Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںسائنس و ٹیکنالوجی

الارم سنوز کرنا دماغ کے لیے اچھا بھی ہو سکتا ہے: سائنسی تحقیق

By Akhtar Rasool
اکتوبر 28, 2023 3 Min Read
0

نئی تحقیق کے مطابق کبھی کبھار کلاک پر الارم کو خاموش کرنے کا بٹن دبانے سے دماغ کو گہری نیند سے بیدار ہونے کے عمل میں مدد مل سکتی ہے

بعض اوقات لوگ گھڑیوں اور سیل فون میں ’سنوز بٹن‘ کا استعمال کرتے ہوئے صبح الارم بجنے کے بعد بھی دوبارہ سونا چاہتے ہیں

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں کئی دہائیوں کی تحقیق کے بعد بتایا گیا کہ سنوز کا بٹن دبانے سے نیند اور دماغ کی جاگنے کی صلاحیت دونوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، لیکن اب تک اس کا کوئی براہِ راست ثبوت سامنے نہیں آیا

جریدے جرنل آف سلیپ ریسرچ میں شائع ہونے والی نئی تحقیق میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ الارم بند کرنا کتنا عام ہے اور اس رویے کے نیند، غنودگی، موڈ اور دماغ کی سوچنے کی صلاحیتوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

محققین کو معلوم ہوا کہ وہ لوگ جو صبح کے وقت الارم سنوز کا بٹن دباتے ہیں، ان کی نیند قدرے کم ہوتی ہے اور وہ جاگنے پر ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ غنودگی محسوس کرتے ہیں، جو بجتے ہوئے الارم کو کبھی بند نہیں کرتے

لیکن محققین نے یہ بھی دیکھا کہ رات بھر تناؤ کا سبب بننے والے ہارمون کورٹیسول کے اخراج، موڈ یا نیند کے معیار پر الارم بند کرنے کے کوئی منفی اثرات نہیں تھے

اس مطالعے میں 1732 افراد نے اپنی صبح کی عادات کے بارے میں سوالات کے جوابات دیے۔ ان سوالات میں یہ بھی شامل تھا کہ انہوں نے کتنی بار سنوز بٹن دبایا؟ خاص طور پر نوجوان بالغوں نے بتایا کہ وہ الارم بند کروانے کی یہ سہولت باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں

سروے میں شریک افراد کے مطابق الارم بند کرنے کی سب سے عام وجہ اس کے بجنے پر بستر سے نکلتے وقت بہت زیادہ تھکاوٹ محسوس کرنا ہے

ایک اور چھوٹے ذیلی تجربے میں الارم باقاعدگی سے بند کرنے والے اکتیس افراد نے نیند کی لیبارٹری میں دو راتیں گزاریں تاکہ ان کی نیند کا زیادہ تفصیلی جائزہ لیا جا سکے

ایک صبح انہیں تیس منٹ تک الارم بند رکھنے اجازت دی گئی اور دوسری صبح انہیں الارم بجنے پر فوراً اٹھنا پڑا

اگرچہ پہلے صورت میں سروے میں شامل افراد کی نیند میں الارم آدھے گھنٹے تک بند رکھنے کے دوران خلل پڑا تاہم ان میں سے زیادہ تر پھر بھی بیس منٹ سے زیادہ دیر تک سو پائے، جس کا مطلب ہے کہ ان کی رات کی تمام نیند زیادہ متاثر نہیں ہوئی

الارم بند کرنے کی صورت میں کسی کو گہری نیند سے اچانک نہیں جاگنا پڑا اور الارم بند کرنے والوں نے جاگنے کے فوری بعد تھوڑی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا

موڈ، نیند، یا تھوک میں کورٹیسول کی مقدار پر بھی الارم بند کرنے کے کوئی واضح اثرات نہیں تھے

نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ آدھے گھنٹے کے لیے الارم بند کروانے سے رات کی نیند پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں اور اس کے کچھ مثبت اثرات ہوں جیسے گہری نیند سے جاگنے کے امکان میں کمی

تاہم محققین نے متنبہ کیا کہ دوسرا تجربہ چھوٹا تھا اور اس میں صرف ان لوگوں کو شامل کیا گیا تھا جو باقاعدگی سے الارم بند کرتے ہیں اور وہ ہر بار الارم بجنے کے بعد آرام سے دوباہ سو جاتے ہیں۔ محققین کے مطابق بہت زیادہ ممکن ہے کہ الارم بند کرنا ہر کسی کے لیے نہیں ہے

امریکہ کی یونیورسٹی آف کنیکٹیکٹ سے تعلق رکھنے والی جینیفر کنعان جن کا اس تحقیق سے تعلق نہیں اور ان کی مہارت نیند پر کام کرنے کے حوالے سے ہے، کا کہنا ہے کہ تازہ ترین نتائج کو احتیاط کے ساتھ بیان کرنا چاہیے کیوں کہ اس سے لوگوں کو غلط پیغام جا سکتا ہے

ڈاکٹر کنعان کا ایک بیان میں کہنا تھا ”اگر آپ پہلی بار الارم بجنے کے بعد تیس منٹ تک سوتے جاگتے رہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ایسا تیس منٹ کی مسلسل، معیاری اور تازہ دم کر دینے والی نیند کی قیمت پر کر رہے ہیں“

ان کے مطابق، بجائے یہ کہ الارم والی گھڑیوں کو مرضی کے مطابق استعمال کرنے کا طریقہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے، لوگوں کو رات کی اچھی نیند کو زیادہ ترجیح دینی چاہیے اور سنوز بٹن پر کم انحصار کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر کنعان کہتی ہیں ”سادہ لفظوں میں کہا جائے تو سنوز کا بٹن دبانے کی بجائے انہیں زیادہ نیند لینی چاہیے۔“

Tags:

brainhow to stop hitting the snooze buttonhow to wake up in the morningMedical Researchnever hit the snooze buttonsnoozingstop feeling tired in the morningthe huberman lab podcastthe secret to a good night's sleepthe secret to better sleepthe social dilemmathe truth about sleep documentarythings you should never do in the morningtired in the morningwhat are the benefits of a power napyour sleeping position says all the truth about you
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

شام سے پہلے

Next

لکھنے کی عادت کے انسانی صحت پر مثبت اثرات کے بارے میں ماہرین کیا کہتے ہیں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme