Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

امتحان میں کامیابی کے لیے 33 فیصد نمبر کہاں سے آئے؟

By Akhtar Rasool
نومبر 15, 2023 4 Min Read
0

پاکستان میں تعلیمی بورڈز کے درمیان ہم آہنگی کے ذریعے تعلیمی، امتحانی اور طلبہ کی استعداد جانچنے کے طریقہ کار کے معیار کو بہتر بنانے کی غرض سے 1972 میں قائم کیے گئے انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی) نے طلبہ کے لیے کسی ایک مضمون کے پرچے یا پورے امتحان میں کامیاب (یا پاس) ہونے کے لیے کم از کم 40 فیصد نمبر حاصل کرنا ضروری قرار دیا ہے

آئی بی سی سی کے سربراہ ڈاکٹر غلام علی نے بتایا کہ نئے فیصلے کا اطلاق سال رواں کے دوران ہونے والے نویں اور 11ویں جماعت کے امتحانی نتائج، جن کا اعلان 2024 میں ہو گا، پر لاگو ہو گا، جبکہ آئندہ برس سے 10ویں اور 12ویں کے امتحانات میں بھی اسی فارمولے پر عمل ہوگا

پاکستان میں رائج نظام کے تحت سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری امتحانات میں مجموعی طور پر یا انفرادی مضمون میں کامیابی کا کم از کم معیار 33 فیصد نمبروں کا حصول ہے

سوال اٹھتا ہے کہ پاکستان میں کسی امتحان میں کامیابی کے لیے 33 فیصد نمبروں کا حصول کب، کیسے اور کیوں نافذ کیا گیا؟

33 فیصد نمبروں کی حقیقت جاننے کے لیے پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے قبل کے زمانے میں جانا پڑے گا

مشترکہ ہندوستان میں 1857 میں ہونے والی ناکام جنگ آزادی یا غدر (Mutiny) کے بعد اس ایشیائی ملک پر سات سمندر پار سے آئے ہوئے انگریز کا باقائدہ تسلط قائم ہو گیا تھا

انگریز سرکار کی زیرِ نگرانی اگلے ہی برس یعنی 1858 میں ہندوستان میں 10ویں جماعت کے امتحانات کا انعقاد کیا گیا، جس سے قبل متعلقہ اہلکار طلبہ کے پاس ہونے کے معیار سے متعلق مخمصے کا شکار تھے۔ اس الجھن کو دور کرنے کی غرض سے انگریز سرکار نے تاجِ برطانیہ سے مشورہ مانگا۔

اس وقت برطانیہ میں امتحانات میں کامیابی کے لیے کم از 65 فیصد نمبر حاصل کرنا ضروری ہوا کرتا تھا۔

برطانوی لارڈز کا خیال تھا کہ ہندوستان میں بسنے والے انسان برطانیہ کے لوگوں سے ذہانت کے لحاظ سے نصف صلاحیتوں کے حامل تھے اور اسی منطق کے تحت انہوں نے اپنی اس ایشیائی کالونی میں امتحانات میں کامیابی کے لیے اپنے ملک سے نصف نمبر رکھنے کا فیصلہ کیا

اس طرح انگریز سرکار نے ہندوستان میں کسی امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے طلبہ کے لیے کم از کم 32.5 فیصد (65 فیصد کے نصف) نمبر حاصل کرنا ضروری قرار دیا۔

بعد ازاں امتحانی پرچوں میں نمبروں کا حساب لگانے میں آسانی کی غرض سے انگریز سرکار نے 1861 میں 32.5 کو (راؤنڈ اپ کرتے ہوئے) 33 کر دیا۔

امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے یہی وہ کم از کم 33 فیصد نمبر ہیں، جو مشترکہ ہندوستان کی تقسیم اور انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی پاکستان میں اب تک رائج ہیں اور جسے آئی بی سی سی نے بڑھا کر 40 فیصد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں امتحانات میں کامیابی کے لیے کم از کم نمبر سب سے کم ہیں۔

امتحانات کی اہمیت کی بات کی جائے تو امتحانات کو طلبہ کی استعداد اور قابلیت کے تعین کا بہترین طریقہ سمجھا جاتا ہے

تاہم یہ ایک متنازع طریقہ بھی ہے، جسے بعض اساتذہ اور مبصرین گہرے اور کثیر جہتی علم کے بجائے محض یادداشت کو جانچنے کا طریقہ سمجھتے ہیں، جبکہ کچھ دوسروں کے خیال میں امتحانات کی اہمیت خود ان میں پوچھے گئے سوالات کے معیار اور انتخاب پر ہوتی ہے، جن میں یادداشت جانچنے کے علاوہ طلبہ کی مہارتوں اور سمجھ بوجھ کی جانچ بھی ہونا چاہیے۔

پاکستان میں 80 کی دہائی میں خصوصاً نویں اور 10ویں کلاسوں کے طلبہ کے لیے گائیڈز اور ٹیسٹ پیپرز کو عام کیا گیا، جن میں سوالات کے بنے بنائے اور تیار جوابات موجود ہوتے، جنہیں اسٹوڈنٹس صرف یاد کر لیتے ہیں

رٹے کے ذریعے امتحانات میں نمبر حاصل کرنے کے طریقے کے عام ہونے کے بعد سے پاکستانی طلبہ میں تصورات کو سمجھنے کی عادت ختم ہو کر رہ گئی ہے اور اب محض نمبر حاصل کرنے پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔

جدید دنیا میں بچوں سے تحریری امتحانات کے بجائے دوسرے طریقوں سے ان کی استعداد اور مہارت کو جانچا جاتا ہے۔

پاکستان میں مجموعی طور پر 32 تعلیمی بورڈز ہیں، جن میں اسلام آباد میں ایک، پنجاب میں نو، سندھ میں چھ، خیبرپختونخوا میں آٹھ، بلوچستان میں تین اور آزاد جموں و کشمیر میں ایک بورڈ ہے۔

کراچی میں آغا خان تعلیمی بورڈ (جو آغا خان یونیورسٹی کراچی کے تحت کے ایک نجی بورڈ ہے) کے علاوہ باقی تمام تعلیمی بورڈ حکومتِ پاکستان کی ملکیت ہیں۔ یہ ایک نجی بورڈ ہے۔

ان کے علاوہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں ایک ایک فنی تعلیمی بورڈز بھی موجود ہیں۔

بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

concept of examinationconcept of examsexamination systemhistory of spine examinationinvention of examperson who invented examsthe concept of examwho first invented examswho invented examwho invented examswho invented exams firstwho invented exams first timewho invented school examswho invented the concept of examswho invented the exam systemwho invented the examswho is invented examswho is the inventor of exam
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

امتحانات کا تصور کس نے ایجاد کیا؟ امتحانی نظام کی ایک مختصر تاریخ

Next

فاطمہ برناوی کی کہانی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme