کر سکتے۔ اور جب آپ خود سے ہار جائیں گے تو کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ لہٰذا اپنی ہمت و حوصلہ جمع رکھیے اور دوبارہ سے پھر کوشش کیجئے۔

ایک اور بات یہ کہ سوشل میڈیا کی کہانیوں پر زیادہ یقین نہ کیا کیجئے۔ یہاں لوگ صرف اپنی جیت کی خوشیاں مناتے ہیں لیکن یہ ہرگز نہیں بتاتے کہ وہ کتنی مرتبہ ناکام بھی ہوئے ہیں۔ بہت ہی کم خوش نصیب ہوں گے، جن کا پہلی مرتبہ ہی داخلہ ہو جائے۔ 90 فیصد سے زیادہ لوگوں کو ایک مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ مسترد کیا جاچکا ہوتا ہے، پھر کہیں جا کر داخلہ ہوتا ہے۔ میرا ایک دوست بی ایس میں گولڈ میڈلسٹ ہے، برطانیہ سے اس نے امتیازی پوزیشن کے ساتھ ایم ایس کیا (ایسی یونیورسٹی سے جو ٹاپ 50 میں ہے) اس کے باوجود پچھلے دنوں وہ بتا رہا تھا کہ تقریباً 10 جگہ سے ریجکٹ ہو چکا ہے۔ اس کا پروفائل بہترین ہے۔ ایک جاننے والی طالب علم جو 2 بچوں کی ماں بھی ہیں اور خود ہی کما بھی رہی ہیں، تین سال سے کوششیں کر رہی تھیں اور سچی بات یہ ہے کہ وہ اتنے برے حالات میں کوشش کر رہی تھیں کہ میرے پاس تو انہیں حوصلہ دینے کے الفاظ نہیں ہوتے تھے۔ ان کا انتخاب اس مرتبہ ہوا۔

بتانا یہ تھا کہ ہم سارے لوگ ہی گرتے پڑتے یہاں تک آئے ہیں اور اگر آپ کو بھی کوئی ٹھوکر لگ گئی ہے تو پریشان نہیں ہونا۔ بس اٹھیے اور پہلے سے بہتر تیاری سے پھر کوشش کیجئے۔

بہت سے لوگ تو بس اس فکر میں ہوتے ہیں کہ کہیں gap نہ آ جائے۔ گیپ آ بھی گیا تو کیا ہوگا؟ میرے ایف ایس سی سے بی ایس میں داخل ہونے میں ایک سال کا گیپ ہے، اسی طرح بی ایس کے بعد ایم ایس میں داخل ہونے میں ایک سال کا گیپ ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑا بلکہ الٹا مجھے فائدہ ہی ہوا۔ گیپ کئی مرتبہ تو جان بوجھ کر لے لینا چاہیے، تاکہ آپ ایک سال میں اپنا پروفائل زیادہ بہتر بنا سکیں۔ جو کچھ کمیاں رہ گئی تھیں انہیں دور کر سکیں۔ کسی جگہ کوئی سافٹ ویئر استعمال ہوتے ہیں، وہ سیکھیے۔ انگلش صحیح نہیں ہے، اسے بہتر بنائیے۔ کسی مضمون کی تیار میں مشکل ہے تو آن لائن کورسز کیجئے۔

اپنے لیے ایک سے زیادہ آپشن رکھیے، کم از کم تین تو ہونے چاہئیں۔ شاید ایک جگہ نہ ہوا تو دوسری جگہ ہوجائے۔ اگر گنجائش ہو تو پاکستان میں بھی کسی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیجئے تاکہ آپ کو وقت ضائع کرنے کا زیادہ خوف نہ ہو۔ اسی طرح اگر مالی مسائل ہیں تو کہیں چھوٹی موٹی نوکری کر لیجئے، جس سے تھوڑا بہت خرچہ نکلتا رہے اور گھر والے باتیں نہ سنائیں۔

خیر ساری کہانی کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ جنگ آپ کی ہے اور آپ نے ہی لڑنی ہے، لہٰذا خود پر بھروسہ رکھیے۔ خود سے نہ ہاریں۔ بار بار کوشش کیجئے، لوگوں کی باتوں پر کان نہ دھریں اور اپنے آپ کو مسلسل بہتر بنانے کی کوشش میں لگے رہیں۔ آج کا دن آپ کے لیے اگر برا ہے تو شاید کل کا دن اچھا ہو۔ بس اتنا سا انتظار کرنا ہے۔

بشکریہ: ایکسپریس نیوز
کامران امین کا تعلق باغ آزاد کشمیر سے ہے اور چین سے میٹیریلز سائنسز میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد بیجنگ میں نیشنل سینٹر فار نینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، چائنیز اکیڈمی آ ف سائنسز سے بطور اسپیشل ریسرچ ایسوسی ایٹ وابستہ ہیں۔ چین میں تعلیمی زندگی اور تعلیم سے متعلقہ موضوعات پر لکھنے سے دلچسپی ہے۔ ان سے فیس بک آئی ڈی kamin.93اور ٹوئٹر ہینڈل @kamraniat پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

Tags:

chevening scholarshipcollege scholarshipscommonwealth scholarshipshow to apply scholarship in italyhow to get a college football scholarshiphow to get a scholarshipif you did not get scholarshiplose scholarshiplost scholarshiplse scholarshipsmasters scholarshipsScholarshipscholarship in italyscholarship offerscholarship opportunityscholarship pulledScholarshipsstudy in italy scholarshipstips scholarshipvisby scholarship
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

وسعت اللہ خان کا تفصیلی انٹرویو۔ (قسط2)

Next

پولو کا کھیل، بھیڑ کا سر اور وزیر حسن کریم پا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme