Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

انسانوں کی جنریشن ایکس

By Akhtar Rasool
فروری 9, 2022 3 Min Read
0

آپ نے ٹیکنالوجی کی چیزوں مثلاً لیپ ٹاپ موبائل وغیرہ میں جنریشن کا لفظ استعمال ہوتے دیکھا ہوگا۔ جیسے آئی تھری فورتھ جنریشن۔ آئی سیون نائن جنریشن وغیرہ۔ بالکل اسی طرح انسانوں کی تقسیم بھی مختلف جنریشن میں کی جاتی ہے۔ چنانچہ جو لوگ انیس سو اکسٹھ (1961) سے انیس سو اکیاسی (1981) کے درمیان پیدا ہوئے ہیں، انہیں جنریشن ایکس کہا جاتا ہے.

کہتے ہیں کہ دنیا میں سب سے بڑی اور سب سے زیادہ تبدیلیاں جنریشن ایکس نے ہی دیکھی ہیں، کیونکہ جنریشن ایکس کے دور میں زمانہ اتنا زیادہ اور اتنی تیزی سے بدلا ہے کہ پچھلے زمانے کا کوئی انسان آج آجائے تو چکرا کر رہ جائے گا

جنریش ایکس اس انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلی اور سائنس کی ترقی کے عین موقع پر پیدا ہونے والے لوگوں کو کہا جاتا ہے، جنہوں نے ان چیزوں کو بھی دیکھا جو صدیوں سے انسانوں کے زیر استعمال تھیں اور ان کو بھی دیکھا جو اچانک سے ایجاد ہوئیں اور چھا گئیں

مہمان کے آنے پر مرغی کو بھگا بھگا کر پکڑنے سے لے کر فارمی مرغی کے پھٹے پر ٹھک ٹھکا ٹھک تک… سارا دور اس جنریشن نے دیکھا

پردہ سکرین سے لے کر ہولوگرام اور وی آر ٹیکنالوجی تک.. ٹانگے سے لے کر میٹرو ٹرین تک.. تجوریوں سے لے کر ماسٹر کارڈ تک.. تار مارنے، فیکس کرنے سے لے کر ای-میل، ایس ایم ایس اور وٹس اپ تک.. پرانے ریکارڈر سے یو ایس بی سٹک تک.. بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی سے لے کر اسمارٹ ایل سی ڈی تک.. ڈائل گھمانے والے فون سے لے کر ٹچ اسکرین اور وائس ڈائل سمارٹ فونز تک.. پتنگ اڑانے سے ڈرون اڑانے تک.. صدیق دی ہٹی سے لے کر ایمازون اور دراز پی کے تک.. پیتل کی تار سے لے کر وائی فائی تک.. چور پکڑنے والے کتوں سے لے کر سی سی ٹی وی کیمروں تک.. عشاء کے بعد دادی جان کی کہانیوں سے لے کر فیسبک اور سوشل میڈیا میں گم ہونے تک.. ڈسپرین کے فضائل سے لے کر ڈسپرین کے نقصاندہ قرار دیے جانے تک.. سڑک کنارے لگے مداری کے تماشے دیکھنے سے لے کر سوشل میڈیا کی لائیو اسٹریم تک.. سپیرے کی پٹاری میں چھپے عجیب سانپ کو دیکھنے کی جستجو سے لے کر یوٹیوب پر جدید چیزوں کی اَن باکسنگ دیکھنے تک… دلہن کی ڈولی سے لے کر پھولوں سے سجی لیموزین کار تک.. شکر، دیسی گھی ملے سفید چاولوں کے ولیمے سے لے کر میرج ہال کی بے شمار ڈشوں تک.. کلینڈر سے لے کر ٹکٹنگ آفیسر تک.. پھیری والے بابوں سے لے کر ایم بی اے کیے ہوئے مارکیٹنگ کے بابوؤں تک.. ہاتھ والے پنکھوں سے لے کر سولر اے سی تک.. لالٹین اور دیے جلانے سے ایل ای ڈی تک.. جندر سے لے کر فلور مل تک… سحری و افطاری کے وقت ڈاکٹر اسرار احمد کے دروس قرآن سے لے عامر لیاقت کی فنکاریوں تک.. صدرِ پاکستان ایوب خان کے امریکا میں تاریخی استقبال سے لے کر وزرائے اعظم کے جوتے اتارنے تک… علاقے کی پنچائیتوں اور جرگوں سے لے کر سپریم کورٹ کے از خود نوٹس تک.. سدھائے ہوئے کتے اور بندروں سے لے کر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی ٹیکنالوجی) تک… اپنے سینوں میں عروج و زوال، تغیر و تبدیلی کی ہزاروں داستانیں چھپائے ہوئے ہیں

انسانوں کی یہ جنریشن بڑی قیمتی ہے، کبھی جنریشن ایکس سے تعلق رکھنے والے کسی انسان کے پاس بیٹھ کر ماضی کی یادیں، حالات کی تبدیلیاں اور وقت کے تغیرات کریدنا شروع کریں، مجھے یقین ہے کہ آپ کو بہت کچھ سننے کو ملے گا۔ بعض ممالک میں ان کے پاسپورٹ پہ بھی باقاعدہ ایکس جنریشن درج ہوتا ہے

جنریشن ایکس 1961 سے 1981 کے دوران پیدا ہونے والوں کو، جبکہ جنریشن وائی 1982 سے 1995 تک پیدا ہونے والوں کو۔ اور جنریشن زیڈ 1995 سے 2012 کے دوران پیدا ہونے والوں کو کہا جاتا ہے

جنریشن ایکس چونکہ پچھلے اور اگلے یعنی پرانے اور جدید دور اور ان کی چیزوں کو دیکھ چکی ہے، اس لیے اگلے پندرہ بیس سال بعد جب دنیا مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گی، اور یہ جنریشن دادا ابو اور دادی جان کی سیٹ پر بیٹھ جائے گی، تب پوتے پوتیاں اور نئی نسل کے نوجوان ان کی پرانی اور اپنے بچپن کے زمانے کے حالات، کہانیوں اور روز مرہ کی زندگی کی چیزوں کے بارے سن کر حیرت زدہ بھی ہوں گے اور شاید انہیں یقین بھی نہ آئے.

حوالہ : نُکتہ

Tags:

Gen XGeneration X
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ذہین افراد کی چودہ نشانیاں

Next

گرگٹ (مشہور روسی افسانہ نگار انتون چیخوف کی کہانی سے ماخوذ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme